بلوچستان میں آئین کے مطابق سیاسی عمل کی بھرپور حمایت کرینگے جنرل کیانی
فوج ہرایسے عمل کی حمایت کرے گی جو آئینی حدود کے اندر ہو،آرمی چیف کا پالیسی بیان،ماسکو پہنچنے پر شاندار استقبال
جنرل کیانی روس کی دفاعی تنصیبات کامعائنہ، دیگراعلیٰ عسکری وسیاسی قیادت سے بھی ملیں گے ،کسی پاکستانی آرمی چیف کا یہ پہلا دورہ روس ہے، تعلقات کے نئے دورکا آغاز ہوسکتا ہے، ماہرین. فوٹو: اے پی پی/فائل
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بلوچستان کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ فوج ہراس سیاسی عمل کی بھرپورحمایت کرتی ہے جوپاکستان کے آئین کے اندررہتے ہوئے کیاجائے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ بات انھوں نے بدھ کو روس کے چار روزہ سرکاری دورے پر روانگی کے وقت اپنے بیان میں کہی۔ بی بی سی کے مطابق جنرل کیانی نے اپنے پالیسی بیان میں کہا کہ مسئلہ بلوچستان کے کسی بھی سیاسی حل کی حمایت کی جائے گی بشرطیکہ یہ سیاسی حل پاکستان کے آئین کے مطابق ہو۔
دریں اثناآرمی چیف جنرل اشفاق کیانی چار روزہ دورے پر روس پہنچ گئے ہیں، ماسکو ائیر پورٹ پر روس کی بری افواج کے کمانڈر انچیف جنرل نیکولے اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا شاندار استقبال کیا، آرمی چیف جنرل کیانی آج روس کے ملٹری چیف اور روسی صدر سے ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے پر بات چیت ہو گی، جنرل کیانی اپنے دورے کے دوران روس کی دیگر اعلیٰ عسکری وسیاسی قیادت سے ملاقاتیں اور دفاعی تنصیبات کامعائنہ بھی کریںگے، یہ کسی بھی پاکستانی آرمی چیف کا پہلا دورہ روس ہے۔
اگرچہ سابق صدر پرویزمشرف جس وقت روس کے دورے پرگئے تھے ان کے پاس آرمی چیف کا عہدہ بھی تھا لیکن ان کا دورہ صدرکی حیثیت سے تھا۔جنرل اشفاق کیانی کو روس کے اس تاریخی دورے کی دعوت ان کے روسی ہم منصب جنرل نکولائی میکروف نے دی ہے۔ ادھر دفاعی ماہرین کے مطابق جنرل کیانی کی روسی سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں اس دورے کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں، پاک روس آرمی چیفس کے مذاکرات میں دو طرفہ دفاعی تعاون کو وسیع کرنے پر بات چیت ہوگی۔
کسی پاکستانی آرمی چیف کے اس پہلے دورہ روس کو دونوں ممالک کے دفاعی تعاون میں بریک تھرو بھی تصورکیاجارہاہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پاک روس تعلقات کے نئے دورکاباعث بن سکتاہے۔ جنرل اشفاق کیانی کے دورے میں دو طرفہ تعاون کے ساتھ علاقائی تناظر اور نئی عالمی جہتوں میں بھی تعاون فروغ پائے گا، دونوں ملک دفاعی شعبے کے ساتھ مواصلات کے شعبے میں تعاون بڑھانے جا رہے ہیں، یہ دونوں عالمی دہشت گردی کے خلاف بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ بات انھوں نے بدھ کو روس کے چار روزہ سرکاری دورے پر روانگی کے وقت اپنے بیان میں کہی۔ بی بی سی کے مطابق جنرل کیانی نے اپنے پالیسی بیان میں کہا کہ مسئلہ بلوچستان کے کسی بھی سیاسی حل کی حمایت کی جائے گی بشرطیکہ یہ سیاسی حل پاکستان کے آئین کے مطابق ہو۔
دریں اثناآرمی چیف جنرل اشفاق کیانی چار روزہ دورے پر روس پہنچ گئے ہیں، ماسکو ائیر پورٹ پر روس کی بری افواج کے کمانڈر انچیف جنرل نیکولے اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا شاندار استقبال کیا، آرمی چیف جنرل کیانی آج روس کے ملٹری چیف اور روسی صدر سے ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے پر بات چیت ہو گی، جنرل کیانی اپنے دورے کے دوران روس کی دیگر اعلیٰ عسکری وسیاسی قیادت سے ملاقاتیں اور دفاعی تنصیبات کامعائنہ بھی کریںگے، یہ کسی بھی پاکستانی آرمی چیف کا پہلا دورہ روس ہے۔
اگرچہ سابق صدر پرویزمشرف جس وقت روس کے دورے پرگئے تھے ان کے پاس آرمی چیف کا عہدہ بھی تھا لیکن ان کا دورہ صدرکی حیثیت سے تھا۔جنرل اشفاق کیانی کو روس کے اس تاریخی دورے کی دعوت ان کے روسی ہم منصب جنرل نکولائی میکروف نے دی ہے۔ ادھر دفاعی ماہرین کے مطابق جنرل کیانی کی روسی سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں اس دورے کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں، پاک روس آرمی چیفس کے مذاکرات میں دو طرفہ دفاعی تعاون کو وسیع کرنے پر بات چیت ہوگی۔
کسی پاکستانی آرمی چیف کے اس پہلے دورہ روس کو دونوں ممالک کے دفاعی تعاون میں بریک تھرو بھی تصورکیاجارہاہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پاک روس تعلقات کے نئے دورکاباعث بن سکتاہے۔ جنرل اشفاق کیانی کے دورے میں دو طرفہ تعاون کے ساتھ علاقائی تناظر اور نئی عالمی جہتوں میں بھی تعاون فروغ پائے گا، دونوں ملک دفاعی شعبے کے ساتھ مواصلات کے شعبے میں تعاون بڑھانے جا رہے ہیں، یہ دونوں عالمی دہشت گردی کے خلاف بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔