پاک بھارت ہائی وولٹیج مقابلے کیلئے کراؤڈ کو قابو میں رکھنے کا خصوصی پلان تیار

انتظامیہ کسی بھی قسم کے تصادم، ہنگامہ آرائی اوردہشتگرد حملے سے نمٹنے کیلیے تیار

مذہبی، سیاسی بینر، جھنڈا یا پلے کارڈ وغیرہ ساتھ لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی فوٹو فائل

QUETTA:
ورلڈ کپ میں پاک بھارت ہائی وولٹیج مقابلے میں کراؤڈ کو قابو میں رکھنے کا خصوصی پلان تیار کرلیا گیا، انتظامیہ نے کسی بھی قسم کے تصادم، ہنگامہ آرائی اور دہشتگرد حملے سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ کا سب سے بڑا میچ 15 فروری کو ایڈیلیڈ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا جس میں تماشائیوں کیلیے بھی خصوصی کوڈ آف کنڈکٹ جاری کیا گیا ہے۔ آئی سی سی نے کسی بھی قسم کے سیاسی اور مذہبی پیغامات سے آراستہ بینرز، جھنڈے اور پلے کارڈ اسٹیڈیم میں لے جانے پر سختی سے پابندی عائد کردی۔


اس مقابلے کے حوالے سے کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا سے متعلق ایک طویل فہرست جاری کی گئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچز ہمیشہ ہی ہائی وولٹیج ثابت ہوتے ہیں، سرحد کی دونوں جانب کا تناؤ ان ٹیموں کے انداز کھیل میں بھی جھلکتا ہے۔ حال ہی میں پاکستانی کھلاڑیوں کا بھوبنیشور میں بھارتی ٹیم پر فتح کا جشن میزبان کراؤڈ کو ہضم نہیں ہوا جس سے ایک تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی دونوں ممالک کے تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ ایڈیلیڈ اوول اسٹیڈیم انتظامیہ نے اس مقابلے کے حوالے سے خصوصی طور پر کسی بھی ہنگامہ آرائی، تصادم اور خاص طور پر دہشتگردی کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلیے تیاری کرلی ہے۔

میچ کے آغاز سے 24 گھنٹے قبل کلوز سرکٹ ٹی وی کیمروں کے ذریعے وینیو کے کونے کونے پر نظر رکھی جائیگی۔ تمام تماشائیوں کی آتے وقت ویڈیو بنانے کے ساتھ تصاویر بھی لی جائینگی، اس کیساتھ مقررہ وقت پر گراؤنڈ بند کردیے جائینگے چاہے کتنے ہی ٹکٹ ہولڈر تماشائی باہر کیوں نہیں رہ جائیں۔کسی بھی تماشائی کے خراب رویے کی رپورٹ بذریعہ ایس ایم ایس کرنے کی بھی سہولت دستیاب ہوگی جس پر فوری طور پر ایکشن لیا جائیگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی میں بھی مقابلوں کے دوران تماشائیوں کے مشتعل ہونے اور ہنگامہ آرائی کی مثالیں موجود ہیں، ایسا ایڈن گارڈنز ٹیسٹ 1999اور کراچی ون ڈے 1989 میں ہوچکا ہے۔

Load Next Story