گورنر نے وائی ایم سی اے اسکول پر کیٹرنگ سروس کا قبضہ واگزار کرایا
قبضہ کئی سال قبل کیا گیا، کمپاؤنڈ میں شادی ہال بناکر تقریبات منعقد کی جاتی تھیں،2کمروں کا گودام بھی قائم تھا
وائی ایم سی اے گراؤنڈ سے متصل اسکول کے قریب یہ قبضہ شہرکی ایک معروف کیٹرنگ اینڈ ڈیکوریشن سروس کی جانب سے کیاگیاتھا۔ فوٹو: آن لائن
QUETTA:
کراچی میں گورنر ہاؤس کے قریب واقع ینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن (وائی ایم سی اے) ہائی اسکول کے میدان پرکئی سال قبل ایک کیٹرنگ سروس کی جانب سے کیا گیا قبضہ جمعرات کوختم کرادیا گیا۔
وائی ایم سی اے گراؤنڈ سے متصل اسکول کے قریب یہ قبضہ شہرکی ایک معروف کیٹرنگ اینڈ ڈیکوریشن سروس کی جانب سے کیاگیاتھا اوراس کمپنی نے اسکول کے قریب وائی ایم سی اے کے کمپاؤنڈ میں اپنا گودام قائم کر رکھا تھا جبکہ اسی کمپاؤنڈ میں شادی ہال بناکرتقریبات کاسلسلہ بھی شروع ہوگیا تھا جس کے سبب تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی تھیں اس معاملے کو ذرائع ابلاغ پر اجاگر کیے جانے کے بعد خبر کا نوٹس لیتے ہوئے گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العبادخان جمعرات کی صبح خود وہاں پہنچ کرفوری طورپراسکول کے عمارت سے متصل قبضہ ختم کرانے کی ہدایت جاری کیں بتایا جارہاہے کہ متعلقہ کیٹرنگ سروس کی جانب سے گزشتہ 7 برس سے وائی ایم سی اے کے کمپاؤنڈ میں قائم دوکمروں میں گودام قائم تھاجس کے سبب اسکول میں آنے والے طلبہ وطالبات کو شدید پریشانی کا سامنا تھا۔
گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان جمعرات کی صبح وہاں پہنچے اور فوری طور پر متعلقہ حکام کووائی ایم سے اے گراؤنڈ میں قائم اسکول سے متصل کیٹرنگ سروس کاگودام وہاں سے منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے جس کے بعدکے ایم سی کے عملے نے کیٹرنگ سروس کی جانب سے اسکول کے احاطے میں قائم کی گئی تجاوزات کو گرادیا اور کیٹرنگ سروس کے گودام میں موجود سامان کو باہرنکال دیا گیا۔
گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ تعلیمی ادارے مقدس ہیں ان پر کسی حال میں قبضہ نھیں ہونے دیں گے، ذرائع ابلاغ نشاندہی کرتارہے ہم کارروائی کرتے رہیں گے اس موقع پر دفعہ 144کے تحت وائی ایم سے اے گراؤنڈ کو سیل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے، یاد رہے کہ وائی ایم سی اے بورڈکی انتظامیہ نے اسکول پرقبضہ کے حوالے سے کئی بارمتعلقہ حکام کوتحریری طور پر آگاہ کیا تھا تاہم اس سلسلے میں حکام کی جانب سے کوئی کارروائی نھیں کی جارہی تھی جس کے بعد وائی ایم سے اے بورڈ کی انتظامیہ مایوس ہوچکی تھی۔
کراچی میں گورنر ہاؤس کے قریب واقع ینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن (وائی ایم سی اے) ہائی اسکول کے میدان پرکئی سال قبل ایک کیٹرنگ سروس کی جانب سے کیا گیا قبضہ جمعرات کوختم کرادیا گیا۔
وائی ایم سی اے گراؤنڈ سے متصل اسکول کے قریب یہ قبضہ شہرکی ایک معروف کیٹرنگ اینڈ ڈیکوریشن سروس کی جانب سے کیاگیاتھا اوراس کمپنی نے اسکول کے قریب وائی ایم سی اے کے کمپاؤنڈ میں اپنا گودام قائم کر رکھا تھا جبکہ اسی کمپاؤنڈ میں شادی ہال بناکرتقریبات کاسلسلہ بھی شروع ہوگیا تھا جس کے سبب تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی تھیں اس معاملے کو ذرائع ابلاغ پر اجاگر کیے جانے کے بعد خبر کا نوٹس لیتے ہوئے گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العبادخان جمعرات کی صبح خود وہاں پہنچ کرفوری طورپراسکول کے عمارت سے متصل قبضہ ختم کرانے کی ہدایت جاری کیں بتایا جارہاہے کہ متعلقہ کیٹرنگ سروس کی جانب سے گزشتہ 7 برس سے وائی ایم سی اے کے کمپاؤنڈ میں قائم دوکمروں میں گودام قائم تھاجس کے سبب اسکول میں آنے والے طلبہ وطالبات کو شدید پریشانی کا سامنا تھا۔
گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان جمعرات کی صبح وہاں پہنچے اور فوری طور پر متعلقہ حکام کووائی ایم سے اے گراؤنڈ میں قائم اسکول سے متصل کیٹرنگ سروس کاگودام وہاں سے منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے جس کے بعدکے ایم سی کے عملے نے کیٹرنگ سروس کی جانب سے اسکول کے احاطے میں قائم کی گئی تجاوزات کو گرادیا اور کیٹرنگ سروس کے گودام میں موجود سامان کو باہرنکال دیا گیا۔
گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ تعلیمی ادارے مقدس ہیں ان پر کسی حال میں قبضہ نھیں ہونے دیں گے، ذرائع ابلاغ نشاندہی کرتارہے ہم کارروائی کرتے رہیں گے اس موقع پر دفعہ 144کے تحت وائی ایم سے اے گراؤنڈ کو سیل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے، یاد رہے کہ وائی ایم سی اے بورڈکی انتظامیہ نے اسکول پرقبضہ کے حوالے سے کئی بارمتعلقہ حکام کوتحریری طور پر آگاہ کیا تھا تاہم اس سلسلے میں حکام کی جانب سے کوئی کارروائی نھیں کی جارہی تھی جس کے بعد وائی ایم سے اے بورڈ کی انتظامیہ مایوس ہوچکی تھی۔