آخری دہشت گرد تک جاگتے رہنا
وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے جاری ہے
ایک مشہور قول ہے کہ ’’کوئی قوم روئے ارض پر اتنی امیر نہیں کہ جنگ اور تہذیب دونوں کی قیمتیں ادا کرسکے، فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے جاری ہے اور اب تک اس میں خاطرخواہ کامیابی حاصل کرچکے ہیں، دہشت گردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کریں گے اور شہدا کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ سانحہ پشاور کے شہدا کی رسم چہلم کے موقع پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سانحہ پشاور کے شہدا کے چہرے سامنے لاتا ہوں۔ دہشت گردوں کو ملک کے کسی کونے میں جائے پناہ نہیں دیں گے اور معصوم شہیدوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ایک مشہور قول ہے کہ ''کوئی قوم روئے ارض پر اتنی امیر نہیں کہ جنگ اور تہذیب دونوں کی قیمتیں ادا کرسکے۔ ہمیں انتخاب کرنا پڑیگا ، دونوں چیزیں ہماری نہیں ہو سکتیں۔'' سانحہ پشاور سمیت شمالی و جنوبی وزیرستان ، بلوچستان، کراچی ، اندرون سندھ اور خیبر پختونخوا کے تمام شہروں اور دیہی علاقوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی ایک تہذیبی، سماجی خطرہ اور ہولناک عفریت ہے جو ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کو ہڑپ کرنے کے لیے مادر وطن کے لیے بلائے جان بنی ہوئی ہے ، مگر اسے پہلی بار ایک فیصلہ کن ریاستی و عسکری جواب اسی شدت کے ساتھ مل رہا ہے جس جنون و دیوانگی کے سائے میں معصوم بچوں اور بیگناہ انسانوں کی جانیں لی جاتی رہیں۔
لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میڈیا وار یا خالی خولی بیانات کا حشر برپا کر کے قطعاً نہیں جیتی جا سکتی ، تشدد اور بربریت کی تاریخ اور اس کے اوراق پر سے نظریں نہیں ہٹنی چاہئیں، دہشت گردی ، گوریلا وار اور ریاست مخالف ایجنڈا ظاہر و باطن میں دو طرفہ خطرے ہیں جنہیں ملیامیٹ کرنے کے لیے نیکٹا، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس نیٹ ورک ، عدلیہ اور میڈیا کو معمول سے زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، انصاف فوری ہو ، اسی مستعدی اور فرض شناسی کا مظاہرہ وقت کی ضرورت ہے جیسا واہ کینٹ میں ہوا جس میں ذمے دارانہ چیکنگ کے دوران بمبار بم پھینک کر خود کو اڑانے پر مجبور ہوا ۔
یہی وجہ ہے کہ سی این این کی تند خو نمایندہ کرسٹینا امان پور کو پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے ان کے ایک تلخ و توہین آمیز سوال پر باور کرانا پڑا کہ پاک فوج دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور فوج بلا امتیاز دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے ، ہم اپنی سرزمین سے دہشتگردی اور آخری دہشتگرد تک کا خاتمہ کردینگے ۔ وزیراعظم کا یہ کہنا حقیقت ہے کہ سانحہ پشاور سے قوم رنج و غم میں مبتلا ہے تاہم سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کے حوصلے قابل رشک اور پوری دنیا کے لیے صبر کی مثال ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف نے سانحہ پشاور میں زخمی ہونے والے طالب علم احمد نوازکے علاج کے لیے پمزکو ہدایت کے ساتھ یہ کہا کہ اگر ملک میں علاج ممکن نہیں تو بیرون ملک علاج کرایا جائے ۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ہدایت پر پنجاب کے چار پبلک اسکولوں کے نام آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہید طلبا سے منسوب کر دیے گئے ۔ سانحہ پشاور کے شہدا کے چہلم کی تقریب وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہوئی جس میں گورنرخیبر پختونخوا سردار مہتاب، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، بچوں کے والدین و دیگر افراد نے شرکت کی ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ شدید زخمی بچوں کا شوکت خانم اسپتال سے مفت علاج کرایا جائیگا اور علاج ممکن نہ ہونے کی صورت میں سرکاری خرچ پر بیرون ملک بھجوایا جائیگا۔ عمران خان نے سانحہ پشاور کو اس صدی کا المناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آزمائش کی گھڑی ہے۔
وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے سانحہ پشاور کے شہید بچوں اور اساتذہ کے لیے امدادی پیکیج 5لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کرنے جب کہ تمام زخمی بچوں کا علاج سرکاری سرپرستی میں کرنے کا اعلان کیا ۔ پورے ملک کی طرح آزاد کشمیر میں بھی دہشتگردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے نفاذ کی منظوری دیدی گئی، اس سلسلے میں منگل کو وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری عبدالمجید کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس سے پوری قوت کے ساتھ نمٹنے کے لیے قوم اور مسلح افواج متحد ہو چکے ہیں ۔
ادھر غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین اور مشتبہ افراد کے خلاف ملک بھر میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ حکومت صوبوں میں امن و خیر سگالی کا ماحول پیدا کرے، بحرانوں کا رخ موڑے، بداعتمادی اور بے یقینی کا خاتمہ کرے ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا دو روزہ بلوچستان ڈویلپمنٹ فورم کے اختتامی سیشن سے خطاب میں کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 172(3)جسکے تحت صوبوں کو قدرتی وسائل پر مساوی اختیار حاصل ہے، اگر قوانین میں ضروری ترامیم کر کے اس پر حقیقی طور پر عمل کیا جائے تو بلوچستان پسماندگی سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے، جب وہ یہ بات کر رہے تھے تو ڈیرہ بگٹی میں 8انچ قطر کی ایک اور گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی گئی تھی جس سے پلانٹ کو گیس کی سپلائی بند ہوگئی ، یوں صورتحال کی سنگینی بدستور جاری ہے اور مزید سنبھلنے کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا اطلاع ہے کہ پاکستان خصوصاً سندھ میں چلنے والے مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئرز، ماہرین اور دیگر کاریگروں کو ملکی ہی نہیں بیرون ملک کی دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے دھمکیوں کے سبب ان منصوبوں کے حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔ جن کی اعلیٰ سطح پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ حیدرآباد ڈویژن کے مختلف اضلاع حیدرآباد، جامشورو، دادو، مٹیاری اور ٹھٹھہ میں توانائی، گیس، تیل، روڈ، آبپاشی سمیت 31 منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ان منصوبوں میں 334 چینی انجینئرز، ماہرین اور دیگر افراد کام کرتے ہیں۔جن کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں تحریک طالبان پاکستان، مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ، ازبک اسلامک موومنٹ، اسلامک جہاد تنظیم، عبداﷲ اعظم بریگیڈ، 313 بریگیڈ آف القاعدہ، اسلامک مجاہدین، طارق بریگیڈ، جئے سندھ متحدہ محاذ، بلوچستان لبریشن آرمی اور تمام ایسی تنظیمیں جن پرچائینز کی درخواست پر پابندی لگائی گئی ہے کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں جب کہ علاقائی جرائم پیشہ افراد کی جانب سے بھی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
چنانچہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبہ کے داخلی و خارجی راستوں پرکڑی نگاہ رکھیں ۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعتوں اور کارکنوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ایکشن پلان کا مقصد ملک سے انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو ختم کرنا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔ ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ دہشت گردی سے نمٹے ہوئے ملک میں امن وامان کی بحالی ، ترقی و خوشحالی اور قومی اتحاد کا ہدف بھی پورا کیا جائے گا۔حکمران اس زمینی اور سیاسی حقیقت کا ادراک کریں کہ بہترین سیاست کا پرتو اچھی حکومت ہے جسے گڈ گورننس کہتے ہیں۔
ایک مشہور قول ہے کہ ''کوئی قوم روئے ارض پر اتنی امیر نہیں کہ جنگ اور تہذیب دونوں کی قیمتیں ادا کرسکے۔ ہمیں انتخاب کرنا پڑیگا ، دونوں چیزیں ہماری نہیں ہو سکتیں۔'' سانحہ پشاور سمیت شمالی و جنوبی وزیرستان ، بلوچستان، کراچی ، اندرون سندھ اور خیبر پختونخوا کے تمام شہروں اور دیہی علاقوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی ایک تہذیبی، سماجی خطرہ اور ہولناک عفریت ہے جو ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کو ہڑپ کرنے کے لیے مادر وطن کے لیے بلائے جان بنی ہوئی ہے ، مگر اسے پہلی بار ایک فیصلہ کن ریاستی و عسکری جواب اسی شدت کے ساتھ مل رہا ہے جس جنون و دیوانگی کے سائے میں معصوم بچوں اور بیگناہ انسانوں کی جانیں لی جاتی رہیں۔
لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میڈیا وار یا خالی خولی بیانات کا حشر برپا کر کے قطعاً نہیں جیتی جا سکتی ، تشدد اور بربریت کی تاریخ اور اس کے اوراق پر سے نظریں نہیں ہٹنی چاہئیں، دہشت گردی ، گوریلا وار اور ریاست مخالف ایجنڈا ظاہر و باطن میں دو طرفہ خطرے ہیں جنہیں ملیامیٹ کرنے کے لیے نیکٹا، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس نیٹ ورک ، عدلیہ اور میڈیا کو معمول سے زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، انصاف فوری ہو ، اسی مستعدی اور فرض شناسی کا مظاہرہ وقت کی ضرورت ہے جیسا واہ کینٹ میں ہوا جس میں ذمے دارانہ چیکنگ کے دوران بمبار بم پھینک کر خود کو اڑانے پر مجبور ہوا ۔
یہی وجہ ہے کہ سی این این کی تند خو نمایندہ کرسٹینا امان پور کو پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے ان کے ایک تلخ و توہین آمیز سوال پر باور کرانا پڑا کہ پاک فوج دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور فوج بلا امتیاز دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے ، ہم اپنی سرزمین سے دہشتگردی اور آخری دہشتگرد تک کا خاتمہ کردینگے ۔ وزیراعظم کا یہ کہنا حقیقت ہے کہ سانحہ پشاور سے قوم رنج و غم میں مبتلا ہے تاہم سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کے حوصلے قابل رشک اور پوری دنیا کے لیے صبر کی مثال ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف نے سانحہ پشاور میں زخمی ہونے والے طالب علم احمد نوازکے علاج کے لیے پمزکو ہدایت کے ساتھ یہ کہا کہ اگر ملک میں علاج ممکن نہیں تو بیرون ملک علاج کرایا جائے ۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ہدایت پر پنجاب کے چار پبلک اسکولوں کے نام آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہید طلبا سے منسوب کر دیے گئے ۔ سانحہ پشاور کے شہدا کے چہلم کی تقریب وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہوئی جس میں گورنرخیبر پختونخوا سردار مہتاب، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، بچوں کے والدین و دیگر افراد نے شرکت کی ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ شدید زخمی بچوں کا شوکت خانم اسپتال سے مفت علاج کرایا جائیگا اور علاج ممکن نہ ہونے کی صورت میں سرکاری خرچ پر بیرون ملک بھجوایا جائیگا۔ عمران خان نے سانحہ پشاور کو اس صدی کا المناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آزمائش کی گھڑی ہے۔
وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے سانحہ پشاور کے شہید بچوں اور اساتذہ کے لیے امدادی پیکیج 5لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کرنے جب کہ تمام زخمی بچوں کا علاج سرکاری سرپرستی میں کرنے کا اعلان کیا ۔ پورے ملک کی طرح آزاد کشمیر میں بھی دہشتگردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے نفاذ کی منظوری دیدی گئی، اس سلسلے میں منگل کو وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری عبدالمجید کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس سے پوری قوت کے ساتھ نمٹنے کے لیے قوم اور مسلح افواج متحد ہو چکے ہیں ۔
ادھر غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین اور مشتبہ افراد کے خلاف ملک بھر میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ حکومت صوبوں میں امن و خیر سگالی کا ماحول پیدا کرے، بحرانوں کا رخ موڑے، بداعتمادی اور بے یقینی کا خاتمہ کرے ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا دو روزہ بلوچستان ڈویلپمنٹ فورم کے اختتامی سیشن سے خطاب میں کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 172(3)جسکے تحت صوبوں کو قدرتی وسائل پر مساوی اختیار حاصل ہے، اگر قوانین میں ضروری ترامیم کر کے اس پر حقیقی طور پر عمل کیا جائے تو بلوچستان پسماندگی سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے، جب وہ یہ بات کر رہے تھے تو ڈیرہ بگٹی میں 8انچ قطر کی ایک اور گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی گئی تھی جس سے پلانٹ کو گیس کی سپلائی بند ہوگئی ، یوں صورتحال کی سنگینی بدستور جاری ہے اور مزید سنبھلنے کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا اطلاع ہے کہ پاکستان خصوصاً سندھ میں چلنے والے مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئرز، ماہرین اور دیگر کاریگروں کو ملکی ہی نہیں بیرون ملک کی دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے دھمکیوں کے سبب ان منصوبوں کے حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔ جن کی اعلیٰ سطح پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ حیدرآباد ڈویژن کے مختلف اضلاع حیدرآباد، جامشورو، دادو، مٹیاری اور ٹھٹھہ میں توانائی، گیس، تیل، روڈ، آبپاشی سمیت 31 منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ان منصوبوں میں 334 چینی انجینئرز، ماہرین اور دیگر افراد کام کرتے ہیں۔جن کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں تحریک طالبان پاکستان، مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ، ازبک اسلامک موومنٹ، اسلامک جہاد تنظیم، عبداﷲ اعظم بریگیڈ، 313 بریگیڈ آف القاعدہ، اسلامک مجاہدین، طارق بریگیڈ، جئے سندھ متحدہ محاذ، بلوچستان لبریشن آرمی اور تمام ایسی تنظیمیں جن پرچائینز کی درخواست پر پابندی لگائی گئی ہے کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں جب کہ علاقائی جرائم پیشہ افراد کی جانب سے بھی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
چنانچہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبہ کے داخلی و خارجی راستوں پرکڑی نگاہ رکھیں ۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعتوں اور کارکنوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ایکشن پلان کا مقصد ملک سے انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو ختم کرنا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔ ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ دہشت گردی سے نمٹے ہوئے ملک میں امن وامان کی بحالی ، ترقی و خوشحالی اور قومی اتحاد کا ہدف بھی پورا کیا جائے گا۔حکمران اس زمینی اور سیاسی حقیقت کا ادراک کریں کہ بہترین سیاست کا پرتو اچھی حکومت ہے جسے گڈ گورننس کہتے ہیں۔