گستاخانہ خاکے اور آزادی اظہار کی حد

ایک بنیادی حقیقت جو فرانسیسی ارباب اختیار کو پیش نظر رکھنی چاہیے وہ صحافتی حدود اور اخلاقی دائرہ ہے۔

فرانس آزادی، مساوات،اور انسانی حقوق کا چیمپئن ہونے کا دعویدار ہے مگر چارلی ایبڈو کے غیر ذمے دارانہ طرز عمل کو آزادی اظہار سے نتھی کرتا ہے، فوٹو : اے ایف پی

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف مغربی میڈیا شدید رد عمل اور اسلاموفوبیا کے افسوس ناک مراحل سے گزر رہا ہے ، سیاسی ،حکومتی ، صحافتی اور علمی سطح پر یورپ میں چارلی ایبڈو کی پالیسی کی مذمت بھی جاری ہے اور ساتھ ساتھ آزادی اظہار کے نام پر مذاہب اور خصوصاً اسلام اور مسلم دنیا کے سیاسی ، سماجی اور مذہبی معاملات پر اشتعال انگیز ، نفرت آمیز اور دلآزاری پر مبنی مواد کی اشاعت و ٹیلی کاسٹ کے حوالے سے ایک بحث چھڑ گئی ہے ، جب کہ اس گستاخی کے خلاف معذرت نہ کیے جانے کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاجی لہر میں مزید شدت آرہی ہے، جو فطری ہے اور جس کا فوری ادراک مغربی اور یورپی صحافتی حلقوں اور میڈیا کے مین اسٹریم کو کرنا چاہیے۔

ادھر فرانس نے جریدے چارلی ایبڈوکے خلاف دنیا بھر میں پرتشدد احتجاج اور نائیجر میں چرچ جلائے جانے کی مذمت کی ہے اور اظہار رائے کی آزادی کیلیے اپنے دعویٰ کو دہرایا ہے۔ نائیجرمیں توہین آمیز خاکوںکے خلاف احتجاج گزشتہ روز بھی جاری رہا جہاں دارالحکومت میں ہزاروں لوگوں نے توہین آمیز خاکے چھاپنے کے خلاف مارچ کیا، ان کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں اور7 افراد کوگرفتار کر لیا گیا ۔ اسی دوران ایک اور چرچ کو بھی نذرآتش کردیا گیا جس کے بعد ابتک جلائے جانے والے چرچوں کی تعداد8ہوگئی جب کہ5 افرادبھی مارے گئے۔ایک بنیادی حقیقت جو فرانسیسی ارباب اختیار کو پیش نظر رکھنی چاہیے وہ صحافتی حدود اور اخلاقی دائرہ ہے جس میں ذمے دارانہ طرز عمل کو میڈیا کا اصل حسن کہا گیا ہے۔


فرانس آزادی، مساوات،اور انسانی حقوق کا چیمپئن ہونے کا دعویدار ہے مگر چارلی ایبڈو کے غیر ذمے دارانہ طرز عمل کو آزادی اظہار سے نتھی کرتا ہے ، فرانس کے وزیرخارجہ نے پرتشدد احتجاج کی مذمت کی تاہم فرانسیسی صدراولاندے کی ہٹ دھرمی بھی برقرار ہے، انھوں نے اصرار کیا کہ اظہار رائے کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ دوسرے لفظوں میں فرانس توہین آمیز اور اشتعال انگیز مواد کوکلین چٹ دیکر یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ مذہبی دلآزاری چارلی ایبڈو کا استحقاق ہے ، جب کہ اتوار کو جاری ایک سروے رپورٹ کے مطابق42فیصد فرانسیسی شہریوں نے ان خاکوں کی اشاعت کی مخالفت کی جب کہ50 فیصد نے قرار دیا کہ اظہار رائے کی آزادی کی حدود بھی ہونی چاہئیں۔

ادھرایران کی ایک عدالت نے مردم امروز نامی اخبارکو اداکار جارج کلونی کی ایسی تصویر شایع کرنے پر بند کرنے کا حکم دیا ہے جس میں کلونی وہ بیج لگائے ہوئے ہیں جس پر 'جے سو چارلی' یعنی 'میں چارلی ہوں'درج ہے۔ امریکا کے معتبر اخبار ''نیو یارک ٹائمز''نے چارلی ایبڈو اور فرانسیسی صحافت اور حکومتی رویے پر اپنے اداریے میں آزادی اظہار کی قانونی اور اخلاقی حدود کا ذکر کیا ہے اور توہین آمیزخاکوں کی اشاعت کو یورپی میڈیا کے دوہرے معیار سے تعبیر کیا ہے،اور اس استدلال پر حوالتاً کہا کہ چارلی ایبڈو کا عملہ اس سانحہ کا خود ذمے دار ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ مذکورہ جریدہ میں ایسے وقت میں جب فرانس سمیت پورے یورپ میں مسلمان مخالف جذبات شدت پر ہیں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت مناسب نہ تھی۔ تاہم امید کی جانی چاہیے کہ فرانس کو آزادی اظہار کے قوانین پر سختی سے عمل کرنا چاہیے اور جس مادر پدر آزاد رسالہ کو ''غیر ذمے دارانہ جرنل''کہنے پر فرانسیسی اہل صحافت فخر کرتے ہیں انھیں آزادی اظہار کی حدود کا احترام کرنا ہوگا۔ عالم اسلام اپنے پیارے نبیؐ کی شان میں گستاخی کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔
Load Next Story