اوباما کا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب

دہشت گردی کے خلاف امریکا نے آج تک جتنی بھی کارروائیاں کیں ان کے نتائج سے عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گردی کم نہیں ہوئی۔

روسی وزیر خارجہ کی یہ بات بالکل درست ہے کہ امریکا دنیا پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کر رہا ہے، فوٹو : فائل

امریکی صدر بارک اوباما نے بدھ کو واشنگٹن میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا کہ امریکا پاکستان سے لے کر فرانس تک دہشت گردی کے شکار تمام افراد کے ساتھ ہے، چاہے وہ دہشت گردی پاکستان کے اسکول میں ہو یا فرانس کی سڑکوں پر، پوری دنیا میں دہشت گردی کے شکار افراد کے ساتھ ہیں، پشاور اسکول پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا پیچھا کر کے ان کا خاتمہ کریں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے اور دنیا بھر میں جہاں بھی دہشت گرد امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں گے ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی جائے گی۔

صدر بارک اوباما کے خطاب سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں نامعلوم کتنے سال تک یہ جاری رہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ صدر اوباما کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میںامریکا کا مشن پورا ہو گیا مگرساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ افغان جنگ کے خاتمے کے باوجود دنیا بھر میں دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سانحہ پشاور کے پانچ ماسٹر مائنڈ دہشت گرد افغانستان میں گرفتار ہو چکے ہیں۔

امریکا ان دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کا بندوبست کرے تاکہ ان سے تفتیش کی جا سکے۔ صدر اوباما نے کہا کہ عراق اور شام میں امریکی قیادت میں اتحاد داعش کی پیش قدمی روک رہا ہے، مشرق وسطیٰ میں ایک اور زمینی جنگ میں گھسیٹے جانے کے بجائے امریکا ایک وسیع تر اتحاد کی قیادت کر رہا ہے جس میں عرب ممالک بھی شامل ہیں، شام میں ایک روشن خیال حزب مخالف کے بھی حامی ہیں جو اس کوشش میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ امریکا اب القاعدہ کے بعد داعش سے جنگ لڑنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ داعش کوئی اتنی بڑی قوت نہیں کہ امریکا اسے چند ماہ میں ختم نہ کر سکے۔


آخر وہ داعش کو مشرق وسطیٰ کے لیے اتنا بڑا خطرہ ظاہر کر کے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ عراق پر حملہ کر کے وہ اسے پہلے ہی تباہ کر چکا ہے، شام میں ہونے والی خانہ جنگی میں بھی اس کے ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔یمن کو بھی اس نے اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ امریکا نے گزشتہ 13 سال کی جنگوں میں یقیناً بہت سے قیمتی سبق سیکھے ہیں۔ یہ جنگیں اس کی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ثابت ہوئیں اور سیکڑوں امریکی فوجیوں نے بھی اس میں قربانیاں دیں۔ ان جنگوں کے تناظر میں اب وہ اپنی جنگی پالیسیوں میں تبدیلی لے آیا ہے، وہ دہشت گردی کے شکار ممالک میں اپنی فوج استعمال کرنے کے بجائے ان ممالک کو تربیت اور فنڈ دے رہا ہے۔

اس طرح وہ دہشت گردی کی جنگ میں اپنے فوجیوں کو ہلاکت سے بچا رہا ہے۔ امریکا نے ایٹمی ہتھیاروں کا جواز گھڑ کر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور پھر نائن الیون کی آڑ میں اس نے افغانستان پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا، اب ایک بار پھر وہ مشرقی وسطیٰ میں اپنی جنگ لڑنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ داعش کا اثر عراق اور شام تک پھیلا ہوا ہے اگر امریکا اس کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ عراق اور شام دونوں ممالک امریکی جنگ کا شکار ہوں گے۔ اب یہ جنگ کتنا عرصہ جاری رہتی ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر امریکی تیور دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ امریکا اس خطے میں طویل عرصہ تک قیام کرنے کا خواہش مند ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ یہ خطہ آیندہ کئی دہائیوں تک بدامنی کی نذر رہے گا۔

دہشت گردی کے خلاف امریکا نے آج تک جتنی بھی کارروائیاں کیں ان کے نتائج سے عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گردی کم نہیں ہوئی بلکہ روز بروز اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور اب بھی دہشت گردی کا خاتمہ ہونے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ امریکا ایران کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں نرمی لا چکا ہے جس کا اظہار صدر اوباما کے اس خطاب سے ہوتا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے سے جوہری تنازعہ کے حل کے لیے جاری سفارتکاری کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دوسری جانب امریکا کو چین کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت سے بھی شدید خطرات محسوس ہو رہے ہیں، بعض ماہرین یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ آیندہ آنے والی چند دہائیوں میں چین دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت ہو گا۔ امریکا چین سے کس قدر خائف ہے اس کا واضح اظہار صدر اوباما کی اس بات سے ہو جاتا ہے۔

جس میں انھوں نے کہا کہ چین دنیا کی تیز ترین اقتصادی طاقت بننے کی کوشش کر رہا ہے دنیا کیسے ترقی کرے گی اس کا تعین چین نہیں امریکا کرے گا۔ علاوہ ازیں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے امریکی صدر بارک اوباما کے خطاب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا پر اپنا تسلط چاہتا اور اس کے لیے اس نے محاذ آرائی کا راستہ چن لیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ کی یہ بات بالکل درست ہے کہ امریکا دنیا پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کر رہا ہے۔ اب وہ عراق اور شام میں داعش کے خلاف کارروائی کی آڑ میں اس خطے کو مزید تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔
Load Next Story