وطن ِعزیز میں قتل وغارت گری کرنے والے پاکستانی طالبان کے ذرائعِ آمدن
ہماری حکومت و عوام سے نبردآزما یہ جنگجو پیسا حاصل کرنے کی خاطر دنیائے جرائم میں داخل ہو چکے۔
ہماری حکومت و عوام سے نبردآزما یہ جنگجو پیسا حاصل کرنے کی خاطر دنیائے جرائم میں داخل ہو چکے…چشم کشا تحقیق۔ فوٹو: فائل
یہ چند سال پہلے کی بات ہے، ڈیرہ اسماعیل خان کے مرکزی پولیس اسٹیشن کو قریبی بینک سے اطلاع ملی کہ چار ڈاکو لاکھوں روپے لوٹ کر فرار ہورہے ہیں۔ پولیس نے پھرتی دکھائی اور ڈاکوؤں کا تعاقب کرنے نکل کھڑی ہوئی۔ آخر ایک پل پر پولیس نے انہیں جا پکڑا۔ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں چاروں ڈاکو مارے گئے۔ بعد ازاں تفتیش سے انکشاف ہوا کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رکن تھے۔
یہ واقعہ عیاں کرتا ہے کہ پاکستانی طالبان جرائم کی دنیا میں داخل ہوچکے تاکہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے اور اسلحہ خریدنے کے لیے سرمایہ حاصل کرسکیں۔ یہ سچائی دیکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے ، پاکستانی طالبان پھر کس منہ سے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ برسراقتدار آکر پاکستان میں شریعت نافذ کریں گے؟
درست کہ وطن عزیز میں نظام عدل و انصاف کمزور ہے، قانون کی حکمرانی بھی مؤثر نہیں اور عموماً غریب ہی اس کے شکنجے میں آتے ہیں۔تسلیم کہ ازروئے اسلام ظلم وناانصافی کے خلاف جدوجہد کرنا جہاد ہے لیکن اس کے کچھ تقاضے ہیں۔ پاکستانی طالبان نبی کریمﷺکے زمانہ مبارک، خلفائے راشدین کے دور بلکہ اکثر مسلم حکمرانوں کے ادوار سے محض ایک مثال دکھا دیں کہ کسی اسلامی لشکر نے مسجد میں گھس کر مسلمانوں کو مارا، نہتے غیر مسلموں کو گرجا گھروں میں نشانہ بنایا یا وہ معصوم بچوں، عورتوں پر حملہ آور ہوا!یہ تو جہاد نہیں بلکہ انتقام کی جنگ ہے جو انسان کو وحشی و جنونی بنا ڈالتی ہے۔
تب وہ سارے مذہبی و اخلاقی اصول بھول کر مجسمِ انتقام بن جاتا ہے۔ دراصل جہاد اور ذاتی خواہشات کی حامل جنگ کے مابین بڑا باریک سا فرق ہے۔ یہی فرق غاصبوں سے نبرد آزما ایک معمولی غریب مسلمان ''عمر مختار ''کو کروڑوں انسانوں کا ہیرو بنا ڈالتا ہے۔ جبکہ حجر اسود اڑانے والا بظاہر مسلمان، ابو طاہر الجنابی ہماری پھٹکار و لعنت ملامت کا مستحق بنتا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ پاکستانی طالبان کے اعمال انہیں اُمت میں کس درجے پر فائز کرچکے؟
جب امریکی استعمار افغانستان پر حملہ آور ہوا، تو بیشتر پاکستانیوں نے اس حملے کی مذمت کی۔ یہی نہیں، کئی مخیر پاکستانیوں نے افغانستان میں برسرپیکار مجاہدین کو مالی امداد بھی دی۔ لیکن پاکستانی طالبان اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف صف آراء ہوئے تو یہ مالی امداد کم ہونے لگی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ بیرون ممالک میں موجود ان کے حمایتوں نے بھی رقم دینے سے ہاتھ کھینچ لیا۔
ظاہر ہے، کسی بھی تنظیم کو سرگرمیاں جاری رکھنے کی خاطر سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ چناں چہ سرمایہ پانے کے لیے ہی پاکستانی طالبان جرائم کی دنیا میں داخل ہوئے۔ آج ''منشیات کی تجارت، بھتا خوری، اغوا برائے تاوان، جنگلی لکڑی کی فروخت اور چوری و ڈاکے ''پاکستانی طالبان کے ذرائع آمدن بن چکے۔ گویا وہ لوٹ مار کی رقم سے اپنا نام نہاد جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اب بھی وطن عزیز کے عوام و خواص میں ان کے حمایتی موجود ہیں، تو ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔
پاکستانی طالبان نے مختلف جرائم انجام دینے کی خاطر خصوصی دستے بنا رکھے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے بینک پر ''شبِ سیاہ'' (Black Night) نامی دستے کے طالبان نے ڈاکا مارا تھا۔ جب پولیس نے انہیں ہلاک کردیا تو دو ہفتے بعد ''شب سیاہ'' ہی کے رکن میاں بیوی خودکش بمبار تھانے پر حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے تھانے کے اندر داخل ہوکر خود کو اڑا لیا۔ اس حملے میں نو سپاہی شہید ہوئے۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق جب جون 2014ء میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا، پاکستانی طالبان پورے پاکستان میں مختلف جرائم کے ذریعے سرمایہ جمع کرنے کا اپنا نیٹ ورک قائم کرچکے تھے۔ اس نیٹ ورک میں پشاور سے لے کر کراچی تک پاکستانی طالبان، ان کے پوشیدہ حمایتی اور جرائم پیشہ گروہ شامل تھے۔دنیائے جرائم میں داخل ہونے کی ایک اور اہم وجہ بھی تھی۔ چوریاں اور ڈاکے معاشرے میں ابتری اور افراتفری پیدا کرتے ہیں۔ انسان صبر و برداشت کھوکر گھبرایا ہوا اور پریشان حال بن جاتا ہے۔ اسے ملک کامستقبل خوشگوار دکھائی نہیں دیتا۔ اس صورت حال میں پاکستانی طالبان دعویٰ کرسکتے تھے کہ حکومت پاکستان 18 کروڑ پاکستانیوں کی جان و مال کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی۔
منشیات کی تجارت
افغانستان افیون اور ہیروئن کی پیداوار کا دنیا میں بڑا مرکز ہے۔ افغان طالبان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں افیون کی کاشت تقریباً ختم کر ڈالی تھی ۔لیکن اب پھر ہزارہا افغان اسے اپنی آمدن کا بنیادی ذریعہ بناچکے۔
افغانستان سے وسطی ایشیا، ایران اور پاکستان کے راستوں سے ہیروئن و افیون بیرون ممالک اسمگل ہوتی ہے۔ منشیات کے تاجر ہر علاقے کے طالبان کو مخصوص بھتا دیتے ہیں تاکہ ان کا ''مال''بہ حفاظت وہاں سے آگے روانہ ہو جائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف پاکستانی طالبان کو منشیات کے تاجروں سے ہر سال ''10 تا 20 ارب روپے'' کا بھتّا ملتا ہے۔ اسی باعث یہ ان کا سب سے بڑا ذریعہ آمدن بھی بن چکا۔
حکومت پاکستان کی بھرپور سعی ہے کہ منشیات کی افغان تجارت روکی جائے۔ وجہ یہ کہ 10 فیصد ہیروئن پاکستان میں کھپتی اور پاکستانیوں کو نشئی بناتی ہے۔ تاہم افرادی قوت اور جدید ترین ٹریکنگ آلات کی کمی کامیابی میں آڑے آجاتی ہے۔
مختلف اشیا مثلاً تمباکو، کار، اسلحہ، ملبوسات وغیرہ کی اسمگلنگ سے بھی پاکستانی طالبان کو مال ملتا ہے۔ دراصل مقامی اسمگلر ہر سال کروڑوں روپے کا متفرق سامان اسمگل کرتے ہیں۔ وہ بھی مختلف طالبانی تنظیموں کو بھتا دیتے ہیں تاکہ ان کا کاروبار چلتا رہے۔ اپنے اخراجات کی 20 فیصد رقم پاکستانی طالبان اسی اسمگلنگ کی آمدن سے پاتے ہیں۔
بھتا خوری
پاکستانی طالبان کی کمائی کا ایک اور ذریعہ بھتا خوری ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے انجام پاتی ہے۔ مثلاً جب طالبان نے خیبرپختون خوا میں قدم جمائے تو وہاں آباد سکھوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ہر سال ایک کروڑ روپے بطور جزیہ ادا کریں۔ یہ بھی بھتّے کی کی قسم ہی تھی۔بعدازاں وہ شہروں میں صنعت کاروں، جاگیرداروں اور دیگر امرا سے بھتا طلب کرنے لگے تاکہ ان کی جان امان میں رہے اور کاروبار بھی چلتا رہے۔ کوئی امیر کتنا ہی کرپٹ ہو، بہرحال زبردستی اس سے بھتا طلب کرنا غیر شرعی و غیر قانونی عمل ہے۔
اس دھندے نے کراچی میں خوب عروج پایا۔کراچی ایم کیو ایم کا گڑھ ہے اور اِس جماعت پر بھی الزامات لگتے رہے ہیں کہ اُس سے منسلک جرائم پیشہ افراد امرا سے بھتا لیتے ہیں۔ مگر اکتوبر 2014ء میں ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے انکشاف کیا کہ پاکستانی طالبان نے جماعت کے گیارہ لیڈروں سے بھتّا مانگا ہے۔ فاروق ستار، حیدر عباس رضوی، نسرین جلیل وغیرہ کو خطوط موصول ہوئے کہ پندرہ، پندرہ لاکھ روپے ادا کرو ورنہ ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ماہ رمضان میں امرا حتیٰ کہ متوسط طبقے کے افراد سے زبردستی زکوٰۃ اور فطرانہ لینا بھی پاکستانی طالبان کا طریقِ واردات ہے۔ واضح رہے، کراچی میں تقریباً پچاس لاکھ پختون آباد ہیں۔ لہٰذا وہاں خصوصاً پاکستانی طالبان امیر پشتونوں سے بھتا وصول کرتے اور انہیں جان کی امان بخشتے ہیں۔
یاد رہے، پاکستانی طالبان سے نتھی خود ساختہ علما یہ فتوی دے چکے کہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی خاطر مختلف جرائم سے حاصل کردہ رقم جائز ہے۔ یہ رقم پھر تربیتی مراکز چلانے، ریکروٹ بھرتی کرنے، انہیں تنخواہ وغیرہ دینے، اسلحہ خریدنے اور اپنا لٹریچر چھاپنے پر خرچ ہوتی ہے۔ خودکش حملہ آوروں کو منہ مانگی رقم دے کر خریدا جاتا ہے۔
بھتے کی رقم 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ کراچی میں خصوصاً قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ٹرانسپورٹر پاکستانی طالبان کا خاص ہدف ہیں۔ ان سے رمضان میں زکوٰۃ و فطرانہ بھی لیا جاتا ہے۔ جو ٹرانسپورٹر، تاجر یا کاروباری بھتہ دینے سے انکار کرے، گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔ چناں چہ پچھلے پانچ چھ برس میں پاکستانی طالبان شہروں خصوصاً کراچی میں بھتا نہ دینے پر کئی شہریوں کو قتل کرچکے۔ یاد رہے، کچھ عرصہ قبل انکشاف ہوا تھا کہ کراچی کا ''25 فیصد علاقہ'' طالبان کے قبضے میں آچکا۔
اغوا برائے تاوان
یہ گھناؤنا جرم بھی پاکستانی طالبان کی تجوریاں بھرنے میں کام آتا ہے۔ پچھلے چھ سات برس میں طالبان اغوا برائے تاوان کی سیکڑوں وارداتیں انجام دے چکے ۔ بعض اوقات یہ خود کسی جرائم پیشہ گروہ سے ''ہائی پروفائل شخصیت'' مثلاً سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی یا مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے اغوا کراتے ہیں۔ کبھی مجرم خود اغوا کردہ شخصیت کو پاکستانی طالبان کے ہاتھوں بیچ ڈالتے ہیں۔انھیں پھر منہ مانگی قیمت ملے، تو اغوا شدہ رہائی کی نعمت پاتا ہے۔
پاکستانی طالبان عموماً اغوا برائے تاوان کے ذریعے سالانہ کروڑوں روپے کماتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوری 2014ء میں انہوں نے ملتان سے ڈپٹی سیکرٹری پارلیمنٹ، معظم کالرو کو اغوا کرلیا۔ کالرو صاحب کو پھر تین ماہ تک ضلع کوہاٹ کے کسی مقام پر قید رکھا گیا۔ جب ان کے اہل خانہ نے پانچ کروڑ روپے بطور تاوان ادا کیے، تبھی معظم کالرو کو رہائی ملی۔
چوریاں، ڈاکے، ڈکیتیاں اور سٹریٹ کرائم سے بھی طالبان کو اچھی خاصی آمدن ہوتی ہے۔ یہ جرائم ان سے منسلک جرائم پیشہ گروہ انجام دیتے ہیں یا پھر طالبانی دستے! انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق کراچی میں طالبان نے ''المختار'' اور ''المنصور'' نامی دو دستے بنا رکھے ہیں۔ ان دستوں کے ارکان بینک، دکانیں اور شاہراؤں پر کار سواروں کو لوٹتے اور سالانہ کروڑوں روپے پاتے ہیں۔
لکڑی کی تجارت
پاکستانی طالبان نے ایک قدرتی خزانے کو بھی نہیں بخشا۔ انہوں نے صوبہ خیبرپختون خوا کے جس علاقے پر قبضہ کیا، وہاں ہزارہا درخت کاٹ ڈالے۔ ان درختوں کی لکڑی بلیک مارکیٹ میں سستے داموں فروخت کردی گئی... مدعا یہی تھا کہ کسی نہ کسی طرح پیسہ حاصل کیا جائے۔ ایک درخت پلنے بڑھنے میں کئی سال لگاتا ہے، مگر طالبان نے چند ہفتوں میں جنگل کے جنگل صاف کر ڈالے۔
یہ درخت مقامی باشندوں کو روزگار ہی نہیں جلانے کی خاطر لکڑی بھی فراہم کرتے ہیں۔ یوں وہ طالبان کی لوٹ مار کے باعث اس قدرتی خزانے سے محروم ہوگئے۔ مزید برآں یہ سیلاب کے آگے بند باندھتے ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں سیلاب مزید خطرناک قدرتی آفت بن جاتے ہیں۔ خود سوچیے، جنگلوں کا صفایا کرکے پاکستانی طالبان نے مقامی لوگوں پہ کتنا ظلم ڈھایا؟
حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے، بھارت بھی پس پردہ رہ کر پاکستانی طالبان کو مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ مدعا یہی ہے کہ وطن عزیز میں امن و امان کی حالت مخدوش رہے اور ہمارا ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہ ہوسکے۔ بھارت بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو بھی رقم و ہتھیار دیتا ہے۔
پاکستانی پولیس کرپٹ نہ ہوتی، تب بھی وہ طالبان کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔ اول اس لیے کہ طالبانی تنظیمیں تربیت یافتہ گوریلے رکھتی ہیں۔ دوم پولیس کی اتنی نفری نہیں کہ وہ ہر حساس ٹارگٹ کی کماحقہ نگرانی کرسکے۔ سوم اس کا اسلحہ بھی طالبان کے مقابلے میں کمتر اور فرسودہ ہے۔ ان کا مقابلہ کرنے کی خاطر خصوصی فورس قائم ہونی چاہیے۔
درج بالا چشم کشا حقائق سے عیاں ہے کہ پاکستانی طالبان اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھنے اور اسلحہ خریدنے کی خاطر بھاری رقم کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔ اگر ان کے ذرائع آمدن زیادہ سے زیادہ محدود کردیئے جائیں، تو وہ خود بخود نیست و نابود ہونے لگیں گے۔ ان کی شدت پسندی اب تمام پاکستانیوں کے لیے زہرِ قاتل بن چکی جس کا قلع قمع کرنا بہت ضروری ہے۔
اسلحے کی کمی نہیں
تحریک پاکستان طالبان کو اپنا دائرہ کار پھیلانے میں تین عوامل سے مدد ملی... اول شروع ہی سے ان پر کاری وار نہیں کیے گئے۔ دوم انہیں پیسہ با افراط ملتا رہا۔ سوم ان کے پاس اسلحے کی بھی کمی نہیں تھی۔ افغانستان میں جاری جنگ کے باعث وسطی ایشیا کا علاقہ اسلحے کی بڑی مارکیٹ بن چکا اور وہاں ہر قسم کے ہتھیار دستیاب ہیں۔
یہی دیکھیے کہ سانحہ پشاور میں حملہ آور طالبان نے جو اسلحہ استعمال کیا وہ چار ممالک کا ساختہ تھا۔ اس اسلحے میں آر پی جی 7 راکٹ لانچر (روس)، پی کے ایم مشین گن (روس)، اے کے47- رائفل (پولینڈ)، ایم پی 5 سب مشین گن (جرمنی) اور سٹائر رائفل (آسٹریا) شامل تھا۔
پاکستانی طالبان کے پاس پیسے کی کمی نہیں ، لہٰذا وہ مہنگے سے مہنگا اسلحہ خریدنے پر قادر ہیں۔ ایک زمانے میں درہ آدم خیل مقامی اسلحے کی تیاری اور خریدو فروخت کا بڑا مرکز تھا ۔لیکن اب طالبان کے علاقوں میں چھوٹی اسلحہ ساز فیکٹریاں کھل چکیں۔ گو ان میں بنا ہوا اسلحہ زیادہ معیاری نہیں ہوتا۔ پاکستان میں صوبہ خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے راستے غیر ملکی ساختہ اسلحہ اسمگل ہوتا ہے۔ اس اسلحے میں سے کچھ تو طالبانی گروہوں کے ہاتھ چڑھتا ہے۔ کچھ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں لے اڑتی ہیں۔ باقی ہتھیار ہمارے شہروں خصوصاً کراچی، لاہور، راولپنڈی وغیرہ کا رخ کرتے ہیں۔ اسلحے کی اسمگلنگ ہی سے پاکستان میں خصوصاً چھوٹے ہتھیاروں کی کثرت ہوچکی۔
ایک رپورٹ کے مطابق ''دو ہزار پاکستانیوں'' کو صرف ایک ڈاکٹر کی سہولت میسر ہے۔ اس طرح ان کے لیے ہسپتالوں میں صرف ایک بستر موجود ہے۔ شعبہ تعلیم کا بھی برا حال ہے۔ صرف 7 فیصد پاکستانی کالج کی تعلیم حاصل کرپائے ہیں۔ لیکن ہر 100 پاکستانیوں میں سے کم از کم ''15 پاکستانی'' کوئی نہ کوئی اسلحہ ضرور رکھتے ہیں۔ ان 15 پاکستانیوں میں سے صرف 4لائسنس یافتہ اسلحے کے حامل ہیں۔
افغانستان میں امریکی یا افغان فوجیوں سے چھینا گیا اسلحہ بھی اکثر پاکستانی طالبان کے ہاتھ لگتا ہے۔ مزید برآں افغان فوجی خود بھی دولت کمانے کی خاطر اپنا اسلحہ طالبان کو بیچ ڈالتے ہیں۔ اسلحے کی ریل پیل ہونے کے باعث ہی پاکستانی طالبان جدید ترین رائفلوں کے علاوہ مشین گنیں، راکٹ لانچر، مارٹر توپیں اور طیارہ شکن توپیں رکھتے ہیں۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق پاکستانی شہروں میں طالبان اسلحے کی تجارت بھی کرتے ہیں۔ اسی تجارت کے باعث خصوصاً کراچی میں ہتھیاروں کی اتنی زیادہ کثرت ہوچکی کہ وہ کرائے پر بھی ملتا ہے۔ کراچی میں ایک نوجوان 75 روپے گھنٹہ موٹر سائیکل اور 100 تا 300 روپے فی گھنٹہ اسلحہ کرائے پر حاصل کرسکتا ہے۔ یہ نوجوان پھر سٹریٹ کرائم مثلاً چوری یا ڈاکہ ڈال کر ہزارہا روپے کمالیتا ہے۔غرض اسلحے کی ریل پیل سے پاکستانی طالبان ہی طاقتور نہیں ہوئے، بلکہ وطن عزیز میں جرائم کی شرح بھی بڑھ گئی۔ حکومت پاکستان کو غیر قانونی اسلحے کی روک تھام کرنے کے لیے جلد ازجلد موزوں اقدامات کرنے چاہئیں ورنہ یہ بلا مستقبل میں عفریت بھی بن سکتی ہے۔
شدت پسندوں کا ماضی و حال
یہ 1977ء کی بات ہے' برطانوی گلوکار اور نغمہ نگار' کیٹ اسٹیونز کا دنیائے مغرب میں طوطی بول رہا تھا۔ لاکھوں یورپی اور امریکی اسٹیونز کے گانوں کے دلداہ تھے۔ ان کے پاس دولت کی ریل پیل تھی۔ شہرت اور عزت بھی گھر کی باندیاں تھیں۔ اسی دور عروج میں اسٹیونز نے اچانک اسلام قبول کیا اور دنیائے موسیقی کو خیر باد کہہ دیا۔
ظاہر ہے' سبھی مغربی باشندے اسٹیونز کی زندگی میں انقلاب آتا دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ انہیں سمجھ نہیں آئی کہ اس آدمی کو بیٹھے بٹھائے کیا ہوا۔ اسٹیونز اب یوسف اسلام بن چکے تھے۔ ان کاکہنا تھا: ''قرآن مجید کے مطالعے سے مجھے امن و سکون نصیب ہوا۔ یہ انسان کو محبت و خیر کی طرف بلاتا ہے۔''
یہ حقیقت ہے' دنیائے مغرب میں 99 فیصد مغربی اسی لیے اسلام قبول کرتے ہیں کہ اس دین کی آغوش میں پہنچ کر انہیں امن و سکون ملتا ہے۔ تاہم واقعہ 9/11کے بعد خصوصاً مغربی میڈیا یہ تاثر ابھارنے لگا کہ اسلام اور دہشت گردی و انتہا پسندی لازم و ملزوم ہیں۔ یہ تاثر اسی لیے پیدا ہواکہ مغربی استعمار سے نبرد آزما جہادی غیر مسلح شہریوں کو بھی نشانہ بنانے لگے جو بہرحال خلاف شریعت عمل ہے۔
دین کی رو سے حملہ آوروں اور ظالموںسے لڑنے کی اجازت ہے ۔ تاہم یہ جنگ بعض شرائط اور اصولوں کے مطابق لڑی جاتی ہے۔ ایک اہم شرط یہ کہ اسلامی لشکر خواتین' بچوں اور غیر مسلح شہریوں پر حملہ آور نہیں ہو گا۔ اسلامی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ خارجیوں کے بعض فرقے پہلے گمراہ کردہ مسلمان تھے جنہوںنے اس شرعی اصول کی خلاف ورزی کی۔بنیادی وجہ ان کی شدت پسندی تھی۔ وہ جوش انتقام میں ہوش کھو بیٹھے اور مسلمانوں ہی کے بچوں' عورتوں اور شہریوں کو قتل کرنے لگے۔ اسی لیے جمہور علما نے خارجیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔
المیہ یہ ہے کہ دورحاضر میں بھی بعض اسلامی گروہ شدت پسند ہو چکے اور انہوں نے خود ساختہ اسلامی اصول وضع کر لیے۔ انہی میں پاکستانی طالبان بھی شامل ہیں جنھوں نے کچھ عرصہ قبل پشاور میں 145 معصوم بچے شہید کر ڈالے۔یہ تحریک بھی دور جدید کے ایک حیرت انگیز عجوبے سے تعلق رکھتی ہے۔اس عجوبے کی مختصر تاریخ پیش خدمت ہے۔
پندرہویں صدی میں جدید اسلحہ بنانے کے بعد یورپی طاقتیں عالم اسلام کو زیر کرنے کا سوچنے لگیں۔ تب تک مختلف اسلامی حکومتیں باہم لڑ کر کمزور ہو چکی تھیں۔ لہٰذا مغربی استعمار نے ایک ایک کر کے بیشتر اسلامی ممالک پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کئی ملکوں میں خصوصاً علما نے یورپی طاقتوں کا مقابلہ کیا جن میں امام بونجولؒ (انڈونیشیا)' حاجی شریعت اللہؒ اور ان کے بیٹے تیتو میرؒ(بنگال) ' سید محمد حسنؒ ( صومالیہ)'ٹیپو سلطانؒ، مولوی احمد اللہ شہیدؒ 'جنرل بخت خانؒ،( ہندوستان) ' عبدالقادر الجزائریؒ وغیرہ شامل ہیں۔
بیسویں صدی تک عالم اسلام کا بیشتر حصہ مغلوب ہو چکا تھا۔ اسی دوران بوجوہ یورپی طاقتوں میں جنگیں (اول ودوم) چھڑ گئیں۔ مسلمانوں کو ان سے یہ فائدہ پہنچا کہ نہ صرف کئی اسلامی ملک آزاد ہوئے بلکہ نئے بھی وجود میں آئے۔ تاہم بیشتر نو آزاد اسلامی ملکوں میں اقتدار اسی بااثر وامیر مسلم طبقے نے سنبھالا جو مغربی استعمار کے ساتھ مل کر حکومت کر رہا تھا۔ اس نے اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے تمام قومی وسائل پر قبضہ کر لیا۔ چنانچہ آزادی پاکر بھی متوسط و غریب طبقوں کی زندگیوں میں زیادہ مثبت تبدیلی نہیں آئی۔
اسی دوران اسلام میں نیا انقلاب جنم لے چکا تھا۔ مغربی استعمار کئی اسلامی ممالک میں اپنا تہذیب و تمدن متعارف کرانے میں کامیاب رہا۔ جب یہ ملک آزاد ہوئے' تو وہاں مغربی تہذیب کے پروردہ مسلمانوں اور قدامت پسندوں میں ٹکراؤ شروع ہو گیا جو روایتی رسوم و رواج کا احیا چاہتے تھے۔ دور جدید میں سعودی عرب پہلا ملک ہے جہاں اس نظریاتی کشمکش نے مسلح صورت اختیار کرلی۔
الاخوان عرب بدوؤں پر مشتمل ابن سعود کی مذہبی فوج تھی۔ شاہ ابن سعود نے اسی کی مدد سے کئی عرب علاقے فتح کیے۔ لیکن جب انہوںنے انگریزوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو الاخوانیوں کو ناگوار گزرا۔ انہوں نے خارجیوں کا نظریہ تکفیر اپناتے ہوئے ابن سعود کو کافر قرار دیا اور 1927ء میں بغاوت کر دی۔ سعودی حکومت نے بہ مشکل تمام 1933ء میں اس بغاوت کو فرو کیا۔
اس کے بعد اکثر اسلامی حکمرانوں کے پُرتعیش طرز زندگی' مغرب نوازی' قانون سے ماورا حیثیت اور آمرانہ چلن کے باعث سب سے پہلے مصر میں ''مسلح بغاوت'' نے جنم لیا۔اس بغاوت کے قائدین مثلاً محمد عبدالسلام فرج' سید امام الشریف' ایمن الظواہری'عبدالزمّر وغیرہ متوسط و غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے اسلام پسند رہنما تھے۔ان راہنماؤں نے مصری حکومت کے خلاف اپنی جنگ کو ''جہاد'' کا نام دیا اور اپنی فکرکی بنیادیں مصری فلسفی' سید محمد قطب کے نظریات پر استوار کیں۔
سید قطب کا دعویٰ ہے کہ نااہل و مغرب نواز اسلامی حکمرانوں کے خلاف لڑائی نہ صرف جہاد بلکہ فرض عین ہے۔ یوں اسلامی حکومتوں سے برگشتہ نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کا مذہبی اجازت نامہ مل گیا۔ چناں چہ درج بالامصری رہنماؤں نے 1979ء میں ''تنظیم الجہاد'' کی بنیاد رکھی۔ا کتوبر 1981میں اسی کے ارکان نے مصری صدر انور السادات کو قتل کر ڈالا۔
جب مصری حکومت نے پکڑ دھکڑ شروع کی تو الاجہادکے کئی رہنما فرار ہو کر پشاور چلے آئے۔ وہ افغان جہاد میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ اسی زمانے میں دنیا کے کونے کونے سے پُرجوش مسلما ن افغان جہاد میں حصہ لینے آتے تھے۔ مصری رہنماؤں نے اپنے نظریات کی ترویج کی اور کئی نوجوانوں کو متاثر کرنے میں کامیاب رہے۔ ان میں اسامہ بن لاد ن بھی شامل تھے جن کی مالی امداد سے ''القاعدہ'' نے جنم لیا۔
القاعدہ کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ جن اسلامی خطّوں مثلاً کشمیر' چیچنیا' بوسنیا' فلپائن' پٹانی' کوسووو وغیرہ پر غاصبوں نے قبضہ کر رکھا ہے' بذریعہ جہاد انہیں آزادی دلائی جائے۔ تب سوویت یونین جیسی سپر پاور کو شکست دینے کے بعد مجاہدین بہت جوش میںتھے۔
اگست 1990ء میں اچانک صدام حسین نے کویت پر حملہ کر دیا۔ اس کا مقابلہ کرنے کی خاطر امریکی و یورپی افواج سعودی عرب آن پہنچیں۔ اسامہ بن لادن نے ارضِ مقدس پر امریکی فوجی اڈے بنانے پر اعتراض کیا۔ اس امر پر پہلے سعودی عرب اور پھر امریکا سے ان کا تصادم شروع ہو گیا۔ چیچنیا،بوسنیا اور کوسوو میں مسلمانوں کے قتل عام نے اس لڑائی کو مزید بڑھایا۔ رفتہ رفتہ یہ تصادم اتنا بڑھا کہ مغربی دانشور چیخ اٹھے:''مغربی اور اسلامی تہذیبوں کے درمیان جنگ شروع ہو چکی۔''
القاعدہ نے دنیا بھر میں امریکی تنصیبات پر حملے کیے' تو امریکیوں نے افغانستان اور سوڈان میں جہادیوں کے ٹھکانوں پر میزائل برسائے۔ اسی صورت حال میں واقعہ 9/11رونما ہوگیا۔ اب امریکی حکومت آتشِ انتقام میں جل کر دنیا بھر میں پھیلے جہادیوں پر ٹوٹ پڑی۔
اس دوران اکثر اسلامی حکومتوں نے جہادیوں کے خلاف لڑائی میں بوجوہ امریکا کا ساتھ دیا۔ ان میں جنرل مشرف کی پاکستانی حکومت بھی شامل تھی۔ چونکہ پاکستان کے سرحدی علاقے جہادیوں کا مرکز تھے لہٰذا ہمارا وطن بھی افغانستان اور عراق کے بعد اس امریکی جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
دوران جنگ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے قبائلی علاقوں میں چھپے افغان' ازبک' چیچن' تاجک اور پاکستانی جہادیوں پر بھی حملے کیے۔ چونکہ حملوں میں انہیں پناہ دینے والے پشتون قبائل کے افراد بھی مارے گئے' سو یہ قبیلے بھی بتدریج اس جنگ کا حصّہ بن بیٹھے۔اسی اثنا میں مشرف حکومت نے جہاد کشمیر بھی ختم کر ڈالا۔ اس یوٹرن نے بھی کئی جہادی رہنماؤں کو پاکستان حکومت کا مخالف بنا دیا۔ 1985ء سے بعض مذہبی تنظیمیں فرقہ ورانہ فساد میں ملوث اور حکومت پاکستان سے برسر پیکار تھیں۔
2007ء میں حکومت پاکستان کے یہی سبھی مخالفین ''تحریک طالبان پاکستان'' کی چھتری تلے جمع ہو گئے۔یوں اسی عجوبے نے پھر جنم لیا جو پہلے سعودی عرب اور پھر مصر میں سامنے آ چکا تھا یعنی حکومت پانے کی خاطر مذہب کا سہارا لیا گیا۔تاہم یہ کوئی مربوط و منضبط اتحاد نہیں تھا بلکہ ہر تنظیم اپنا نیٹ ورک' نظریات اور مشن رکھتی تھی۔ گو اس امر پر تمام مخالفین متفق ہوئے کہ حکومت سنبھال کر وہ اپنا خود ساختہ شرعی نظام پاکستان میں نافذ کریں گے۔
عوام کو یہی تاثر ملا کہ تحریک طالبان حکومت سنبھال کر عدل و انصاف قائم کرے گی۔ غریبوں کو ان کے حقوق ملیں گے۔ قانون سب سے یکساں سلوک کرے گا۔ قومی وسائل کی تقسیم منصفانہ ہوگی۔ ملک سے کرپشن، اقربا پروری، مفاد پرستی وغیرہ کا خاتمہ ہوگا۔ غرض حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت وجود میں آئے گی ۔مگر ہوا کیا؟
ہوا یہ کہ جب سوات میں کچھ عرصہ تحریک طالبان کا اقتدار قائم ہوا تو وہ بندوق کے زور پر حکومت کرنے لگے۔ انہوں نے بے سوچے سمجھے سزائیں دے کر علاقے میں خوف و دہشت اور نفرت کا ماحول پیدا کردیا۔ نتیجتاً جب پاک فوج ان پر حملہ آور ہوئی تو عام لوگوں نے جوانوں کا خیر مقدم کیا۔ ظاہر ہے، اعتدال و نرمی حکمرانوںکی خاص صفات ہیں۔کتب تاریخ میں درج ہے،حضرت عمر فاروقؓ بہت سخت گیر تھے۔ مگر جب بارِ حکومت آپ کے کاندھوں پر پڑا، تو پہلے کی نسبت بہت نرم مزاج ہوگئے۔
پاکستانی طالبان بظاہر حکمران طبقے کی آمریت کے خلاف کھڑے ہوئے،مگر انھوں نے اپنی سرگرمیوں سے عوام ہی کو نقصان پہنچایا۔2007ء سے اب تک وہ سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہریوں پر بھی سیکڑوں حملے کر چکے۔ان کے باعث ''پچاس ہزار''پاکستانی شہید ہوئے اور ملک کو بڑا جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ اب اپنے نظریات سے غیر متفق پاکستانیوں کو کافر لہٰذا واجب القتل سمجھتے اور آیات ِقرانی کو (نعوذ باللہ)توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔
خصوصاً انتقام کی آگ میں جل کر خارجیوں کے مانند ہوش کھو بیٹھے اور دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے۔ شدت پسندی نے جس طرح خارجیوں کو نیست و نابود کیا تھا' پاکستانی طالبان کا مقدر بھی یہی عبرت انگیز انجام بن چکا ۔ان دونوں گروہوں نے اپنی دانست میں عدل وانصاف پہ مبنی حکومت بنانے کی جو راہ اپنائی،اس نے الٹا اُمت کو منتشر و پراگندہ کر ڈالا۔
یہ واقعہ عیاں کرتا ہے کہ پاکستانی طالبان جرائم کی دنیا میں داخل ہوچکے تاکہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے اور اسلحہ خریدنے کے لیے سرمایہ حاصل کرسکیں۔ یہ سچائی دیکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے ، پاکستانی طالبان پھر کس منہ سے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ برسراقتدار آکر پاکستان میں شریعت نافذ کریں گے؟
درست کہ وطن عزیز میں نظام عدل و انصاف کمزور ہے، قانون کی حکمرانی بھی مؤثر نہیں اور عموماً غریب ہی اس کے شکنجے میں آتے ہیں۔تسلیم کہ ازروئے اسلام ظلم وناانصافی کے خلاف جدوجہد کرنا جہاد ہے لیکن اس کے کچھ تقاضے ہیں۔ پاکستانی طالبان نبی کریمﷺکے زمانہ مبارک، خلفائے راشدین کے دور بلکہ اکثر مسلم حکمرانوں کے ادوار سے محض ایک مثال دکھا دیں کہ کسی اسلامی لشکر نے مسجد میں گھس کر مسلمانوں کو مارا، نہتے غیر مسلموں کو گرجا گھروں میں نشانہ بنایا یا وہ معصوم بچوں، عورتوں پر حملہ آور ہوا!یہ تو جہاد نہیں بلکہ انتقام کی جنگ ہے جو انسان کو وحشی و جنونی بنا ڈالتی ہے۔
تب وہ سارے مذہبی و اخلاقی اصول بھول کر مجسمِ انتقام بن جاتا ہے۔ دراصل جہاد اور ذاتی خواہشات کی حامل جنگ کے مابین بڑا باریک سا فرق ہے۔ یہی فرق غاصبوں سے نبرد آزما ایک معمولی غریب مسلمان ''عمر مختار ''کو کروڑوں انسانوں کا ہیرو بنا ڈالتا ہے۔ جبکہ حجر اسود اڑانے والا بظاہر مسلمان، ابو طاہر الجنابی ہماری پھٹکار و لعنت ملامت کا مستحق بنتا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ پاکستانی طالبان کے اعمال انہیں اُمت میں کس درجے پر فائز کرچکے؟
جب امریکی استعمار افغانستان پر حملہ آور ہوا، تو بیشتر پاکستانیوں نے اس حملے کی مذمت کی۔ یہی نہیں، کئی مخیر پاکستانیوں نے افغانستان میں برسرپیکار مجاہدین کو مالی امداد بھی دی۔ لیکن پاکستانی طالبان اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف صف آراء ہوئے تو یہ مالی امداد کم ہونے لگی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ بیرون ممالک میں موجود ان کے حمایتوں نے بھی رقم دینے سے ہاتھ کھینچ لیا۔
ظاہر ہے، کسی بھی تنظیم کو سرگرمیاں جاری رکھنے کی خاطر سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ چناں چہ سرمایہ پانے کے لیے ہی پاکستانی طالبان جرائم کی دنیا میں داخل ہوئے۔ آج ''منشیات کی تجارت، بھتا خوری، اغوا برائے تاوان، جنگلی لکڑی کی فروخت اور چوری و ڈاکے ''پاکستانی طالبان کے ذرائع آمدن بن چکے۔ گویا وہ لوٹ مار کی رقم سے اپنا نام نہاد جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اب بھی وطن عزیز کے عوام و خواص میں ان کے حمایتی موجود ہیں، تو ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔
پاکستانی طالبان نے مختلف جرائم انجام دینے کی خاطر خصوصی دستے بنا رکھے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے بینک پر ''شبِ سیاہ'' (Black Night) نامی دستے کے طالبان نے ڈاکا مارا تھا۔ جب پولیس نے انہیں ہلاک کردیا تو دو ہفتے بعد ''شب سیاہ'' ہی کے رکن میاں بیوی خودکش بمبار تھانے پر حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے تھانے کے اندر داخل ہوکر خود کو اڑا لیا۔ اس حملے میں نو سپاہی شہید ہوئے۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق جب جون 2014ء میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا، پاکستانی طالبان پورے پاکستان میں مختلف جرائم کے ذریعے سرمایہ جمع کرنے کا اپنا نیٹ ورک قائم کرچکے تھے۔ اس نیٹ ورک میں پشاور سے لے کر کراچی تک پاکستانی طالبان، ان کے پوشیدہ حمایتی اور جرائم پیشہ گروہ شامل تھے۔دنیائے جرائم میں داخل ہونے کی ایک اور اہم وجہ بھی تھی۔ چوریاں اور ڈاکے معاشرے میں ابتری اور افراتفری پیدا کرتے ہیں۔ انسان صبر و برداشت کھوکر گھبرایا ہوا اور پریشان حال بن جاتا ہے۔ اسے ملک کامستقبل خوشگوار دکھائی نہیں دیتا۔ اس صورت حال میں پاکستانی طالبان دعویٰ کرسکتے تھے کہ حکومت پاکستان 18 کروڑ پاکستانیوں کی جان و مال کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی۔
منشیات کی تجارت
افغانستان افیون اور ہیروئن کی پیداوار کا دنیا میں بڑا مرکز ہے۔ افغان طالبان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں افیون کی کاشت تقریباً ختم کر ڈالی تھی ۔لیکن اب پھر ہزارہا افغان اسے اپنی آمدن کا بنیادی ذریعہ بناچکے۔
افغانستان سے وسطی ایشیا، ایران اور پاکستان کے راستوں سے ہیروئن و افیون بیرون ممالک اسمگل ہوتی ہے۔ منشیات کے تاجر ہر علاقے کے طالبان کو مخصوص بھتا دیتے ہیں تاکہ ان کا ''مال''بہ حفاظت وہاں سے آگے روانہ ہو جائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف پاکستانی طالبان کو منشیات کے تاجروں سے ہر سال ''10 تا 20 ارب روپے'' کا بھتّا ملتا ہے۔ اسی باعث یہ ان کا سب سے بڑا ذریعہ آمدن بھی بن چکا۔
حکومت پاکستان کی بھرپور سعی ہے کہ منشیات کی افغان تجارت روکی جائے۔ وجہ یہ کہ 10 فیصد ہیروئن پاکستان میں کھپتی اور پاکستانیوں کو نشئی بناتی ہے۔ تاہم افرادی قوت اور جدید ترین ٹریکنگ آلات کی کمی کامیابی میں آڑے آجاتی ہے۔
مختلف اشیا مثلاً تمباکو، کار، اسلحہ، ملبوسات وغیرہ کی اسمگلنگ سے بھی پاکستانی طالبان کو مال ملتا ہے۔ دراصل مقامی اسمگلر ہر سال کروڑوں روپے کا متفرق سامان اسمگل کرتے ہیں۔ وہ بھی مختلف طالبانی تنظیموں کو بھتا دیتے ہیں تاکہ ان کا کاروبار چلتا رہے۔ اپنے اخراجات کی 20 فیصد رقم پاکستانی طالبان اسی اسمگلنگ کی آمدن سے پاتے ہیں۔
بھتا خوری
پاکستانی طالبان کی کمائی کا ایک اور ذریعہ بھتا خوری ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے انجام پاتی ہے۔ مثلاً جب طالبان نے خیبرپختون خوا میں قدم جمائے تو وہاں آباد سکھوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ہر سال ایک کروڑ روپے بطور جزیہ ادا کریں۔ یہ بھی بھتّے کی کی قسم ہی تھی۔بعدازاں وہ شہروں میں صنعت کاروں، جاگیرداروں اور دیگر امرا سے بھتا طلب کرنے لگے تاکہ ان کی جان امان میں رہے اور کاروبار بھی چلتا رہے۔ کوئی امیر کتنا ہی کرپٹ ہو، بہرحال زبردستی اس سے بھتا طلب کرنا غیر شرعی و غیر قانونی عمل ہے۔
اس دھندے نے کراچی میں خوب عروج پایا۔کراچی ایم کیو ایم کا گڑھ ہے اور اِس جماعت پر بھی الزامات لگتے رہے ہیں کہ اُس سے منسلک جرائم پیشہ افراد امرا سے بھتا لیتے ہیں۔ مگر اکتوبر 2014ء میں ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے انکشاف کیا کہ پاکستانی طالبان نے جماعت کے گیارہ لیڈروں سے بھتّا مانگا ہے۔ فاروق ستار، حیدر عباس رضوی، نسرین جلیل وغیرہ کو خطوط موصول ہوئے کہ پندرہ، پندرہ لاکھ روپے ادا کرو ورنہ ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ماہ رمضان میں امرا حتیٰ کہ متوسط طبقے کے افراد سے زبردستی زکوٰۃ اور فطرانہ لینا بھی پاکستانی طالبان کا طریقِ واردات ہے۔ واضح رہے، کراچی میں تقریباً پچاس لاکھ پختون آباد ہیں۔ لہٰذا وہاں خصوصاً پاکستانی طالبان امیر پشتونوں سے بھتا وصول کرتے اور انہیں جان کی امان بخشتے ہیں۔
یاد رہے، پاکستانی طالبان سے نتھی خود ساختہ علما یہ فتوی دے چکے کہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی خاطر مختلف جرائم سے حاصل کردہ رقم جائز ہے۔ یہ رقم پھر تربیتی مراکز چلانے، ریکروٹ بھرتی کرنے، انہیں تنخواہ وغیرہ دینے، اسلحہ خریدنے اور اپنا لٹریچر چھاپنے پر خرچ ہوتی ہے۔ خودکش حملہ آوروں کو منہ مانگی رقم دے کر خریدا جاتا ہے۔
بھتے کی رقم 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ کراچی میں خصوصاً قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ٹرانسپورٹر پاکستانی طالبان کا خاص ہدف ہیں۔ ان سے رمضان میں زکوٰۃ و فطرانہ بھی لیا جاتا ہے۔ جو ٹرانسپورٹر، تاجر یا کاروباری بھتہ دینے سے انکار کرے، گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔ چناں چہ پچھلے پانچ چھ برس میں پاکستانی طالبان شہروں خصوصاً کراچی میں بھتا نہ دینے پر کئی شہریوں کو قتل کرچکے۔ یاد رہے، کچھ عرصہ قبل انکشاف ہوا تھا کہ کراچی کا ''25 فیصد علاقہ'' طالبان کے قبضے میں آچکا۔
اغوا برائے تاوان
یہ گھناؤنا جرم بھی پاکستانی طالبان کی تجوریاں بھرنے میں کام آتا ہے۔ پچھلے چھ سات برس میں طالبان اغوا برائے تاوان کی سیکڑوں وارداتیں انجام دے چکے ۔ بعض اوقات یہ خود کسی جرائم پیشہ گروہ سے ''ہائی پروفائل شخصیت'' مثلاً سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی یا مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے اغوا کراتے ہیں۔ کبھی مجرم خود اغوا کردہ شخصیت کو پاکستانی طالبان کے ہاتھوں بیچ ڈالتے ہیں۔انھیں پھر منہ مانگی قیمت ملے، تو اغوا شدہ رہائی کی نعمت پاتا ہے۔
پاکستانی طالبان عموماً اغوا برائے تاوان کے ذریعے سالانہ کروڑوں روپے کماتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوری 2014ء میں انہوں نے ملتان سے ڈپٹی سیکرٹری پارلیمنٹ، معظم کالرو کو اغوا کرلیا۔ کالرو صاحب کو پھر تین ماہ تک ضلع کوہاٹ کے کسی مقام پر قید رکھا گیا۔ جب ان کے اہل خانہ نے پانچ کروڑ روپے بطور تاوان ادا کیے، تبھی معظم کالرو کو رہائی ملی۔
چوریاں، ڈاکے، ڈکیتیاں اور سٹریٹ کرائم سے بھی طالبان کو اچھی خاصی آمدن ہوتی ہے۔ یہ جرائم ان سے منسلک جرائم پیشہ گروہ انجام دیتے ہیں یا پھر طالبانی دستے! انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق کراچی میں طالبان نے ''المختار'' اور ''المنصور'' نامی دو دستے بنا رکھے ہیں۔ ان دستوں کے ارکان بینک، دکانیں اور شاہراؤں پر کار سواروں کو لوٹتے اور سالانہ کروڑوں روپے پاتے ہیں۔
لکڑی کی تجارت
پاکستانی طالبان نے ایک قدرتی خزانے کو بھی نہیں بخشا۔ انہوں نے صوبہ خیبرپختون خوا کے جس علاقے پر قبضہ کیا، وہاں ہزارہا درخت کاٹ ڈالے۔ ان درختوں کی لکڑی بلیک مارکیٹ میں سستے داموں فروخت کردی گئی... مدعا یہی تھا کہ کسی نہ کسی طرح پیسہ حاصل کیا جائے۔ ایک درخت پلنے بڑھنے میں کئی سال لگاتا ہے، مگر طالبان نے چند ہفتوں میں جنگل کے جنگل صاف کر ڈالے۔
یہ درخت مقامی باشندوں کو روزگار ہی نہیں جلانے کی خاطر لکڑی بھی فراہم کرتے ہیں۔ یوں وہ طالبان کی لوٹ مار کے باعث اس قدرتی خزانے سے محروم ہوگئے۔ مزید برآں یہ سیلاب کے آگے بند باندھتے ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں سیلاب مزید خطرناک قدرتی آفت بن جاتے ہیں۔ خود سوچیے، جنگلوں کا صفایا کرکے پاکستانی طالبان نے مقامی لوگوں پہ کتنا ظلم ڈھایا؟
حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے، بھارت بھی پس پردہ رہ کر پاکستانی طالبان کو مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ مدعا یہی ہے کہ وطن عزیز میں امن و امان کی حالت مخدوش رہے اور ہمارا ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہ ہوسکے۔ بھارت بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو بھی رقم و ہتھیار دیتا ہے۔
پاکستانی پولیس کرپٹ نہ ہوتی، تب بھی وہ طالبان کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔ اول اس لیے کہ طالبانی تنظیمیں تربیت یافتہ گوریلے رکھتی ہیں۔ دوم پولیس کی اتنی نفری نہیں کہ وہ ہر حساس ٹارگٹ کی کماحقہ نگرانی کرسکے۔ سوم اس کا اسلحہ بھی طالبان کے مقابلے میں کمتر اور فرسودہ ہے۔ ان کا مقابلہ کرنے کی خاطر خصوصی فورس قائم ہونی چاہیے۔
درج بالا چشم کشا حقائق سے عیاں ہے کہ پاکستانی طالبان اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھنے اور اسلحہ خریدنے کی خاطر بھاری رقم کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔ اگر ان کے ذرائع آمدن زیادہ سے زیادہ محدود کردیئے جائیں، تو وہ خود بخود نیست و نابود ہونے لگیں گے۔ ان کی شدت پسندی اب تمام پاکستانیوں کے لیے زہرِ قاتل بن چکی جس کا قلع قمع کرنا بہت ضروری ہے۔
اسلحے کی کمی نہیں
تحریک پاکستان طالبان کو اپنا دائرہ کار پھیلانے میں تین عوامل سے مدد ملی... اول شروع ہی سے ان پر کاری وار نہیں کیے گئے۔ دوم انہیں پیسہ با افراط ملتا رہا۔ سوم ان کے پاس اسلحے کی بھی کمی نہیں تھی۔ افغانستان میں جاری جنگ کے باعث وسطی ایشیا کا علاقہ اسلحے کی بڑی مارکیٹ بن چکا اور وہاں ہر قسم کے ہتھیار دستیاب ہیں۔
یہی دیکھیے کہ سانحہ پشاور میں حملہ آور طالبان نے جو اسلحہ استعمال کیا وہ چار ممالک کا ساختہ تھا۔ اس اسلحے میں آر پی جی 7 راکٹ لانچر (روس)، پی کے ایم مشین گن (روس)، اے کے47- رائفل (پولینڈ)، ایم پی 5 سب مشین گن (جرمنی) اور سٹائر رائفل (آسٹریا) شامل تھا۔
پاکستانی طالبان کے پاس پیسے کی کمی نہیں ، لہٰذا وہ مہنگے سے مہنگا اسلحہ خریدنے پر قادر ہیں۔ ایک زمانے میں درہ آدم خیل مقامی اسلحے کی تیاری اور خریدو فروخت کا بڑا مرکز تھا ۔لیکن اب طالبان کے علاقوں میں چھوٹی اسلحہ ساز فیکٹریاں کھل چکیں۔ گو ان میں بنا ہوا اسلحہ زیادہ معیاری نہیں ہوتا۔ پاکستان میں صوبہ خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے راستے غیر ملکی ساختہ اسلحہ اسمگل ہوتا ہے۔ اس اسلحے میں سے کچھ تو طالبانی گروہوں کے ہاتھ چڑھتا ہے۔ کچھ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں لے اڑتی ہیں۔ باقی ہتھیار ہمارے شہروں خصوصاً کراچی، لاہور، راولپنڈی وغیرہ کا رخ کرتے ہیں۔ اسلحے کی اسمگلنگ ہی سے پاکستان میں خصوصاً چھوٹے ہتھیاروں کی کثرت ہوچکی۔
ایک رپورٹ کے مطابق ''دو ہزار پاکستانیوں'' کو صرف ایک ڈاکٹر کی سہولت میسر ہے۔ اس طرح ان کے لیے ہسپتالوں میں صرف ایک بستر موجود ہے۔ شعبہ تعلیم کا بھی برا حال ہے۔ صرف 7 فیصد پاکستانی کالج کی تعلیم حاصل کرپائے ہیں۔ لیکن ہر 100 پاکستانیوں میں سے کم از کم ''15 پاکستانی'' کوئی نہ کوئی اسلحہ ضرور رکھتے ہیں۔ ان 15 پاکستانیوں میں سے صرف 4لائسنس یافتہ اسلحے کے حامل ہیں۔
افغانستان میں امریکی یا افغان فوجیوں سے چھینا گیا اسلحہ بھی اکثر پاکستانی طالبان کے ہاتھ لگتا ہے۔ مزید برآں افغان فوجی خود بھی دولت کمانے کی خاطر اپنا اسلحہ طالبان کو بیچ ڈالتے ہیں۔ اسلحے کی ریل پیل ہونے کے باعث ہی پاکستانی طالبان جدید ترین رائفلوں کے علاوہ مشین گنیں، راکٹ لانچر، مارٹر توپیں اور طیارہ شکن توپیں رکھتے ہیں۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق پاکستانی شہروں میں طالبان اسلحے کی تجارت بھی کرتے ہیں۔ اسی تجارت کے باعث خصوصاً کراچی میں ہتھیاروں کی اتنی زیادہ کثرت ہوچکی کہ وہ کرائے پر بھی ملتا ہے۔ کراچی میں ایک نوجوان 75 روپے گھنٹہ موٹر سائیکل اور 100 تا 300 روپے فی گھنٹہ اسلحہ کرائے پر حاصل کرسکتا ہے۔ یہ نوجوان پھر سٹریٹ کرائم مثلاً چوری یا ڈاکہ ڈال کر ہزارہا روپے کمالیتا ہے۔غرض اسلحے کی ریل پیل سے پاکستانی طالبان ہی طاقتور نہیں ہوئے، بلکہ وطن عزیز میں جرائم کی شرح بھی بڑھ گئی۔ حکومت پاکستان کو غیر قانونی اسلحے کی روک تھام کرنے کے لیے جلد ازجلد موزوں اقدامات کرنے چاہئیں ورنہ یہ بلا مستقبل میں عفریت بھی بن سکتی ہے۔
شدت پسندوں کا ماضی و حال
یہ 1977ء کی بات ہے' برطانوی گلوکار اور نغمہ نگار' کیٹ اسٹیونز کا دنیائے مغرب میں طوطی بول رہا تھا۔ لاکھوں یورپی اور امریکی اسٹیونز کے گانوں کے دلداہ تھے۔ ان کے پاس دولت کی ریل پیل تھی۔ شہرت اور عزت بھی گھر کی باندیاں تھیں۔ اسی دور عروج میں اسٹیونز نے اچانک اسلام قبول کیا اور دنیائے موسیقی کو خیر باد کہہ دیا۔
ظاہر ہے' سبھی مغربی باشندے اسٹیونز کی زندگی میں انقلاب آتا دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ انہیں سمجھ نہیں آئی کہ اس آدمی کو بیٹھے بٹھائے کیا ہوا۔ اسٹیونز اب یوسف اسلام بن چکے تھے۔ ان کاکہنا تھا: ''قرآن مجید کے مطالعے سے مجھے امن و سکون نصیب ہوا۔ یہ انسان کو محبت و خیر کی طرف بلاتا ہے۔''
یہ حقیقت ہے' دنیائے مغرب میں 99 فیصد مغربی اسی لیے اسلام قبول کرتے ہیں کہ اس دین کی آغوش میں پہنچ کر انہیں امن و سکون ملتا ہے۔ تاہم واقعہ 9/11کے بعد خصوصاً مغربی میڈیا یہ تاثر ابھارنے لگا کہ اسلام اور دہشت گردی و انتہا پسندی لازم و ملزوم ہیں۔ یہ تاثر اسی لیے پیدا ہواکہ مغربی استعمار سے نبرد آزما جہادی غیر مسلح شہریوں کو بھی نشانہ بنانے لگے جو بہرحال خلاف شریعت عمل ہے۔
دین کی رو سے حملہ آوروں اور ظالموںسے لڑنے کی اجازت ہے ۔ تاہم یہ جنگ بعض شرائط اور اصولوں کے مطابق لڑی جاتی ہے۔ ایک اہم شرط یہ کہ اسلامی لشکر خواتین' بچوں اور غیر مسلح شہریوں پر حملہ آور نہیں ہو گا۔ اسلامی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ خارجیوں کے بعض فرقے پہلے گمراہ کردہ مسلمان تھے جنہوںنے اس شرعی اصول کی خلاف ورزی کی۔بنیادی وجہ ان کی شدت پسندی تھی۔ وہ جوش انتقام میں ہوش کھو بیٹھے اور مسلمانوں ہی کے بچوں' عورتوں اور شہریوں کو قتل کرنے لگے۔ اسی لیے جمہور علما نے خارجیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔
المیہ یہ ہے کہ دورحاضر میں بھی بعض اسلامی گروہ شدت پسند ہو چکے اور انہوں نے خود ساختہ اسلامی اصول وضع کر لیے۔ انہی میں پاکستانی طالبان بھی شامل ہیں جنھوں نے کچھ عرصہ قبل پشاور میں 145 معصوم بچے شہید کر ڈالے۔یہ تحریک بھی دور جدید کے ایک حیرت انگیز عجوبے سے تعلق رکھتی ہے۔اس عجوبے کی مختصر تاریخ پیش خدمت ہے۔
پندرہویں صدی میں جدید اسلحہ بنانے کے بعد یورپی طاقتیں عالم اسلام کو زیر کرنے کا سوچنے لگیں۔ تب تک مختلف اسلامی حکومتیں باہم لڑ کر کمزور ہو چکی تھیں۔ لہٰذا مغربی استعمار نے ایک ایک کر کے بیشتر اسلامی ممالک پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کئی ملکوں میں خصوصاً علما نے یورپی طاقتوں کا مقابلہ کیا جن میں امام بونجولؒ (انڈونیشیا)' حاجی شریعت اللہؒ اور ان کے بیٹے تیتو میرؒ(بنگال) ' سید محمد حسنؒ ( صومالیہ)'ٹیپو سلطانؒ، مولوی احمد اللہ شہیدؒ 'جنرل بخت خانؒ،( ہندوستان) ' عبدالقادر الجزائریؒ وغیرہ شامل ہیں۔
بیسویں صدی تک عالم اسلام کا بیشتر حصہ مغلوب ہو چکا تھا۔ اسی دوران بوجوہ یورپی طاقتوں میں جنگیں (اول ودوم) چھڑ گئیں۔ مسلمانوں کو ان سے یہ فائدہ پہنچا کہ نہ صرف کئی اسلامی ملک آزاد ہوئے بلکہ نئے بھی وجود میں آئے۔ تاہم بیشتر نو آزاد اسلامی ملکوں میں اقتدار اسی بااثر وامیر مسلم طبقے نے سنبھالا جو مغربی استعمار کے ساتھ مل کر حکومت کر رہا تھا۔ اس نے اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے تمام قومی وسائل پر قبضہ کر لیا۔ چنانچہ آزادی پاکر بھی متوسط و غریب طبقوں کی زندگیوں میں زیادہ مثبت تبدیلی نہیں آئی۔
اسی دوران اسلام میں نیا انقلاب جنم لے چکا تھا۔ مغربی استعمار کئی اسلامی ممالک میں اپنا تہذیب و تمدن متعارف کرانے میں کامیاب رہا۔ جب یہ ملک آزاد ہوئے' تو وہاں مغربی تہذیب کے پروردہ مسلمانوں اور قدامت پسندوں میں ٹکراؤ شروع ہو گیا جو روایتی رسوم و رواج کا احیا چاہتے تھے۔ دور جدید میں سعودی عرب پہلا ملک ہے جہاں اس نظریاتی کشمکش نے مسلح صورت اختیار کرلی۔
الاخوان عرب بدوؤں پر مشتمل ابن سعود کی مذہبی فوج تھی۔ شاہ ابن سعود نے اسی کی مدد سے کئی عرب علاقے فتح کیے۔ لیکن جب انہوںنے انگریزوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو الاخوانیوں کو ناگوار گزرا۔ انہوں نے خارجیوں کا نظریہ تکفیر اپناتے ہوئے ابن سعود کو کافر قرار دیا اور 1927ء میں بغاوت کر دی۔ سعودی حکومت نے بہ مشکل تمام 1933ء میں اس بغاوت کو فرو کیا۔
اس کے بعد اکثر اسلامی حکمرانوں کے پُرتعیش طرز زندگی' مغرب نوازی' قانون سے ماورا حیثیت اور آمرانہ چلن کے باعث سب سے پہلے مصر میں ''مسلح بغاوت'' نے جنم لیا۔اس بغاوت کے قائدین مثلاً محمد عبدالسلام فرج' سید امام الشریف' ایمن الظواہری'عبدالزمّر وغیرہ متوسط و غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے اسلام پسند رہنما تھے۔ان راہنماؤں نے مصری حکومت کے خلاف اپنی جنگ کو ''جہاد'' کا نام دیا اور اپنی فکرکی بنیادیں مصری فلسفی' سید محمد قطب کے نظریات پر استوار کیں۔
سید قطب کا دعویٰ ہے کہ نااہل و مغرب نواز اسلامی حکمرانوں کے خلاف لڑائی نہ صرف جہاد بلکہ فرض عین ہے۔ یوں اسلامی حکومتوں سے برگشتہ نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کا مذہبی اجازت نامہ مل گیا۔ چناں چہ درج بالامصری رہنماؤں نے 1979ء میں ''تنظیم الجہاد'' کی بنیاد رکھی۔ا کتوبر 1981میں اسی کے ارکان نے مصری صدر انور السادات کو قتل کر ڈالا۔
جب مصری حکومت نے پکڑ دھکڑ شروع کی تو الاجہادکے کئی رہنما فرار ہو کر پشاور چلے آئے۔ وہ افغان جہاد میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ اسی زمانے میں دنیا کے کونے کونے سے پُرجوش مسلما ن افغان جہاد میں حصہ لینے آتے تھے۔ مصری رہنماؤں نے اپنے نظریات کی ترویج کی اور کئی نوجوانوں کو متاثر کرنے میں کامیاب رہے۔ ان میں اسامہ بن لاد ن بھی شامل تھے جن کی مالی امداد سے ''القاعدہ'' نے جنم لیا۔
القاعدہ کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ جن اسلامی خطّوں مثلاً کشمیر' چیچنیا' بوسنیا' فلپائن' پٹانی' کوسووو وغیرہ پر غاصبوں نے قبضہ کر رکھا ہے' بذریعہ جہاد انہیں آزادی دلائی جائے۔ تب سوویت یونین جیسی سپر پاور کو شکست دینے کے بعد مجاہدین بہت جوش میںتھے۔
اگست 1990ء میں اچانک صدام حسین نے کویت پر حملہ کر دیا۔ اس کا مقابلہ کرنے کی خاطر امریکی و یورپی افواج سعودی عرب آن پہنچیں۔ اسامہ بن لادن نے ارضِ مقدس پر امریکی فوجی اڈے بنانے پر اعتراض کیا۔ اس امر پر پہلے سعودی عرب اور پھر امریکا سے ان کا تصادم شروع ہو گیا۔ چیچنیا،بوسنیا اور کوسوو میں مسلمانوں کے قتل عام نے اس لڑائی کو مزید بڑھایا۔ رفتہ رفتہ یہ تصادم اتنا بڑھا کہ مغربی دانشور چیخ اٹھے:''مغربی اور اسلامی تہذیبوں کے درمیان جنگ شروع ہو چکی۔''
القاعدہ نے دنیا بھر میں امریکی تنصیبات پر حملے کیے' تو امریکیوں نے افغانستان اور سوڈان میں جہادیوں کے ٹھکانوں پر میزائل برسائے۔ اسی صورت حال میں واقعہ 9/11رونما ہوگیا۔ اب امریکی حکومت آتشِ انتقام میں جل کر دنیا بھر میں پھیلے جہادیوں پر ٹوٹ پڑی۔
اس دوران اکثر اسلامی حکومتوں نے جہادیوں کے خلاف لڑائی میں بوجوہ امریکا کا ساتھ دیا۔ ان میں جنرل مشرف کی پاکستانی حکومت بھی شامل تھی۔ چونکہ پاکستان کے سرحدی علاقے جہادیوں کا مرکز تھے لہٰذا ہمارا وطن بھی افغانستان اور عراق کے بعد اس امریکی جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
دوران جنگ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے قبائلی علاقوں میں چھپے افغان' ازبک' چیچن' تاجک اور پاکستانی جہادیوں پر بھی حملے کیے۔ چونکہ حملوں میں انہیں پناہ دینے والے پشتون قبائل کے افراد بھی مارے گئے' سو یہ قبیلے بھی بتدریج اس جنگ کا حصّہ بن بیٹھے۔اسی اثنا میں مشرف حکومت نے جہاد کشمیر بھی ختم کر ڈالا۔ اس یوٹرن نے بھی کئی جہادی رہنماؤں کو پاکستان حکومت کا مخالف بنا دیا۔ 1985ء سے بعض مذہبی تنظیمیں فرقہ ورانہ فساد میں ملوث اور حکومت پاکستان سے برسر پیکار تھیں۔
2007ء میں حکومت پاکستان کے یہی سبھی مخالفین ''تحریک طالبان پاکستان'' کی چھتری تلے جمع ہو گئے۔یوں اسی عجوبے نے پھر جنم لیا جو پہلے سعودی عرب اور پھر مصر میں سامنے آ چکا تھا یعنی حکومت پانے کی خاطر مذہب کا سہارا لیا گیا۔تاہم یہ کوئی مربوط و منضبط اتحاد نہیں تھا بلکہ ہر تنظیم اپنا نیٹ ورک' نظریات اور مشن رکھتی تھی۔ گو اس امر پر تمام مخالفین متفق ہوئے کہ حکومت سنبھال کر وہ اپنا خود ساختہ شرعی نظام پاکستان میں نافذ کریں گے۔
عوام کو یہی تاثر ملا کہ تحریک طالبان حکومت سنبھال کر عدل و انصاف قائم کرے گی۔ غریبوں کو ان کے حقوق ملیں گے۔ قانون سب سے یکساں سلوک کرے گا۔ قومی وسائل کی تقسیم منصفانہ ہوگی۔ ملک سے کرپشن، اقربا پروری، مفاد پرستی وغیرہ کا خاتمہ ہوگا۔ غرض حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت وجود میں آئے گی ۔مگر ہوا کیا؟
ہوا یہ کہ جب سوات میں کچھ عرصہ تحریک طالبان کا اقتدار قائم ہوا تو وہ بندوق کے زور پر حکومت کرنے لگے۔ انہوں نے بے سوچے سمجھے سزائیں دے کر علاقے میں خوف و دہشت اور نفرت کا ماحول پیدا کردیا۔ نتیجتاً جب پاک فوج ان پر حملہ آور ہوئی تو عام لوگوں نے جوانوں کا خیر مقدم کیا۔ ظاہر ہے، اعتدال و نرمی حکمرانوںکی خاص صفات ہیں۔کتب تاریخ میں درج ہے،حضرت عمر فاروقؓ بہت سخت گیر تھے۔ مگر جب بارِ حکومت آپ کے کاندھوں پر پڑا، تو پہلے کی نسبت بہت نرم مزاج ہوگئے۔
پاکستانی طالبان بظاہر حکمران طبقے کی آمریت کے خلاف کھڑے ہوئے،مگر انھوں نے اپنی سرگرمیوں سے عوام ہی کو نقصان پہنچایا۔2007ء سے اب تک وہ سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہریوں پر بھی سیکڑوں حملے کر چکے۔ان کے باعث ''پچاس ہزار''پاکستانی شہید ہوئے اور ملک کو بڑا جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ اب اپنے نظریات سے غیر متفق پاکستانیوں کو کافر لہٰذا واجب القتل سمجھتے اور آیات ِقرانی کو (نعوذ باللہ)توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔
خصوصاً انتقام کی آگ میں جل کر خارجیوں کے مانند ہوش کھو بیٹھے اور دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے۔ شدت پسندی نے جس طرح خارجیوں کو نیست و نابود کیا تھا' پاکستانی طالبان کا مقدر بھی یہی عبرت انگیز انجام بن چکا ۔ان دونوں گروہوں نے اپنی دانست میں عدل وانصاف پہ مبنی حکومت بنانے کی جو راہ اپنائی،اس نے الٹا اُمت کو منتشر و پراگندہ کر ڈالا۔