مشرق وسطیٰ کے لیے جاپان کی امداد
شام میں ہونے والی خانہ جنگی میں مارچ 2011ء سے لے کر اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اگر عراق اور شام میں مستحکم حکومتیں ہوتیں تو آئی ایس کبھی وجود میں نہ آتی اور داعش بھی اتنی طاقتور نہ ہوتی جتنی کہ وہ آج ہے۔فوٹو : فائل
FAISALABAD:
جاپانی وزیر اعظم شنزو ایبے نے مشرق وسطیٰ میں انسانی بنیادوں پر تعمیر و ترقی کے لیے 2.5 ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم ایبے نے یہ اعلان قاہرہ میں صدر عبدالفتح السیسی سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ جاپانی وزیراعظم مشرق وسطیٰ کے دورے میں اردن اور اسرائیل بھی جائیں گے وزیراعظم ایبے کا کہنا ہے کہ اسلامی ریاست (آئی ایس) تنظیم کے عراق اور شام میں خون آشام توسیعی اقدامات سے ان ممالک کو جو نقصان ہوا ہے اس کے مداوے کے لیے انھیں 200 ملین ڈالر کی غیر فوجی امداد دی جائے گی کیونکہ ان ممالک سے لاکھوں افراد نے ہجرت کر کے پڑوسی ممالک میں پناہ حاصل کرلی ہے۔
جاپانی امداد ان ممالک کے انفرااسٹرکچر کو درست کرنے میں استعمال کی جائے گی جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔ قاہرہ میں مصری سیاستدانوں اور بزنس کمیونٹی سے ملاقات میں جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ جاپان پناہ گزینوں کی انسانی ہمدردی کے تحت امداد میں مزید اضافہ کر دے گا۔ مصری حکام نے بتایا ہے کہ جاپانی امداد کا بڑا حصہ ان پڑوسی ممالک کو دیا جائے گا جہاں پناہ حاصل کرنے والوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی ہے۔ 2.5 ارب ڈالر کی امداد کا کچھ حصہ مصر میں توانائی کے وسائل کو ترقی دینے میں بھی استعمال ہو گا۔
ادھر اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آیندہ چند ماہ میں شام سے بے دخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد سوا چالیس لاکھ سے تجاوز کر جائے گی جن کی تعداد اب تک 30 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ شام میں ہونے والی خانہ جنگی میں مارچ 2011ء سے لے کر اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ملک کی آدھی آبادی بے گھر ہو کر در بدر ہو چکی ہے۔ پناہ گزینوں کی زیادہ تعداد لبنان، ترکی اور اردن کی طرف ہجرت کر رہی ہے۔ عراق اور شام میں جو کچھ ہو رہا ہے، ترقی یافتہ ممالک بھی اس کے کسی حد تک ذمے دار ہیں۔
اگر عراق اور شام میں مستحکم حکومتیں ہوتیں تو آئی ایس کبھی وجود میں نہ آتی اور داعش بھی اتنی طاقتور نہ ہوتی جتنی کہ وہ آج ہے۔ ترقی یافتہ ممالک خصوصاً امریکا اور یورپی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے پہلے عراق میں عدم استحکام پیدا کیا، وہاں انتظامی اور دفاعی نظام ختم ہوا تو جنگجو گروپ طاقتور ہوگئے، شام میں بھی بشار حکومت کمزور ہوئی اور اس کی رٹ ختم ہوئی تو داعش نے عراق اور شام میں اثرونفوذ بڑھا لیا، اب جب عراق اور شام میں انسانی المیے جنم لے رہے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہیں تو ترقی یافتہ ممالک امداد دے رہے ہیں، یہ امداد بھی ایک اچھا کام ہے لیکن زیادہ ضروری یہ ہے کہ عراق و شام میں امن قائم کرنے کی راہ نکالی جائے۔
جاپانی وزیر اعظم شنزو ایبے نے مشرق وسطیٰ میں انسانی بنیادوں پر تعمیر و ترقی کے لیے 2.5 ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم ایبے نے یہ اعلان قاہرہ میں صدر عبدالفتح السیسی سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ جاپانی وزیراعظم مشرق وسطیٰ کے دورے میں اردن اور اسرائیل بھی جائیں گے وزیراعظم ایبے کا کہنا ہے کہ اسلامی ریاست (آئی ایس) تنظیم کے عراق اور شام میں خون آشام توسیعی اقدامات سے ان ممالک کو جو نقصان ہوا ہے اس کے مداوے کے لیے انھیں 200 ملین ڈالر کی غیر فوجی امداد دی جائے گی کیونکہ ان ممالک سے لاکھوں افراد نے ہجرت کر کے پڑوسی ممالک میں پناہ حاصل کرلی ہے۔
جاپانی امداد ان ممالک کے انفرااسٹرکچر کو درست کرنے میں استعمال کی جائے گی جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔ قاہرہ میں مصری سیاستدانوں اور بزنس کمیونٹی سے ملاقات میں جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ جاپان پناہ گزینوں کی انسانی ہمدردی کے تحت امداد میں مزید اضافہ کر دے گا۔ مصری حکام نے بتایا ہے کہ جاپانی امداد کا بڑا حصہ ان پڑوسی ممالک کو دیا جائے گا جہاں پناہ حاصل کرنے والوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی ہے۔ 2.5 ارب ڈالر کی امداد کا کچھ حصہ مصر میں توانائی کے وسائل کو ترقی دینے میں بھی استعمال ہو گا۔
ادھر اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آیندہ چند ماہ میں شام سے بے دخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد سوا چالیس لاکھ سے تجاوز کر جائے گی جن کی تعداد اب تک 30 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ شام میں ہونے والی خانہ جنگی میں مارچ 2011ء سے لے کر اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ملک کی آدھی آبادی بے گھر ہو کر در بدر ہو چکی ہے۔ پناہ گزینوں کی زیادہ تعداد لبنان، ترکی اور اردن کی طرف ہجرت کر رہی ہے۔ عراق اور شام میں جو کچھ ہو رہا ہے، ترقی یافتہ ممالک بھی اس کے کسی حد تک ذمے دار ہیں۔
اگر عراق اور شام میں مستحکم حکومتیں ہوتیں تو آئی ایس کبھی وجود میں نہ آتی اور داعش بھی اتنی طاقتور نہ ہوتی جتنی کہ وہ آج ہے۔ ترقی یافتہ ممالک خصوصاً امریکا اور یورپی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے پہلے عراق میں عدم استحکام پیدا کیا، وہاں انتظامی اور دفاعی نظام ختم ہوا تو جنگجو گروپ طاقتور ہوگئے، شام میں بھی بشار حکومت کمزور ہوئی اور اس کی رٹ ختم ہوئی تو داعش نے عراق اور شام میں اثرونفوذ بڑھا لیا، اب جب عراق اور شام میں انسانی المیے جنم لے رہے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہیں تو ترقی یافتہ ممالک امداد دے رہے ہیں، یہ امداد بھی ایک اچھا کام ہے لیکن زیادہ ضروری یہ ہے کہ عراق و شام میں امن قائم کرنے کی راہ نکالی جائے۔