کراچی میں قتل و غارت کا بازار پھر گرم
شہر کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل سواروں کے ذریعے کریکر اور دستی بم پھینکنے کے واقعات بھی تشویشناک ہیں۔
متحدہ کے قائد الطاف حسین کا یہ بیان بھی چشم کشا ہے کہ بے گناہ شہریوں کو قتل کیا جارہا ہے، سندھ حکومت قیام امن میں مکمل ناکام ہوگئی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
شہر ناپرساں کراچی میں قتل و غارت کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے، شہر میں فائرنگ اور پرتشدد واقعات کے دوران 2 اعلیٰ سرکاری افسران، ڈاکٹر اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے۔ گزشتہ روز وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن اقبال کیمپس کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے ڈپٹی ڈائریکٹرلینڈ کے ایم سی طلعت یوسف اور ڈائریکٹر نیشنل ہائی وے اتھارٹی سہیل یوسف بھٹی جاں بحق ہوگئے۔ طلعت یوسف روزنامہ ایکسپریس کے رپورٹر زبیر نذیر خان کے بڑے بھائی تھے، حالیہ دنوں میں وہ لیاری ایکسپریس وے پروجیکٹ پر کام کررہے تھے۔
ایف بی ایریا کے رہائشی ڈاکٹر فاروق احمد کو گلبرگ میں ان کے کلینک کے باہر قتل کردیا گیا، جب کہ ناظم آباد گول مارکیٹ کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔ دیگر واقعات کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل سواروں کے ذریعے کریکر اور دستی بم پھینکنے کے واقعات بھی تشویشناک ہیں۔ اتوار کو لیاری کی خواتین نے گینگ وار لیڈروں کے خلاف احتجاج کیا اور سزا کا مطالبہ کیا،لیاری میں بدامنی کا سب سے بڑا سبب وہاں سیاسی چپقلش اور گینگ وار کی لڑائیاں ہیں۔
متحدہ کے قائد الطاف حسین کا یہ بیان بھی چشم کشا ہے کہ بے گناہ شہریوں کو قتل کیا جارہا ہے، سندھ حکومت قیام امن میں مکمل ناکام ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز کے پاس اتنی تعداد نہیں ہے کہ ہر گلی اور محلے میں تعینات کیا جاسکے۔ شہری اپنی حفاظت کیلیے ہر گلی اور محلے کی سطح پر کمیٹیاں بنائیں اور راستوں پر حفاظتی بیریئر لگائے جائیں۔ شہریوں کی حفاظت کیلیے راست اقدامات کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔
ایف بی ایریا کے رہائشی ڈاکٹر فاروق احمد کو گلبرگ میں ان کے کلینک کے باہر قتل کردیا گیا، جب کہ ناظم آباد گول مارکیٹ کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔ دیگر واقعات کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل سواروں کے ذریعے کریکر اور دستی بم پھینکنے کے واقعات بھی تشویشناک ہیں۔ اتوار کو لیاری کی خواتین نے گینگ وار لیڈروں کے خلاف احتجاج کیا اور سزا کا مطالبہ کیا،لیاری میں بدامنی کا سب سے بڑا سبب وہاں سیاسی چپقلش اور گینگ وار کی لڑائیاں ہیں۔
متحدہ کے قائد الطاف حسین کا یہ بیان بھی چشم کشا ہے کہ بے گناہ شہریوں کو قتل کیا جارہا ہے، سندھ حکومت قیام امن میں مکمل ناکام ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز کے پاس اتنی تعداد نہیں ہے کہ ہر گلی اور محلے میں تعینات کیا جاسکے۔ شہری اپنی حفاظت کیلیے ہر گلی اور محلے کی سطح پر کمیٹیاں بنائیں اور راستوں پر حفاظتی بیریئر لگائے جائیں۔ شہریوں کی حفاظت کیلیے راست اقدامات کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔