کراچی سے 20لاکھ افغان مہاجرین کو نکالنے کا فیصلہ کرلیا گیا

غیر قانونی افغانی باشندوں کے خلاف آپریشن جلد شروع کیا جائے گا

شہر میں ہونے والی جرائم کی وارداتوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان اور دیگر ممالک کے باشندے ملوث ہیں. فوٹو؛ فائل

MILWAUKEE, WI, US:
سندھ حکومت نے کراچی میں غیر قانونی طور پرمقیم 20لاکھ افغان مہاجرین کو نکالنے کیلیے اہم فیصلہ کرلیا۔


ان غیر قانونی افغانی باشندوں کے خلاف آپریشن جلد شروع کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے رپورٹ میں کہا کہ شہر میں ہونے والی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، لوٹ مار اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان اور دیگر ممالک کے باشندے ملوث ہیں،خاص طور پر شہر میں افغانیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو امن خراب کرنے کی سرگرمیاں کررہے ہیں۔ رپورٹ ملنے کے بعد افغانیوں کو شہر سے نکالنے اور ان کے خلاف آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو قومی ایکشن پلان کا حصہ بنانے کے فیصلے کے بعد اب آپریشن کا سلسلہ صوبے بھر میں یونین کونسل سطح تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

اس ضمن میں حتمی اعلان پیر کو کراچی میں وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے غیر معمولی اجلاس میں کیا جائے گا۔ اجلاس کے متعلق وزیر اعلیٰ سندھ نے تفصیلی بریفنگ تیار کرنے کے احکام جاری کر دیے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے قومی ایکشن پلان پر عملدر آمد کو موثر بنانے کیلیے چاروں صوبائی حکومتوں سے بھر پور تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں غیر قانونی اسلحے کے خلاف بھی آپریشن تیز کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ سندھ میں پہلے مرحلے میں تمام کالعدم تنظیموں اور اس نوعیت کے دیگر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں کا کراچی، حیدر آباد، سکھر، نواب شاہ، میرپور خاص اور دیگر بڑے شہروں میں بھی نیٹ ورک موجود ہے اس لیے قومی ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں، غیر قانونی اسلحہ، تارکین وطن اور مفرور ملزمان کے لیے صوبے بھر میں یونین کونسل سطح تک آپریشن کی منصوبہ بندی اور مرحلہ وار عملدر آمد کیا جائے گا۔
Load Next Story