جولائی تا دسمبر جاری کھاتے کا خسارہ236ارب تک پہنچ گیا

پہلی ششماہی کے دوران ترسیلات زر 7ارب 79کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 8ارب 98کروڑ 20لاکھ ڈالر رہیں۔

فنانشل اکاؤنٹ کا خسارہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں 245ملین ڈالر تھا جو رواں مالی سال بڑھ کر 2ارب 40کروڑ 20لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر 2014) کے دوران پاکستان کو درپیش جاری کھاتے (کرنٹ اکاؤنٹ) خسارے کی مالیت 2ارب 36کروڑ 20لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو جی ڈی پی کا 1.6فیصدہے، پہلی ششماہی کے دوران برآمدات کی شرح نمومنفی 2 فیصد جبکہ درآمدات کی شرح نمو 4.2 فیصد رہی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران پاکستان کے جاری کھاتوں کا خسارہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں درپیش 2ارب ڈالر کے مقابلے میں 36کروڑ 20لاکھ ڈالر زائد رہا تاہم دسمبر 2014کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 7کروڑ 60لاکھ ڈالر فاضل رہا، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی مالیت 1ارب 64کروڑ 70لاکھ ڈالر تھی، دوسری سہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کو مجموعی طور پر 71کروڑ 50 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا، نومبر کے مہینے میںکرنٹ اکاؤنٹ کو 56کروڑ 80 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا تھا۔


تاہم دسمبر کے مہینے میں ذخائر مستحکم اور توازن ادائیگی قدرے بہتر ہونے سے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مثبت ہوگیا، رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران تجارتی خسارہ 8ارب 64کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں9ارب 77کروڑ 30لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 10ارب 14کروڑ 90لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 10 ارب 96کروڑ 80لاکھ ڈالر رہا، پہلی سہ ماہی کے دوران اشیا وخدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 6ارب 52کروڑ 70لاکھ ڈالر تھا جبکہ دوسری سہ ماہی کے دوران اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 4ارب 44کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا تھا۔

پہلی ششماہی کے دوران ترسیلات زر 7ارب 79کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 8ارب 98کروڑ 20لاکھ ڈالر رہیں، فنانشل اکاؤنٹ کا خسارہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں 245ملین ڈالر تھا جو رواں مالی سال بڑھ کر 2ارب 40کروڑ 20لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔
Load Next Story