حصص مارکیٹ پہلی بار 34000 پوائنٹس کی حد عبور کرگئی
شرح سود میں کٹوتی کے امکانات پر خریداری، انڈیکس 227 پوائنٹس بڑھ کر 34014 کی بلند ترین سطح پر آگیا
کاروباری سرگرمیوں میں تیزی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں 43 ارب 62 کروڑ 50 لاکھ 81 ہزار 881 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
کراچی اسٹاک میں نئے کاروباری ہفتے کے موقع پر بھی ریکارڈ تیزی کا سلسلہ برقرار ہے اور کے ایس ای 100 انڈیکس تاریخ میں پہلی مرتبہ 34000 پوائنٹس کی حد عبور کرتے ہوئے 34014 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
آئندہ زری پالیسی میں شرح سود میں کمی کے امکانات کے پیش نظرمارکیٹ پر مثبت رجحان چھایا ہوا ہے، گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس میں 227 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 33786 پوائنٹس سے بڑھ کر34014 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 220 پوائنٹس کے اضافے سے 22020 اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 125 پوائنٹس کے اضافے سے24572 پوائنٹس پر بند ہوئے۔
کاروباری حجم میں 3 کروڑ 91 لاکھ 92 ہزار 690 حصص (12.82 فیصد) کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد کاروباری حجم 34 کروڑ 47 لاکھ 50 ہزار حصص کی سطح سے گر کر 30 کروڑ 55 لاکھ 57 ہزار 820 حصص کی سطح پر آگیا، ٹریڈنگ کے دوران آئل اینڈ گیس انڈیکس میں347 جبکہ بینکنگ انڈیکس میں 41 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تیزی کے باعث مارکیٹ کے سرمائے میں 38 ارب 54 کروڑ 89 لاکھ 22 ہزار 657 روپے کا اضافہ ہوا۔
مارکیٹ میں 397 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا جس میں سے 211 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 171 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی اور 15 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق آئندہ زری پالیسی میں شرح سود میں کمی کے امکانات اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے خیبر پختونخوا کی ترقی کے عزم نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں پر نہایت خوشگوار اثرات مرتب کئے ہیں اور سرمایہ کارمارکیٹ کی بہتر کارکردگی کے حوالے سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں، اسی لیے خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
آئندہ زری پالیسی میں شرح سود میں کمی کے امکانات کے پیش نظرمارکیٹ پر مثبت رجحان چھایا ہوا ہے، گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس میں 227 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 33786 پوائنٹس سے بڑھ کر34014 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 220 پوائنٹس کے اضافے سے 22020 اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 125 پوائنٹس کے اضافے سے24572 پوائنٹس پر بند ہوئے۔
کاروباری حجم میں 3 کروڑ 91 لاکھ 92 ہزار 690 حصص (12.82 فیصد) کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد کاروباری حجم 34 کروڑ 47 لاکھ 50 ہزار حصص کی سطح سے گر کر 30 کروڑ 55 لاکھ 57 ہزار 820 حصص کی سطح پر آگیا، ٹریڈنگ کے دوران آئل اینڈ گیس انڈیکس میں347 جبکہ بینکنگ انڈیکس میں 41 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تیزی کے باعث مارکیٹ کے سرمائے میں 38 ارب 54 کروڑ 89 لاکھ 22 ہزار 657 روپے کا اضافہ ہوا۔
مارکیٹ میں 397 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا جس میں سے 211 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 171 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی اور 15 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق آئندہ زری پالیسی میں شرح سود میں کمی کے امکانات اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے خیبر پختونخوا کی ترقی کے عزم نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں پر نہایت خوشگوار اثرات مرتب کئے ہیں اور سرمایہ کارمارکیٹ کی بہتر کارکردگی کے حوالے سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں، اسی لیے خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔