بھارتی ہاکی پلیئرز کو پاکستانیوں کی کمی محسوس ہونے لگی
اچھے کھلاڑی ہماری لیگ کی ضرورت ہیں، پاکستانی پلیئرز کو اجازت ملنی چاہیے، سردار سنگھ و اجیت پال
بطور اسپورٹس مین میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی پلیئرز کو ایچ آئی ایل میں کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے، اجیت پال۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
سابق اور موجودہ کپتانوں کو ہاکی انڈیا لیگ میں پاکستانی پلیئرز کی کمی محسوس ہونے لگی۔
تفصیلات کے مطابق ہاکی انڈیا لیگ کا تیسرا ایڈیشن جمعرات سے شروع ہورہا ہے، ایک ماہ پر محیط ایونٹ 22 فروری کو اختتام پذیر ہوگا، موجودہ بھارتی ہاکی ٹیم کے کپتان سردار سنگھ اور سابق قائد اجیت پال سنگھ کو ایونٹ میں پاکستانی پلیئرز کی کمی محسوس ہورہی ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اچھے پلیئرز موجود ہیں اور انھیں ایچ آئی ایل میں کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے، اچھے کھلاڑی ہماری لیگ کی ضرورت ہیں، اسی کے ساتھ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہمارے آفیشلز کو اپنی حکومت کے احکامات اور پالیسی کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
سابق کپتان اجیت پال سنگھ نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا، انھوں نے کہاکہ بطور اسپورٹس مین میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی پلیئرز کو ایچ آئی ایل میں کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے، اسی کے ساتھ ہمیں صورتحال کو بھی دیکھنا ہوگا۔
واضح رہے کہ لیگ کے ابتدائی ایڈیشن میں پاکستان کے 9 پلیئرز مختلف ٹیموں کی نمائندگی کیلیے بھارت گئے تھے لیکن ہندو انتہا پسندوں کے پُرتشدد احتجاج پر مجبوراً وطن لوٹنا پڑا، اس کے بعد دونوں ممالک میں تنائو کے سبب دوسرے ایڈیشن میں پاکستانی پلیئرز کی شرکت ممکن نہیں ہوپائی تھی، گذشتہ دنوں بھوبنیشور میں چیمپئنز ٹرافی سیمی فائنل میں بھارتی ٹیم کو شکست دینے پر جشن منانے کی پاداش میں بھی 2 پاکستانی پلیئرز کو ایک ایک میچ کی پابندی کا سامنا رہا تھا۔
تفصیلات کے مطابق ہاکی انڈیا لیگ کا تیسرا ایڈیشن جمعرات سے شروع ہورہا ہے، ایک ماہ پر محیط ایونٹ 22 فروری کو اختتام پذیر ہوگا، موجودہ بھارتی ہاکی ٹیم کے کپتان سردار سنگھ اور سابق قائد اجیت پال سنگھ کو ایونٹ میں پاکستانی پلیئرز کی کمی محسوس ہورہی ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اچھے پلیئرز موجود ہیں اور انھیں ایچ آئی ایل میں کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے، اچھے کھلاڑی ہماری لیگ کی ضرورت ہیں، اسی کے ساتھ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہمارے آفیشلز کو اپنی حکومت کے احکامات اور پالیسی کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
سابق کپتان اجیت پال سنگھ نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا، انھوں نے کہاکہ بطور اسپورٹس مین میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی پلیئرز کو ایچ آئی ایل میں کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے، اسی کے ساتھ ہمیں صورتحال کو بھی دیکھنا ہوگا۔
واضح رہے کہ لیگ کے ابتدائی ایڈیشن میں پاکستان کے 9 پلیئرز مختلف ٹیموں کی نمائندگی کیلیے بھارت گئے تھے لیکن ہندو انتہا پسندوں کے پُرتشدد احتجاج پر مجبوراً وطن لوٹنا پڑا، اس کے بعد دونوں ممالک میں تنائو کے سبب دوسرے ایڈیشن میں پاکستانی پلیئرز کی شرکت ممکن نہیں ہوپائی تھی، گذشتہ دنوں بھوبنیشور میں چیمپئنز ٹرافی سیمی فائنل میں بھارتی ٹیم کو شکست دینے پر جشن منانے کی پاداش میں بھی 2 پاکستانی پلیئرز کو ایک ایک میچ کی پابندی کا سامنا رہا تھا۔