نئے بلدیاتی نظام کیخلاف احتجاج جاری ڈگری میں ریلی پر فائرنگ ایس ٹی پی کارکن جاں بحق
نوابشاہ میں تیسرے روز بھی ہڑتال، کاروباری مراکزاورتعلیمی ادارے بند،پولیس و رینجرزکی بھاری نفری تعینات، سکرنڈ روڈ سیل۔
مالک نوہانی کی ہلاکت پر مشتعل افراد نے ڈگری شہر بند کرا دیا، لاش سمیت محمدی چوک پر دھرنا، قاسم آباد میں ہوائی فائرنگ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
نئے بلدیاتی نظام کیخلاف احتجاج کے دوران مختلف اضلاع میں قوم پرست کارکنان کی ہلاکت۔
گرفتاریوں کے خلاف نوابشاہ میں تیسرے روز بھی مکمل شٹر بند ہڑتال رہی جب کہ حیدرآباد سمیت اندرون سندھ مظاہرے کیے گئے۔ مظاہروں کے دوران ہی ڈگری میںایک قوم پرست کارکن جاں بحق ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی سندھ اسمبلی سے منظوری اور قوم پرست کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف نوابشاہ میں بدھ کو تیسرے روز بھی مکمل شٹر ڈائون ہڑتال رہی۔ تمام کاروباری مراکز، بازار، تعلیمی ادارے بند رہے اور سڑکوں سے ٹریفک غائب رہی۔
جب کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس اور رینجرزکی بھاری نفری مختلف شاہراہوں پر تعینات ہونے کے ساتھ دن بھر گشت بھی جاری رہا، دو روز سے میدان جنگ بننے والے سکرنڈ روڈ اور ملحقہ علاقے کو پولیس نے سیل کر دیا۔ڈگری میں ریلی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایس ٹی پی کے ضلعی رہنماء مالک نوہانی شدید زخمی ہوگئے جو بعد ازاں تعلقہ اسپتال میں دم توڑ گئے۔ واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے ڈگری شہر بند کرا دیا اور مالک نوھانی کی لاش محمدی چوک پر رکھ کر دھرنا دیا۔
دریں اثنا مالک نوہانی کی ہلاکت کے خلاف قاسم آباد کے علاقوں میں نامعلوم افراد نے ہوائی فائرنگ کر کے دکانیں اور کاروباری مراکزبند کرا دیے۔ ٹنڈو محمد خان میں بھی قوم پرست جماعتوں کے مشتعل کارکنوں نے تمام کاروباری مراکز بند کرا دیے۔ ٹنڈوالہیار میں نامعلوم افرادکی ہوائی فائرنگ سے بھگڈر مچ گئی اور دکانیں بند ہوگئیں، مٹھی میں بھی مشتعل افراد نے کاروباری مراکز بند کرا دیے، پولیس نے ایس ٹی پی کے ضلعی صدر سمیت7 کارکنان کو گرفتار کر لیا۔
علاوہ ازیں جیے سندھ قومی محاذ نے نئے نظام کی منظوری اور نواب شاہ میں کارکن کی ہلاکت کے خلاف سیشن کورٹ سے حیدرآباد پریس کلب تک ریلی نکالی اور ایس ایس پی نے مظاہرہ کیا جبکہ سول سوسائٹی نے دوسرے روز بھی علامتی بھوک ہڑتال کی۔ ساگرحنیف بردی، حیدر شاہ، ممتاز لغاری، پنہل ساریو، ڈاکٹر عرفانہ ملاح، سچل گوپانگ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پیپلز پارٹی کی جاگیر نہیں کہ اسے کسی کو بھی تحفے میں دے دیں۔
ڈگری میں احتجاج کے دوران پولیس کی مبینہ فائرنگ سے جاں بحق ایس ٹی پی کے ضلعی رہنما مالک نوہانی کی نماز جنازہ فاضل نوہانی گائوں میں ادا کر دی گئی، رات گئے تک ڈگری میں صورتحال بدستور کشیدہ تھی، جب کہ ایس ٹی پی کی جانب سے جمعرات (آج) ضلع میرپورخاص میں ہڑتال کے اعلان کے بعد ڈگری میں رینجرز اور ضلع بھر سے پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی۔
نئے بلدیاتی نظام کیخلاف احتجاج کے دوران مختلف اضلاع میں قوم پرست کارکنان کی ہلاکت۔
گرفتاریوں کے خلاف نوابشاہ میں تیسرے روز بھی مکمل شٹر بند ہڑتال رہی جب کہ حیدرآباد سمیت اندرون سندھ مظاہرے کیے گئے۔ مظاہروں کے دوران ہی ڈگری میںایک قوم پرست کارکن جاں بحق ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی سندھ اسمبلی سے منظوری اور قوم پرست کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف نوابشاہ میں بدھ کو تیسرے روز بھی مکمل شٹر ڈائون ہڑتال رہی۔ تمام کاروباری مراکز، بازار، تعلیمی ادارے بند رہے اور سڑکوں سے ٹریفک غائب رہی۔
جب کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس اور رینجرزکی بھاری نفری مختلف شاہراہوں پر تعینات ہونے کے ساتھ دن بھر گشت بھی جاری رہا، دو روز سے میدان جنگ بننے والے سکرنڈ روڈ اور ملحقہ علاقے کو پولیس نے سیل کر دیا۔ڈگری میں ریلی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایس ٹی پی کے ضلعی رہنماء مالک نوہانی شدید زخمی ہوگئے جو بعد ازاں تعلقہ اسپتال میں دم توڑ گئے۔ واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے ڈگری شہر بند کرا دیا اور مالک نوھانی کی لاش محمدی چوک پر رکھ کر دھرنا دیا۔
دریں اثنا مالک نوہانی کی ہلاکت کے خلاف قاسم آباد کے علاقوں میں نامعلوم افراد نے ہوائی فائرنگ کر کے دکانیں اور کاروباری مراکزبند کرا دیے۔ ٹنڈو محمد خان میں بھی قوم پرست جماعتوں کے مشتعل کارکنوں نے تمام کاروباری مراکز بند کرا دیے۔ ٹنڈوالہیار میں نامعلوم افرادکی ہوائی فائرنگ سے بھگڈر مچ گئی اور دکانیں بند ہوگئیں، مٹھی میں بھی مشتعل افراد نے کاروباری مراکز بند کرا دیے، پولیس نے ایس ٹی پی کے ضلعی صدر سمیت7 کارکنان کو گرفتار کر لیا۔
علاوہ ازیں جیے سندھ قومی محاذ نے نئے نظام کی منظوری اور نواب شاہ میں کارکن کی ہلاکت کے خلاف سیشن کورٹ سے حیدرآباد پریس کلب تک ریلی نکالی اور ایس ایس پی نے مظاہرہ کیا جبکہ سول سوسائٹی نے دوسرے روز بھی علامتی بھوک ہڑتال کی۔ ساگرحنیف بردی، حیدر شاہ، ممتاز لغاری، پنہل ساریو، ڈاکٹر عرفانہ ملاح، سچل گوپانگ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پیپلز پارٹی کی جاگیر نہیں کہ اسے کسی کو بھی تحفے میں دے دیں۔
ڈگری میں احتجاج کے دوران پولیس کی مبینہ فائرنگ سے جاں بحق ایس ٹی پی کے ضلعی رہنما مالک نوہانی کی نماز جنازہ فاضل نوہانی گائوں میں ادا کر دی گئی، رات گئے تک ڈگری میں صورتحال بدستور کشیدہ تھی، جب کہ ایس ٹی پی کی جانب سے جمعرات (آج) ضلع میرپورخاص میں ہڑتال کے اعلان کے بعد ڈگری میں رینجرز اور ضلع بھر سے پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی۔