آئندہ دنیا کے امن کو خطرہ بین الاقوامی تنازعات سے ہوگا عالمی اقتصادی فورم

2015 گزرے برسوں کی طرح نہیں دکھائی دیتا، عالمی اقتصادی فورم کی تجزیاتی رپورٹ

عالمی سطح پر درپیش آنیوالے خطرات کی 5کیٹیگریزاقتصادی، ماحولیاتی، جیوپولیٹیکل، معاشرتی اور ٹیکنیکل ہیں، گلوبل رسکس رپورٹ کااجرا. فوٹو؛ فائل

PESHAWAR:
عالمی اقتصادی فورم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آئندہ عشرے میں دنیا کے امن و استحکام کو زیادہ خطرہ بین الاقوامی تنازعات سے ہوگا۔


عالمی اقتصادی فورم کی طرف سے عالمی سطح پرخطرات کے بارے میں جاری گلوبل رسکس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید موسمیاتی واقعات بھی بڑامسئلہ ہے۔ رپورٹ میں عالمی سطح پر درپیش آنے والے خطرات کا 5 کیٹیگریز میں تجزیہ کیا گیا ہے۔ ان میں اقتصادی، ماحولیاتی، جیوپولیٹیکل، معاشرتی اور ٹیکنیکل کیٹیگریز شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 5 سال کے دوران دنیا بھر کے منظر نامے میں زیادہ جیوپولیٹیکل (ارضیاتی سیاسی) تنازعات رونما نہیں ہوئے اور 2015 ان برسوں کی طرح نہیں دکھائی دیتا۔ دیواربرلن گرائے جانے کے تقریباً 25 سال بعد اب دنیا کو دوبارہ ریاستوں کے مابین بڑے بڑے تنازعات پیدا ہونے کے خطرات کا سامنا ہے تاہم آج کل اس قسم کے تنازعات کا دائرہ خواہ وہ سائبرحملوں، وسائل کی مسابقت، پابندیوں اوردیگر اقتصادی عوامل کی وجہ سے پیدا ہوئے ہوں، پہلے سے زیادہ وسیع ہے۔

اب عالمی سطح پرہماری اولین ترجیح ہے کہ 2015میں ان تمام ممکنہ محرکات کوحل کرنے اورمسابقت کے بجائے عالمی شراکت داری ہونی چاہیے۔ رپورٹ میں دنیا بھر پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے پانی کے بحرانوں کوسب سے بڑا درپیش خطرہ قرار دیا گیا ہے جبکہ ریاستوںکے مابین تنازعات، شدید موسمیاتی واقعات، حکومتوں کی ناکامیوں، آب وہوا کی تبدیلیوں، پانی کے بحرانوں، سائبر حملوں، بے روزگاری، اعدادوشمار میں جعلسازی یاان کی چوری جیسے خطرے اب بھی درپیش آسکتے ہیں۔ عالمی سطح پر درپیش خطرات کے اثرات میں پانی کے بحران، انفیکشن والی بیماریوں کا پھیلائو، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار، ممالک کے مابین تنازعات، آب وہوا کی تبدیلیوں کی روک تھام میں ناکامی، توانائی، انفارمیشن کے ڈھانچوںکی توڑپھوڑ، مالی بحران، بے روزگاری، حیاتیاتی تنوع سے محرومی اورایکوسسٹم (حیاتیاتی ماحول کے نظام)کی تباہی شامل ہیں۔
Load Next Story