بلدیہ حیدرآباد میں جعلی بھرتیاں حکومت نے ایکسپریس کی خبر پر نوٹس لے لیا
تعلقہ سٹی اورقاسم آبادکے جعلی لیٹر بنانےمیں ملوث افسران اوراس پرنوکریاں لینے والوں کےخلاف مقدمات درج کرنےکی ہدایت.
حق پرست قیادت جعلی تقرر ناموں پر خاموش نہیں رہے گی، ملوث با اثر مافیا کو میڈیا کے سامنے لایا جائے گا، صلاح الدین
ایکسپریس کی خبر پر حکومت سندھ نے ایکشن لیتے ہوئے جعلی ٹرانسفر لیٹرز کے ذریعے تعلقہ سٹی حیدرآباد اور تعلقہ قاسم آباد میں افسران کی جانب سے بھرتیوں کا نوٹس لے لیا۔
جعلی لیٹر بنانے اور اس پر نوکری لینے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کر دی، دوسری جانب حق پرست رکن قومی اسمبلی صلاح الدین کا بھی کہنا ہے کہ وہ حکومت سے سفارش کریں گے کہ جعلی لیٹرز کے ذریعے بھرتی کرانے والی مافیا چاہے کتنی ہی با اثر کیوں نہ ہوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق روزنامہ ایکسپریس نے ایک ہفتہ قبل خبر دی تھی کہ بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد میں موجود افسران مختلف اضلاع کے بلدیاتی اداروں اور لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ سے ٹرانسفر کے نام پر درجنوں افراد کو تعلقہ سٹی اور تعلقہ قاسم آباد میں جوائننگ کرا چکے ہیں۔
جس پر حکومت سندھ کے متعلقہ حکام نے فوری نوٹس لیا اور ٹرانسفر لیٹرز کی جانچ پڑتال کے بعد اعظم شیخ اور محمد زمان کے تقررنامے ہی جعلی قرار دے دیے جب کہ ٹرانسفر فارمولے کے تحت تعلقہ قاسم آباد میں نوکریاں حاصل کرنے والے جاوید ملک، احمد اور جام بچایو کی تقرری اور ٹرانسفر آرڈر کو بھی جعلی قرار دیا، جس کے ساتھ ساتھ ایسے جعلی لیٹر بنانے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا، بلدیاتی افسران نے یہ لیٹر ملنے کے بعد خبر کو دبانے کی بھرپور کوشش کی۔
اس دوران حق پرست رکن قومی اسمبلی صلاح الدین اچانک تعلقہ سٹی دفتر پہنچ گئے جہاں افسران نے انہیں بتایا کہ اب تک ایسے20 لیٹر آ چکے ہیں جن میں سے 14 افراد کو جوائننگ بھی دی گئی ہے۔ صلاح الدین کا کہنا تھا کہ حق پرست قیادت، جعلی تقرر ناموں پر خاموش نہیں رہے گی اور نہ صرف ان لوگوں کے خلاف کارروائی ہو گی بلکہ اس سازش میں ملوث تمام مافیا کو میڈیا کے سامنے لایا جائے گا۔ چاہے ملوث افسر کتنا ہی با اثرکیوں نہ ہو، اس کے خلاف کارروائی کے لیے وہ سندھ حکومت سے خود رابطہ بھی کریں گے۔
دریں اثنا سی بی اے یونین کے جنرل سیکرٹری محمد اکرم راجپوت نے کہا ہے کہ جعلی ٹرانسفر لیٹر پر جوائننگ کرا کر ادارے کو نقصان پہنچانے سے متعلق یونین کا دعویٰ سچا ثابت ہو گیا ہے، حق پرست قیادت سے اپیل ہے کہ مذکورہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ جن 14 افراد کو جوائننگ دی گئی ان میں عمران شیخ ولد سلیم احمد شیخ، محمد فاروق ولد محمد منشی، مشتاق و دیگر شامل ہیں جن کے کنفرمیشن لیٹرز جو بلدیہ میں امیدواروں نے جمع کرائے ہیں ان میں ایک ہی سیکشن آفیسر کا نام درج ہے، لیکن ان پر دستخط میں واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بلدیہ اعلیٰ کے بعض دیگر افسران کا کہنا ہے کہ جعلی تقرری کیس میں ملوث بلدیاتی افسران کے خلاف تمام ثبوت ملنے کے باوجودکوئی کارروائی نہیں ہو گی کیونکہ بقول مذکورہ افسران ان کی سیاسی پشت پناہی بہت مضبوط ہے۔
جعلی لیٹر بنانے اور اس پر نوکری لینے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کر دی، دوسری جانب حق پرست رکن قومی اسمبلی صلاح الدین کا بھی کہنا ہے کہ وہ حکومت سے سفارش کریں گے کہ جعلی لیٹرز کے ذریعے بھرتی کرانے والی مافیا چاہے کتنی ہی با اثر کیوں نہ ہوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق روزنامہ ایکسپریس نے ایک ہفتہ قبل خبر دی تھی کہ بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد میں موجود افسران مختلف اضلاع کے بلدیاتی اداروں اور لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ سے ٹرانسفر کے نام پر درجنوں افراد کو تعلقہ سٹی اور تعلقہ قاسم آباد میں جوائننگ کرا چکے ہیں۔
جس پر حکومت سندھ کے متعلقہ حکام نے فوری نوٹس لیا اور ٹرانسفر لیٹرز کی جانچ پڑتال کے بعد اعظم شیخ اور محمد زمان کے تقررنامے ہی جعلی قرار دے دیے جب کہ ٹرانسفر فارمولے کے تحت تعلقہ قاسم آباد میں نوکریاں حاصل کرنے والے جاوید ملک، احمد اور جام بچایو کی تقرری اور ٹرانسفر آرڈر کو بھی جعلی قرار دیا، جس کے ساتھ ساتھ ایسے جعلی لیٹر بنانے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا، بلدیاتی افسران نے یہ لیٹر ملنے کے بعد خبر کو دبانے کی بھرپور کوشش کی۔
اس دوران حق پرست رکن قومی اسمبلی صلاح الدین اچانک تعلقہ سٹی دفتر پہنچ گئے جہاں افسران نے انہیں بتایا کہ اب تک ایسے20 لیٹر آ چکے ہیں جن میں سے 14 افراد کو جوائننگ بھی دی گئی ہے۔ صلاح الدین کا کہنا تھا کہ حق پرست قیادت، جعلی تقرر ناموں پر خاموش نہیں رہے گی اور نہ صرف ان لوگوں کے خلاف کارروائی ہو گی بلکہ اس سازش میں ملوث تمام مافیا کو میڈیا کے سامنے لایا جائے گا۔ چاہے ملوث افسر کتنا ہی با اثرکیوں نہ ہو، اس کے خلاف کارروائی کے لیے وہ سندھ حکومت سے خود رابطہ بھی کریں گے۔
دریں اثنا سی بی اے یونین کے جنرل سیکرٹری محمد اکرم راجپوت نے کہا ہے کہ جعلی ٹرانسفر لیٹر پر جوائننگ کرا کر ادارے کو نقصان پہنچانے سے متعلق یونین کا دعویٰ سچا ثابت ہو گیا ہے، حق پرست قیادت سے اپیل ہے کہ مذکورہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ جن 14 افراد کو جوائننگ دی گئی ان میں عمران شیخ ولد سلیم احمد شیخ، محمد فاروق ولد محمد منشی، مشتاق و دیگر شامل ہیں جن کے کنفرمیشن لیٹرز جو بلدیہ میں امیدواروں نے جمع کرائے ہیں ان میں ایک ہی سیکشن آفیسر کا نام درج ہے، لیکن ان پر دستخط میں واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بلدیہ اعلیٰ کے بعض دیگر افسران کا کہنا ہے کہ جعلی تقرری کیس میں ملوث بلدیاتی افسران کے خلاف تمام ثبوت ملنے کے باوجودکوئی کارروائی نہیں ہو گی کیونکہ بقول مذکورہ افسران ان کی سیاسی پشت پناہی بہت مضبوط ہے۔