ورلڈ کپ میں ’’چکرز‘‘ پر معطلی کی تلوار لٹکتی رہے گی

مشکوک ایکشن کے حامل بولرکو برسبین لیب بھیجا جائے گا، 5، 6 دن میں منفی نتیجہ آنے پر گھر واپسی یقینی ہے، ڈیو رچرڈسن

ایونٹ کرپشن سے آلودہ ہونے کا زیادہ خطرہ نہیں،فکسنگ کی روک تھام کیلیے سخت انتظامات کیے ہیں،آئی سی سی چیف فوٹو: فائل

FAISALABAD:
ورلڈ کپ کے دوران بھی 'چکرز' پر معطلی کی تلوار لٹکتی رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق مشکوک ایکشن کے حامل بولرز پر ورلڈ کپ کے دوران بھی میچ آفیشلز کی نظریں مرکوز ہونگی اور انھیں فوری طور پر معطل بھی کیا جاسکے گا، عام طور پر اگر کسی بولر کا ایکشن مشکوک رپورٹ ہو تو اس کے پاس آفیشل جانچ کرانے کیلیے 21 دن کا وقت ہوتا ہے، اس دوران اسے بولنگ جاری رکھنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن ورلڈ کپ میںیہ سہولت موجود نہیں ہوگی۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے ایک انٹرویو میں کہاکہ ہم نے برسبین میں اپنی منظورشدہ بائیو مکینک لیب کو اسٹینڈ بائی کردیا ہے، اس لیے اگرٹورنامنٹ کے دوران کسی بھی بولر کا ایکشن مشکوک رپورٹ ہوا تو اسے فوری طورپر وہاں بھیجا جائیگا۔


جہاں سے صرف 5 یا 6 روز میں نتیجہ سامنے آجائیگا اگر ایکشن غیرقانونی ہوا تو مذکورہ بولر کو ایونٹ سے باہر کردیا جائیگا۔ رچرڈسن نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران ہم نے کھیل سے غیرقانونی ایکشن کو ختم کرنے کیلیے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں،اب اس چیز کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دوبارہ سے ایسی چیزیں نہ شروع ہوجائیں، چند بولرز ایسے ہیں جن کو پہلے معطل کیا گیا لیکن وہ ایکشن میں تبدیلی کے بعد دوبارہ کلیئر ہوکر کھیل میں واپس آچکے ہیں۔

آئی سی سی چیف ایگزیکٹیو رچرڈسن نے ورلڈ کپ کو کرپشن سے پاک رکھنے کے حوالے سے کہا کہ جہاں تک فکسنگ وغیرہ کی بات ہے تو میں ایونٹ کو اس مکمل طور پر محفوظ قرار دونگا کیونکہ ہم نے ایسی چیزیں روکنے کیلیے تاریخ کے بہترین اقدامات کیے ہیں۔ ہمارے اینٹی کرپشن یونٹ کے آفیشلز نے اس حوالے سے مختلف معاہدے کرنے کیلیے کافی محنت کی، جس سے میزبان ممالک میں ایسی کوئی حرکت جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے جائے گی۔
Load Next Story