دہشت گردی اور پاک افغان تعاون
پاکستان دہشتگردوں کےخلاف لڑائی میں جس مرحلےمیں داخل ہوگیا ہےاس میں افغانستان کی حکومت کاکردارانتہائی اہمیت کاحامل ہے۔
افغانستان میں کئی ایسے دہشت گرد گرفتار ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ فوٹو: فائل
امریکا نے پاکستان اور افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ مل کر دہشت گردوں کو پکڑیں اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ امریکا کے محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں، یہ کیسے ہو گا، ہمیں یہ دیکھنا ہو گا لیکن یقینی طور پر یہ کام بہت اہم ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جو کچھ کہا ہے وہ حالات کا تقاضا ہے تاہم اس معاملے میں امریکا کا اپنا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکا کا اتحادی ہے۔ افغانستان میں اتحادی فوجیں ابھی تک موجود ہیں۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کو پکڑنے میں امریکا کو بھی پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ حقائق کو سامنے رکھا جائے تو اس جنگ میں جنوبی ایشیا سے وسط ایشیا تک پاکستان کا کردار سب سے بہتر ہے۔
پاکستان دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں جس مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، اس میں افغانستان کی حکومت کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کے ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہیں۔ امریکا اور افغانستان کو بھی اس حقیقت کا لازمی علم ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس نے پاکستان میں گرفتار کئی لوگوں کو افغانستان کے حوالے کیا ہے، اس کے برعکس افغانستان نے پاکستان کے مجرموں کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے نہیں کیا۔ مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھی افغانستان میں موجود ہیں۔ سانحہ پشاور کی ذمے داری بھی وہ قبول کر چکے ہیں۔
افغانستان کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف حقیقی معنوں میں آپریشن کرے یا انھیں گرفتار کرے۔ پاک فوج کے ذمے داران کابل کا دورہ کر چکے ہیں۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی پاکستان تشریف لائے۔ یہ اچھی پیش رفت ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان میری ہارف نے تسلیم کیا ہے کہ کابل میں مغربی ممالک کے سفارتکاروں نے کہا ہے کہ پشاور سانحہ کے بعد افغانستان اور پاکستان نے ،غیر مثالی تعاون، کا مظاہرہ کیا۔ افغانستان میں کئی ایسے دہشت گرد گرفتار ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کو فوری طور پر پاکستان کے حوالے کرے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون عملی شکل میں سامنے آئے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔ اگر دونوں ملک حقیقی معنوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کر کے دہشت گردوں کی آخری پناہ گاہ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب افغان حکومت پاکستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں بھرپور آپریشن کرے تو دہشت گردوں کے لیے بھاگنے کے لیے کوئی جگہ نہیں بچے گی۔ اس حوالے سے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کا تعاون بھی انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان افغانستان اور اتحادی فوج مشترکہ طور پر اپنے اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں تو اس علاقے سے دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ افغان حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کرے۔ پاکستان میں بہت سی خرابیوں کی وجہ افغان مہاجرین ہیں۔ اگر افغان حکومت اپنے باشندوں کو واپس لے اور ان کی آبادکاری کے لیے رقم مختص کر دے تو پاکستان میں حالات خاصی حد تک بہتر ہو جائیں گے۔ پاکستان میں تو غیر قانونی طور پر رہائش پذیر اور غیر قانونی طور پرپاکستان میں داخل ہونے والے افغان باشندوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے لیکن ایسی اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ اس کے باوجود افغان باشندوں کی پاکستان میں غیر قانونی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سلسلہ اسی وقت رک سکتا ہے جب پاک افغان سرحد کو سیل کیا جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کی حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔
پاکستان اور افغانستان کی طویل سرحد ہے۔ بہت سے ایسے خفیہ مقامات بھی ہیں جہاں سے بآسانی آمدورفت ہو سکتی ہے۔ حکومت پاکستان اس حوالے سے اقدامات کر بھی رہی ہے لیکن اسے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاک افغان سرحد کے راستے صرف انھی افغان باشندوں کے لیے کھلنے چاہئیں جن کے پاس قانونی دستاویزات ہوں۔ اس حوالے سے پاکستان آنے والوں کی ایک تعداد بھی مقرر ہونی چاہیے تاکہ اس مقررہ تعداد سے زیادہ لوگ پاکستان میں داخل ہی نہ ہو سکیں۔ افغان حکومت کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
غیر قانونی آمدورفت دونوں ملکوں کے لیے مسائل کاباعث ہے۔ دونوں ملکوں میں سفر کے لیے اگر ہوائی سفر کو ترجیح دی جائے تب ہی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ بہر حال حالات نے دونوں ملکوں کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ خوش آئند تبدیلی ہے اور اس کے آنے والے وقت میں مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ اگر دونوں ملک حقیقی معنوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں تو اس خطے سے دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جو کچھ کہا ہے وہ حالات کا تقاضا ہے تاہم اس معاملے میں امریکا کا اپنا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکا کا اتحادی ہے۔ افغانستان میں اتحادی فوجیں ابھی تک موجود ہیں۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کو پکڑنے میں امریکا کو بھی پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ حقائق کو سامنے رکھا جائے تو اس جنگ میں جنوبی ایشیا سے وسط ایشیا تک پاکستان کا کردار سب سے بہتر ہے۔
پاکستان دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں جس مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، اس میں افغانستان کی حکومت کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کے ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہیں۔ امریکا اور افغانستان کو بھی اس حقیقت کا لازمی علم ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس نے پاکستان میں گرفتار کئی لوگوں کو افغانستان کے حوالے کیا ہے، اس کے برعکس افغانستان نے پاکستان کے مجرموں کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے نہیں کیا۔ مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھی افغانستان میں موجود ہیں۔ سانحہ پشاور کی ذمے داری بھی وہ قبول کر چکے ہیں۔
افغانستان کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف حقیقی معنوں میں آپریشن کرے یا انھیں گرفتار کرے۔ پاک فوج کے ذمے داران کابل کا دورہ کر چکے ہیں۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی پاکستان تشریف لائے۔ یہ اچھی پیش رفت ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان میری ہارف نے تسلیم کیا ہے کہ کابل میں مغربی ممالک کے سفارتکاروں نے کہا ہے کہ پشاور سانحہ کے بعد افغانستان اور پاکستان نے ،غیر مثالی تعاون، کا مظاہرہ کیا۔ افغانستان میں کئی ایسے دہشت گرد گرفتار ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کو فوری طور پر پاکستان کے حوالے کرے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون عملی شکل میں سامنے آئے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔ اگر دونوں ملک حقیقی معنوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کر کے دہشت گردوں کی آخری پناہ گاہ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب افغان حکومت پاکستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں بھرپور آپریشن کرے تو دہشت گردوں کے لیے بھاگنے کے لیے کوئی جگہ نہیں بچے گی۔ اس حوالے سے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کا تعاون بھی انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان افغانستان اور اتحادی فوج مشترکہ طور پر اپنے اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں تو اس علاقے سے دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ افغان حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کرے۔ پاکستان میں بہت سی خرابیوں کی وجہ افغان مہاجرین ہیں۔ اگر افغان حکومت اپنے باشندوں کو واپس لے اور ان کی آبادکاری کے لیے رقم مختص کر دے تو پاکستان میں حالات خاصی حد تک بہتر ہو جائیں گے۔ پاکستان میں تو غیر قانونی طور پر رہائش پذیر اور غیر قانونی طور پرپاکستان میں داخل ہونے والے افغان باشندوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے لیکن ایسی اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ اس کے باوجود افغان باشندوں کی پاکستان میں غیر قانونی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سلسلہ اسی وقت رک سکتا ہے جب پاک افغان سرحد کو سیل کیا جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کی حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔
پاکستان اور افغانستان کی طویل سرحد ہے۔ بہت سے ایسے خفیہ مقامات بھی ہیں جہاں سے بآسانی آمدورفت ہو سکتی ہے۔ حکومت پاکستان اس حوالے سے اقدامات کر بھی رہی ہے لیکن اسے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاک افغان سرحد کے راستے صرف انھی افغان باشندوں کے لیے کھلنے چاہئیں جن کے پاس قانونی دستاویزات ہوں۔ اس حوالے سے پاکستان آنے والوں کی ایک تعداد بھی مقرر ہونی چاہیے تاکہ اس مقررہ تعداد سے زیادہ لوگ پاکستان میں داخل ہی نہ ہو سکیں۔ افغان حکومت کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
غیر قانونی آمدورفت دونوں ملکوں کے لیے مسائل کاباعث ہے۔ دونوں ملکوں میں سفر کے لیے اگر ہوائی سفر کو ترجیح دی جائے تب ہی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ بہر حال حالات نے دونوں ملکوں کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ خوش آئند تبدیلی ہے اور اس کے آنے والے وقت میں مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ اگر دونوں ملک حقیقی معنوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں تو اس خطے سے دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔