بھارت کوورلڈکپ ہاتھوں سے پھسلتا ہوا محسوس ہونے لگا
مسلسل ناکامیوں نے دھونی کی نیندیں بھی اڑا دیں، دھون کی فارم پر زیادہ تشویش
مسلسل ناکامیوں نے دھونی کی نیندیں بھی اڑا دیں، دھون کی فارم پر زیادہ تشویش فوٹو؛ فائل
آسٹریلیا میں حالیہ ناقص کارکردگی کے بعد بھارت کو ورلڈکپ ہاتھوں سے پھسلتا ہوا محسوس ہونے لگا، مسلسل ناکامیوں نے کپتان مہندرا سنگھ دھونی کی نیندیں بھی اڑا دی ہیں، انھیں خصوصاً شیکھر دھون کی فارم میں زیادہ تشویش ہے۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا میں بھارت مسلسل ناکامیوں کا شکار ہے، ٹیسٹ سیریز گنوانے کے بعد اب ٹرائنگولر سیریز میں بھی ابتدائی دونوں میچز شکست پر ختم ہوئے، ماہرین کو ٹیم سے ورلڈکپ کے دفاع کی امیدیں کم ہی ہیں، کپتان دھونی بھی اس صورتحال سے خاصے پریشان ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ جب ٹیم اچھی کارکردگی پیش نہ کرے تو سخت تنقید کا سامنا توکرنا ہی ہوتا ہے، نتیجتاً آؤٹ آف فارم شیکھر دھون جیسے پلیئرز سخت دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سڈنی میں اگلے میچ سے قبل 5 دن کا وقفہ ٹیم کیلیے مثبت ثابت ہو گا، اس سے ہم تروتازہ ہو کر کھیل میں واپس آئیں گے۔
ایک سوال پر دھونی نے کہا کہ ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ یہ وہی بیٹنگ لائن ہے جس نے انگلینڈ میں چیمپئنز ٹرافی جتوائی تھی، انہی پلیئرز نے ٹیسٹ سیریز میں بہتر کھیل پیش کیا۔ طویل دورے کی تھکاوٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی قائد نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساڑھے 4 ماہ کا ٹور بہت طویل ہے، گھروں سے دور کرکٹرز کو15 دن بعد ہی فیملی کی یاد ستانے لگتی ہے، ہم جانتے ہیں کہ ایسا ہونا ہے اور ہمیں اس کیلیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں دھون جیسے بیٹسمین پر بھروسہ کرنا ہوگاکیونکہ وہ ہمارے گیم پلان کیلیے اہمیت رکھتے ہیں۔ اکثر پٹیل کو بہترین اسپنر قرار دیتے ہوئے دھونی نے کہاکہ انھیں زیادہ سے زیادہ مواقع دینا چاہیے، ایشون نے براعظم سے باہر اچھی کارکردگی دکھائی جبکہ اکثر بھی بہتری کی طرف گامزن ہیں، وہ جلد ہی اپنی بیٹنگ بھی ٹھیک کرلیں گے۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا میں بھارت مسلسل ناکامیوں کا شکار ہے، ٹیسٹ سیریز گنوانے کے بعد اب ٹرائنگولر سیریز میں بھی ابتدائی دونوں میچز شکست پر ختم ہوئے، ماہرین کو ٹیم سے ورلڈکپ کے دفاع کی امیدیں کم ہی ہیں، کپتان دھونی بھی اس صورتحال سے خاصے پریشان ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ جب ٹیم اچھی کارکردگی پیش نہ کرے تو سخت تنقید کا سامنا توکرنا ہی ہوتا ہے، نتیجتاً آؤٹ آف فارم شیکھر دھون جیسے پلیئرز سخت دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سڈنی میں اگلے میچ سے قبل 5 دن کا وقفہ ٹیم کیلیے مثبت ثابت ہو گا، اس سے ہم تروتازہ ہو کر کھیل میں واپس آئیں گے۔
ایک سوال پر دھونی نے کہا کہ ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ یہ وہی بیٹنگ لائن ہے جس نے انگلینڈ میں چیمپئنز ٹرافی جتوائی تھی، انہی پلیئرز نے ٹیسٹ سیریز میں بہتر کھیل پیش کیا۔ طویل دورے کی تھکاوٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی قائد نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساڑھے 4 ماہ کا ٹور بہت طویل ہے، گھروں سے دور کرکٹرز کو15 دن بعد ہی فیملی کی یاد ستانے لگتی ہے، ہم جانتے ہیں کہ ایسا ہونا ہے اور ہمیں اس کیلیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں دھون جیسے بیٹسمین پر بھروسہ کرنا ہوگاکیونکہ وہ ہمارے گیم پلان کیلیے اہمیت رکھتے ہیں۔ اکثر پٹیل کو بہترین اسپنر قرار دیتے ہوئے دھونی نے کہاکہ انھیں زیادہ سے زیادہ مواقع دینا چاہیے، ایشون نے براعظم سے باہر اچھی کارکردگی دکھائی جبکہ اکثر بھی بہتری کی طرف گامزن ہیں، وہ جلد ہی اپنی بیٹنگ بھی ٹھیک کرلیں گے۔