رقص سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں نمرین بٹ
اعضاء سے شاعری کرنا بے حد مشکل کام ہے لیکن اس پرمہارت کے لیے شب و روز ریاضت کا سلسلہ جاری ہے، نمرین بٹ
رقص کی مختلف اقسام اس وقت نوجوانوں میں مقبول ہے لیکن اپنے خطے کی عکاسی کرتا رقص کرنا میری اولین ترجیح ہے، نمرین بٹ۔ فوٹو: ایم افضل
معروف ماڈل اور رقاصہ نمرین بٹ نے کہا ہے کہ رقص کی بدولت دنیا بھرمیں پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اعضاء سے شاعری کرنا بے حد مشکل کام ہے لیکن اس پرمہارت کے لیے شب و روز ریاضت کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری اور نجی چینلز کے پروگراموں میں پرفارم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک بھی پاکستان کی نمائندگی کرتی ہوں۔ ان خیالات کا اظہار نمرین بٹ نے ''ایکسپریس'' سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے بچپن سے ہی رقص سے بہت لگاؤ تھا' میری خواہش تھی کہ میں اس شعبے میں منفرد پہچان بناؤں لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ رقص جیسے آسان دِکھنے والے فن کی باریکیوں کو سمجھنا کس قدرمشکل ہے۔ میں نے اپنے کیرئیر کے دوران ماڈلنگ بھی کی ہے اورایکٹنگ کا بھی موقع ملا ہے لیکن رقص کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔
ایک رقاص کوجب تک سُر، لَے کی سمجھ نہیں ہوتی، اس وقت تک وہ بہتر رقاص نہیں بن سکتا خاص طور پر کلاسیکی رقص تو اس کے بنا ادھورا ہے۔ میں نے بھی جب اس شعبے میں قدم رکھا تومجھے اپنی خامیوں کا پتہ چلنے لگا مگر میں نے اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیے باقاعدہ پروفیشنل اساتذہ کی خدمات حاصل کیں۔ کئی کئی گھنٹوں کی ریاضت کے بعد آج مجھے رقص کے شعبے میں ایک منفرد پہچان ملی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں رقص کے حوالے سے منعقدہ پروگراموں میں پرفارم کر چکی ہوں، اس کے علاوہ بیرون ممالک بھی اپنی پرفارمنس سے خوب داد سمیٹی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں نمرین بٹ نے بتایاکہ رقص کی مختلف اقسام اس وقت نوجوانوں میں مقبول ہے لیکن اپنے خطے کی عکاسی کرتا رقص کرنا میری اولین ترجیح ہے۔ ڈانس کی مغربی اقسام بھی سیکھ رکھی ہیں لیکن دیارغیر میں جب تک ہم اپنا کلاسک رقص پیش نہیں کرتے اس وقت تک کوئی ہمیں داد نہیں دیتا۔ اس لیے میں نوجوانوں کو بھی یہی مشورہ دوں گی کہ وہ اس شعبے کوضروراپنائیں لیکن اپنی منفرد پہچان بنانے کے لیے کچھ ایسا کام کریں جوسب سے الگ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اعضاء سے شاعری کرنا بے حد مشکل کام ہے لیکن اس پرمہارت کے لیے شب و روز ریاضت کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری اور نجی چینلز کے پروگراموں میں پرفارم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک بھی پاکستان کی نمائندگی کرتی ہوں۔ ان خیالات کا اظہار نمرین بٹ نے ''ایکسپریس'' سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے بچپن سے ہی رقص سے بہت لگاؤ تھا' میری خواہش تھی کہ میں اس شعبے میں منفرد پہچان بناؤں لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ رقص جیسے آسان دِکھنے والے فن کی باریکیوں کو سمجھنا کس قدرمشکل ہے۔ میں نے اپنے کیرئیر کے دوران ماڈلنگ بھی کی ہے اورایکٹنگ کا بھی موقع ملا ہے لیکن رقص کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔
ایک رقاص کوجب تک سُر، لَے کی سمجھ نہیں ہوتی، اس وقت تک وہ بہتر رقاص نہیں بن سکتا خاص طور پر کلاسیکی رقص تو اس کے بنا ادھورا ہے۔ میں نے بھی جب اس شعبے میں قدم رکھا تومجھے اپنی خامیوں کا پتہ چلنے لگا مگر میں نے اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیے باقاعدہ پروفیشنل اساتذہ کی خدمات حاصل کیں۔ کئی کئی گھنٹوں کی ریاضت کے بعد آج مجھے رقص کے شعبے میں ایک منفرد پہچان ملی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں رقص کے حوالے سے منعقدہ پروگراموں میں پرفارم کر چکی ہوں، اس کے علاوہ بیرون ممالک بھی اپنی پرفارمنس سے خوب داد سمیٹی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں نمرین بٹ نے بتایاکہ رقص کی مختلف اقسام اس وقت نوجوانوں میں مقبول ہے لیکن اپنے خطے کی عکاسی کرتا رقص کرنا میری اولین ترجیح ہے۔ ڈانس کی مغربی اقسام بھی سیکھ رکھی ہیں لیکن دیارغیر میں جب تک ہم اپنا کلاسک رقص پیش نہیں کرتے اس وقت تک کوئی ہمیں داد نہیں دیتا۔ اس لیے میں نوجوانوں کو بھی یہی مشورہ دوں گی کہ وہ اس شعبے کوضروراپنائیں لیکن اپنی منفرد پہچان بنانے کے لیے کچھ ایسا کام کریں جوسب سے الگ ہو۔