مشن ورلڈکپ پُرجوش پاکستان نے لنکا ڈھانے کی ٹھان لی
آج سیمی فائنل میں ٹکرائو، سعید اجمل اور اجنتھا مینڈس کے درمیان اسپن حکمرانی کی جنگ چھڑیگی.
کولمبو: بیٹنگ کے بعد کپتان محمد حفیظ کی ڈریسنگ روم کی جانب واپسی۔ فوٹو: اے ایف پی
DUBAI:
مشن ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں کینگروز کو ڈھیر کرنے کے بعد پُرجوش پاکستان نے اب لنکا ڈھانے کی ٹھان لی ہے۔
پہلے سیمی فائنل میں دونوں ٹیموں کا ٹکرائو جمعرات کو ہوگا، کولمبو کے آر پریما داسا اسٹیڈیم میں اسپن سپر پاورز کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، میچ پہلے رائونڈ میں استعمال ہونے والی بیٹنگ کیلیے سازگار وکٹ پر ہوگا، اسپنرز کیلیے سازگار پچ پر فاسٹ بولرزکو لائن اینڈ لینتھ برقرار رکھنے کا بھرپور صلہ مل سکتا ہے، سعید اجمل اور اجنتھا مینڈس کے درمیان اسپن حکمرانی کی جنگ چھڑے گی، میزبان سائیڈ کو ہوم اور گرین شرٹس کو کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کا ایڈوانٹیج حاصل ہوگا۔
پاکستان کی جانب سے کینگروز کو خاک چٹانے والا وننگ کمبی نیشن برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، رضاحسن سے پھر نئی گیند کے ساتھ بولنگ کا آغاز کرایا جاسکتا ہے، کپتان حفیظ نے کہاکہ ہمارے پاس سری لنکا سے بھی اچھے اسپنرز موجود ہیں، مینڈس کو قابو کرنے کیلیے خصوصی پلان تیار کرلیا، لسیتھ مالنگا اور نوان کولاسیکرا پر مشتمل پیس اٹیک کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے، آئی لینڈرز کی خوبیوں خامیوں سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ دوسری جانب سری لنکا بڑے ٹورنامنٹس کے ناک آئوٹ رائونڈ میں ہمت ہارنے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلیے پُرعزم ہے۔
کپتان مہیلا جے وردنے نے کہا کہ ہمارے پاس سلوبولرز کو اچھی طرح کھیلنے والے پلیئرز موجود ہیں، درست کمبی نیشن تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے، میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس بار ٹرافی ہماری ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیم دوسری مرتبہ ٹوئنٹی 20 چیمپئن بننے سے صرف دو فتوحات کے فاصلے پر ہے، اسے ایک بار پھر سلور ٹرافی اپنے ہاتھوں میں اٹھانے کیلیے پہلے سیمی فائنل میں سری لنکا کو راہ سے ہٹانا ہے، دونوں ٹیمیں بظاہر کاغذوں میں ایک جیسی ہی ہیں، ان کی طاقت اسپن بولنگ اور دونوں ہی کی بیٹنگ کسی بھی دن کیے کرائے پر پانی پھیر سکتی ہے، پاکستانی رواں برس جون میں سری لنکا کا دورہ کرچکی جب اسے ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم دو ٹوئنٹی 20 میچز کی سیریز برابر رہی۔
دونوں میچز ہمبنٹوٹا میں کھیلے گئے تھے، پہلے میچ میں شکست کے بعد شاہد آفریدی کے برق رفتار 52 رنز کی بدولت گرین شرٹس نے 23 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔ سپر ایٹ رائونڈ کے اپنے آخری مقابلے میں ایونٹ کی ناقابل تسخیر ٹیم آسٹریلیا کو 32 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دینے کے بعد پاکستان ٹیم کے حوصلے کافی بلندہو چکے،وننگ کمبی نیشن سے چھیڑ چھاڑ نہ کیے جانے کی امید ہے، بیٹنگ بدستور ٹیم کیلیے تشویش کا باعث ہے۔دوسری جانب سری لنکا کا ٹاپ آرڈر انتہائی مضبوط اور اس میں تلکارتنے دلشان، مہیلا جے وردنے اور کمارسنگاکارا جیسے ورلڈ کلاس بیٹسمین موجود ہیں،اگر پاکستانی بولرز کینگروز کی طرح میزبان ٹاپ آرڈر کو بھی نشانہ بنانے میں کامیاب رہے تو مڈل آرڈر سے زیادہ مزاحمت کی توقع نہیں ہے۔
اجنتھا مینڈس سری لنکا کا اہم ہتھیار ہیں مگر انھوں نے ایونٹ میں اب تک حاصل کی گئیں 9 میں سے 6 وکٹیں زمبابوے کے میچ میں لی تھیں، میزبان فاسٹ بولرز لسیتھ مالنگا اور نوان کولاسیکرا بھی کسی خطرے سے کم نہیں، خاص طور پر کولاسیکرا جون جولائی کی سیریز میں پاکستان کو کافی نقصان پہنچا چکے ہیں۔پاکستانی کپتان محمد حفیظ کو پہلے کی طرح اب بھی اپنے اسپن بولنگ اٹیک پر ہی بھروسہ ہے، انھوں نے کہاکہ ہمارے اسپنرز سری لنکا سے زیادہ بہتر جبکہ عمرگل کی صورت میں تجربہ کار پیسر کا ساتھ حاصل ہے، انھوں نے کہا کہ ہم نے اجنتھا مینڈس کو قابو کرنے کی منصوبہ بندی کرلی مگر اس بات سے بھی واقف ہیں کہ سری لنکا کے سیمرز کافی اچھے ہیں، کولاسیکرا اور مالنگا ان کیلیے کافی مفید ثابت ہوئے، حفیظ نے مزیدکہا کہ ٹی 20 نام ہی سرپرائز دینے کا ہے ہم بھی اسی کی کوشش کرتے اور زیادہ تر کامیاب رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کا میچ اس وکٹ پر کھیلا جائے گا جو ابتدائی رائونڈ میچز میں استعمال ہوئی تھی، بیٹنگ ٹریک پر ویسٹ انڈین ٹیم آسٹریلیا کے خلاف 191 رنز اسکور کرچکی جبکہ انگلینڈ نے افغانستان سے میچ میں 196 رنز بنائے تھے، البتہ بھارت سے میچ میں انگلش ٹیم 80 رنز پر آئوٹ ہوگئی تھی۔ دوسری جانب سری لنکا کا ریکارڈ بھی آئی سی سی ایونٹس میں کافی اچھا اور ٹیم گذشتہ 6 میں سے 5 بڑے ٹورنامنٹس کے سیمی فائنلز کھیل چکی،البتہ ابھی تک ٹائٹل نہیں جیت سکی ہے، واحد ورلڈ کپ فتح 1996 میں سامنے آئی تھی، مہیلا جے وردنے نے کہاکہ میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس بار ہم ٹرافی پانے میں کامیاب ہوجائیں گے، انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس اسپنرز کو کھیلنے والے کرکٹرز موجود اور اچھا کمبی نیشن تشکیل دے چکے،تمام پلیئرز اچھی پرفارمنس کیلیے بے چین ہیں۔
مشن ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں کینگروز کو ڈھیر کرنے کے بعد پُرجوش پاکستان نے اب لنکا ڈھانے کی ٹھان لی ہے۔
پہلے سیمی فائنل میں دونوں ٹیموں کا ٹکرائو جمعرات کو ہوگا، کولمبو کے آر پریما داسا اسٹیڈیم میں اسپن سپر پاورز کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، میچ پہلے رائونڈ میں استعمال ہونے والی بیٹنگ کیلیے سازگار وکٹ پر ہوگا، اسپنرز کیلیے سازگار پچ پر فاسٹ بولرزکو لائن اینڈ لینتھ برقرار رکھنے کا بھرپور صلہ مل سکتا ہے، سعید اجمل اور اجنتھا مینڈس کے درمیان اسپن حکمرانی کی جنگ چھڑے گی، میزبان سائیڈ کو ہوم اور گرین شرٹس کو کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کا ایڈوانٹیج حاصل ہوگا۔
پاکستان کی جانب سے کینگروز کو خاک چٹانے والا وننگ کمبی نیشن برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، رضاحسن سے پھر نئی گیند کے ساتھ بولنگ کا آغاز کرایا جاسکتا ہے، کپتان حفیظ نے کہاکہ ہمارے پاس سری لنکا سے بھی اچھے اسپنرز موجود ہیں، مینڈس کو قابو کرنے کیلیے خصوصی پلان تیار کرلیا، لسیتھ مالنگا اور نوان کولاسیکرا پر مشتمل پیس اٹیک کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے، آئی لینڈرز کی خوبیوں خامیوں سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ دوسری جانب سری لنکا بڑے ٹورنامنٹس کے ناک آئوٹ رائونڈ میں ہمت ہارنے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلیے پُرعزم ہے۔
کپتان مہیلا جے وردنے نے کہا کہ ہمارے پاس سلوبولرز کو اچھی طرح کھیلنے والے پلیئرز موجود ہیں، درست کمبی نیشن تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے، میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس بار ٹرافی ہماری ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیم دوسری مرتبہ ٹوئنٹی 20 چیمپئن بننے سے صرف دو فتوحات کے فاصلے پر ہے، اسے ایک بار پھر سلور ٹرافی اپنے ہاتھوں میں اٹھانے کیلیے پہلے سیمی فائنل میں سری لنکا کو راہ سے ہٹانا ہے، دونوں ٹیمیں بظاہر کاغذوں میں ایک جیسی ہی ہیں، ان کی طاقت اسپن بولنگ اور دونوں ہی کی بیٹنگ کسی بھی دن کیے کرائے پر پانی پھیر سکتی ہے، پاکستانی رواں برس جون میں سری لنکا کا دورہ کرچکی جب اسے ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم دو ٹوئنٹی 20 میچز کی سیریز برابر رہی۔
دونوں میچز ہمبنٹوٹا میں کھیلے گئے تھے، پہلے میچ میں شکست کے بعد شاہد آفریدی کے برق رفتار 52 رنز کی بدولت گرین شرٹس نے 23 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔ سپر ایٹ رائونڈ کے اپنے آخری مقابلے میں ایونٹ کی ناقابل تسخیر ٹیم آسٹریلیا کو 32 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دینے کے بعد پاکستان ٹیم کے حوصلے کافی بلندہو چکے،وننگ کمبی نیشن سے چھیڑ چھاڑ نہ کیے جانے کی امید ہے، بیٹنگ بدستور ٹیم کیلیے تشویش کا باعث ہے۔دوسری جانب سری لنکا کا ٹاپ آرڈر انتہائی مضبوط اور اس میں تلکارتنے دلشان، مہیلا جے وردنے اور کمارسنگاکارا جیسے ورلڈ کلاس بیٹسمین موجود ہیں،اگر پاکستانی بولرز کینگروز کی طرح میزبان ٹاپ آرڈر کو بھی نشانہ بنانے میں کامیاب رہے تو مڈل آرڈر سے زیادہ مزاحمت کی توقع نہیں ہے۔
اجنتھا مینڈس سری لنکا کا اہم ہتھیار ہیں مگر انھوں نے ایونٹ میں اب تک حاصل کی گئیں 9 میں سے 6 وکٹیں زمبابوے کے میچ میں لی تھیں، میزبان فاسٹ بولرز لسیتھ مالنگا اور نوان کولاسیکرا بھی کسی خطرے سے کم نہیں، خاص طور پر کولاسیکرا جون جولائی کی سیریز میں پاکستان کو کافی نقصان پہنچا چکے ہیں۔پاکستانی کپتان محمد حفیظ کو پہلے کی طرح اب بھی اپنے اسپن بولنگ اٹیک پر ہی بھروسہ ہے، انھوں نے کہاکہ ہمارے اسپنرز سری لنکا سے زیادہ بہتر جبکہ عمرگل کی صورت میں تجربہ کار پیسر کا ساتھ حاصل ہے، انھوں نے کہا کہ ہم نے اجنتھا مینڈس کو قابو کرنے کی منصوبہ بندی کرلی مگر اس بات سے بھی واقف ہیں کہ سری لنکا کے سیمرز کافی اچھے ہیں، کولاسیکرا اور مالنگا ان کیلیے کافی مفید ثابت ہوئے، حفیظ نے مزیدکہا کہ ٹی 20 نام ہی سرپرائز دینے کا ہے ہم بھی اسی کی کوشش کرتے اور زیادہ تر کامیاب رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کا میچ اس وکٹ پر کھیلا جائے گا جو ابتدائی رائونڈ میچز میں استعمال ہوئی تھی، بیٹنگ ٹریک پر ویسٹ انڈین ٹیم آسٹریلیا کے خلاف 191 رنز اسکور کرچکی جبکہ انگلینڈ نے افغانستان سے میچ میں 196 رنز بنائے تھے، البتہ بھارت سے میچ میں انگلش ٹیم 80 رنز پر آئوٹ ہوگئی تھی۔ دوسری جانب سری لنکا کا ریکارڈ بھی آئی سی سی ایونٹس میں کافی اچھا اور ٹیم گذشتہ 6 میں سے 5 بڑے ٹورنامنٹس کے سیمی فائنلز کھیل چکی،البتہ ابھی تک ٹائٹل نہیں جیت سکی ہے، واحد ورلڈ کپ فتح 1996 میں سامنے آئی تھی، مہیلا جے وردنے نے کہاکہ میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس بار ہم ٹرافی پانے میں کامیاب ہوجائیں گے، انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس اسپنرز کو کھیلنے والے کرکٹرز موجود اور اچھا کمبی نیشن تشکیل دے چکے،تمام پلیئرز اچھی پرفارمنس کیلیے بے چین ہیں۔