آزادی اظہار کی آڑ میں نازیبا حرکت
اقوام عالم کا فورم اقوام متحدہ ہے،اس کے بین الاقوامی چارٹر میں مذہبی جذبات و مذہبی شخصیات کے احترام کے نکات موجود ہیں
دنیا بھر میں موجود تمام مذاہب کے ماننے والے محسن انسانیت کا احترام کرتے ہیں،فوٹو:فائل
دنیا بھر میں مسلمان اس وقت سراپا احتجاج ہیں، ایک فرانسیسی جریدے میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف، پاکستان میں بھی مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ گزشتہ روز چیچن دارالحکومت گروزنی میں 10 لاکھ مسلمان جمع ہوئے اور اس عمل کی مذمت کی کہ ان کے جذبات واحساسات کو ''آزادی اظہار'' کی آڑ میں بری طرح مجروح کیا گیا ہے۔نبی کریمﷺکی ذات سے عشق ومحبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔دنیا میں جتنے بھی مذاہب کے پیشوا اور رہنما ہیں وہ قابل احترام ہیں ۔
اسلام توتمام مذہبی شخصیات سمیت دیگر انبیائے کرام کے احترام اور تقدس کا درس دیتا ہے جس پر مسلمان مکمل طور پر عمل پیرا ہوتے ہیں ، آج تک کسی بھی مسلمان کی جانب سے کسی بھی دوسرے مذہب کے پیغمبر یا نبی یا مذہبی شخصیت کی توہین کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔آخر یہ غیرملکی میڈیا میں کونسے 'سازش' پسند عناصر ہیں جو تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد جان بوجھ کر کوئی نہ کوئی ایسی نازیبا حرکت کرتے ہیں جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔ ان کے جذبات کو برانگیختہ کردیا جاتا ہے
اسی تناظر میں ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے منگل کوحکومت پاکستان کا راست موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آزادیِ اظہار رائے کو دوسروں کے مذہبی مقامات اور جذبات پر حملے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ عمل تہذیبوں اور مختلف مذاہب کے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ حکومت کا موقف واضح اور دوٹوک ہے اور سوچ وفکر کے نئے زاویے عالمی برادری کے لیے وا کرتا ہے ۔آخر بار بار مسلمانوں کے جذبات کو کیوں ٹھیس پہنچائی جاتی ہے ، کیا مغربی اقوام نام نہاد''اسلام فوبیا''سے باہر نہیں نکل سکتیں ۔ مذکورہ جریدے پر حملے کے بعد فرانس بھر میں انتہا پسند عیسائیوں کی انتقامی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔
گزشتہ بارہ، تیرہ روزکے دوران مسلمانوں پر 116 حملے کیے جاچکے ہیں ،جن میں 28 مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ تاہم مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔دوسری جانب مسلمانوں کے شدید احتجاج کے باوجود فرانسیسی حکومت نے ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انٹرنیٹ کمپنیوں پر دباؤ ڈال کر گستاخ جریدے کو آن لائن Google اورapple کے ذریعے لانچ کرا دیا ہے ۔یہ دہرا معیار صرف اور صرف 'اسلام فوبیا' کا نتیجہ ہے ۔مغرب میں تو 'ہولوکاسٹ' کے واقعے کے حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں اور اس موضوع پر لکھنے والوں کو باقاعدہ سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔
اقوام عالم کا فورم اقوام متحدہ ہے،اس کے بین الاقوامی چارٹر میں مذہبی جذبات و مذہبی شخصیات کے احترام کے نکات موجود ہیں۔دنیا بھر میں موجود تمام مذاہب کے ماننے والے محسن انسانیت کا احترام کرتے ہیں، کیونکہ ان کی ذات اور پیغام عالم انسانیت کا اولین منشور ہے، ماسوائے چند ایک شرپسند عناصر کے ۔دنیا کو امن وآشتی کا گہوارہ بنانے کی ضرورت ہے اور یہ جب ہی ممکن ہے جب تمام مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے پیشواؤں اور ان کی تعلیمات کا احترام کرنا سیکھیں۔
روسی صدرپیوٹن نے ایک سخت حکم نامے کے ذریعے روسی میڈیا کو پابند کیا ہے کہ وہ چارلی ایبڈو کے حق میں مضامین نہ لکھیں اور نہ ہی گستاخانہ خاکوں کو ری پرنٹ کریں ۔ایک روسی اخبار نے لکھا ہے کہ صدارتی احکامات پر روسی پارلیمنٹ میں جلد ہی ایک مسودہ قانون پیش کیا جائے گا ، جس کے تحت کسی بھی مذہب کی توہین کا پہلو رکھنے والی تحریروں، تصاویر یا ویڈیوز پر پابندی ہوگی۔یہ عمل مستحسن ہے اسے عالمی سطح پر لاگو کرنے کی فوری ضرورت ہے ۔
اسلام توتمام مذہبی شخصیات سمیت دیگر انبیائے کرام کے احترام اور تقدس کا درس دیتا ہے جس پر مسلمان مکمل طور پر عمل پیرا ہوتے ہیں ، آج تک کسی بھی مسلمان کی جانب سے کسی بھی دوسرے مذہب کے پیغمبر یا نبی یا مذہبی شخصیت کی توہین کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔آخر یہ غیرملکی میڈیا میں کونسے 'سازش' پسند عناصر ہیں جو تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد جان بوجھ کر کوئی نہ کوئی ایسی نازیبا حرکت کرتے ہیں جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔ ان کے جذبات کو برانگیختہ کردیا جاتا ہے
اسی تناظر میں ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے منگل کوحکومت پاکستان کا راست موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آزادیِ اظہار رائے کو دوسروں کے مذہبی مقامات اور جذبات پر حملے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ عمل تہذیبوں اور مختلف مذاہب کے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ حکومت کا موقف واضح اور دوٹوک ہے اور سوچ وفکر کے نئے زاویے عالمی برادری کے لیے وا کرتا ہے ۔آخر بار بار مسلمانوں کے جذبات کو کیوں ٹھیس پہنچائی جاتی ہے ، کیا مغربی اقوام نام نہاد''اسلام فوبیا''سے باہر نہیں نکل سکتیں ۔ مذکورہ جریدے پر حملے کے بعد فرانس بھر میں انتہا پسند عیسائیوں کی انتقامی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔
گزشتہ بارہ، تیرہ روزکے دوران مسلمانوں پر 116 حملے کیے جاچکے ہیں ،جن میں 28 مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ تاہم مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔دوسری جانب مسلمانوں کے شدید احتجاج کے باوجود فرانسیسی حکومت نے ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انٹرنیٹ کمپنیوں پر دباؤ ڈال کر گستاخ جریدے کو آن لائن Google اورapple کے ذریعے لانچ کرا دیا ہے ۔یہ دہرا معیار صرف اور صرف 'اسلام فوبیا' کا نتیجہ ہے ۔مغرب میں تو 'ہولوکاسٹ' کے واقعے کے حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں اور اس موضوع پر لکھنے والوں کو باقاعدہ سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔
اقوام عالم کا فورم اقوام متحدہ ہے،اس کے بین الاقوامی چارٹر میں مذہبی جذبات و مذہبی شخصیات کے احترام کے نکات موجود ہیں۔دنیا بھر میں موجود تمام مذاہب کے ماننے والے محسن انسانیت کا احترام کرتے ہیں، کیونکہ ان کی ذات اور پیغام عالم انسانیت کا اولین منشور ہے، ماسوائے چند ایک شرپسند عناصر کے ۔دنیا کو امن وآشتی کا گہوارہ بنانے کی ضرورت ہے اور یہ جب ہی ممکن ہے جب تمام مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے پیشواؤں اور ان کی تعلیمات کا احترام کرنا سیکھیں۔
روسی صدرپیوٹن نے ایک سخت حکم نامے کے ذریعے روسی میڈیا کو پابند کیا ہے کہ وہ چارلی ایبڈو کے حق میں مضامین نہ لکھیں اور نہ ہی گستاخانہ خاکوں کو ری پرنٹ کریں ۔ایک روسی اخبار نے لکھا ہے کہ صدارتی احکامات پر روسی پارلیمنٹ میں جلد ہی ایک مسودہ قانون پیش کیا جائے گا ، جس کے تحت کسی بھی مذہب کی توہین کا پہلو رکھنے والی تحریروں، تصاویر یا ویڈیوز پر پابندی ہوگی۔یہ عمل مستحسن ہے اسے عالمی سطح پر لاگو کرنے کی فوری ضرورت ہے ۔