کراچی میں بجلی بحران کا خدشہ

بندرگاہ اورصنعتوں کےسبب65فیصدریونیودینےوالا یہ شہرکاروبارزندگی کورواں دواں رکھنےکےلیےبجلی کی مستقل فراہمی کا محتاج ہے۔

مسئلے کے راست حل کے بجائے فریقین کا ایک دوسرے پر الزام تراشی اور ہدف تنقید بنانے کی روش کسی طور صحت مند قرار نہیں دی جاسکتی۔ فوٹو: فائل

پانی کی عدم فراہمی، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ سے ستائے منی پاکستان کے شہریوں کے لیے یہ خبر کسی تازیانے سے کم نہیں کہ شہر میں بجلی کے بحران کا شدید خدشہ منڈلا رہا ہے۔ عروس البلاد جو نہ صرف روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے بلکہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، بندرگاہ اور صنعتوں کے سبب 65 فیصد ریونیو دینے والا یہ شہر کاروبار زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لیے بجلی کی مستقل فراہمی کا محتاج ہے، جس کی گزشتہ کچھ برسوں سے لوڈشیڈنگ نے صنعتوں اور کاروباری زندگی کو درہم برہم کر رکھا ہے۔


اگر خدشہ کے مطابق بجلی بحران بڑھ جاتا ہے تو نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتوں کو بھی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس خدشے کا محرک کے الیکٹرک اور وزارت پانی و بجلی کے مابین 650 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کا تنازعہ ہے جو شدت اختیار کرگیا ہے، 5 سالہ معاہدے کی مدت رواں ماہ ختم ہوجائے گی۔ وزارت پانی و بجلی معاہدے کے مطابق بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہ کرنے کا الزام عائد کرکے نیشنل گرڈ سے فراہم ہونے والی بجلی میں 50 فیصد سے زیادہ کٹوتی کرنے کا عندیہ دے چکی ہے جب کہ کے الیکٹرک ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر معاہدے کی پابندی نہ کرنے کا الزام لگارہی ہے، فریقین تاحال نئے معاہدے کے لیے بات چیت پر بھی رضامند نہیں ہوئے ہیں۔ این ٹی ڈی سی سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کی صورت میں کے الیکٹرک کے پاس کوئی متبادل انتظام بھی موجود نہیں ہے۔

مذکورہ تشویشناک صورت حال میں بجلی کی کمی کا خمیازہ بھی عوام کو ہی بھگتنا ہوگا جو پہلے ہی غیر اعلانیہ طویل تر لوڈشیڈنگ اور غلط و اوور بلنگ کا ظلم سہنے پر مجبور ہیں ۔ مسئلے کے راست حل کے بجائے فریقین کا ایک دوسرے پر الزام تراشی اور ہدف تنقید بنانے کی روش کسی طور صحت مند قرار نہیں دی جاسکتی۔ وزیراعلی سندھ، گورنر سندھ اور ایف پی سی سی آئی کی جانب سے وفاقی حکومت سے درخواست کی جاچکی ہے کہ کے الیکٹرک کو بجلی کی فراہمی میں کٹوتی نہ کی جائے جب کہ صدر مملکت ممنون حسین بھی اس سلسلے میں اپنی مثبت رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔ فریقین کو اپنے باہمی تنازعات جلد حل کر کے اس بحران سے نکلنے اور عوامی مفادات میں فیصلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
Load Next Story