’’بعد از خرابیٔ بسیار ‘‘
موجودہ حکومت پاکستان کی جمہوری تاریخ کی سب سے زیادہ جمہوریت پسند کہلاتی ہے۔
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں پٹرول ناپید ہو گیا۔ پٹرول کی عدم دستیابی کی وجہ سے سارا پنجاب ایک طرح سے بند اور کاروبار زندگی ٹھپ رہے۔ حکومتیں اگر اہل ہوں تو اس قسم کی اہم ضروریات زندگی کی مسلسل سپلائی کو یقینی بناتی ہیں اور اس کے اسٹاک اور سپلائی کے نظام کی مسلسل مانیٹرنگ کرتی رہتی ہیں کیونکہ عوام دوست اور ذمے دار حکومتوں کی اولین ترجیح عوامی مسائل ہوتے ہیں لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک حکومت بھی ایسی نظر نہیں آتی جسے عوام اور عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی رہی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان پر روز اول ہی سے اشرافیہ کا تسلط رہا ہے۔ اشرافیہ کی اولین ترجیح اقتدار اور اقتدار کے ذریعے قومی دولت کی لوٹ مار رہی ہے اس تناظر میں اگر ہم پنجاب میں پٹرول کی قلت کا جائزہ لیں تو یہ کوئی نئی یا انہونی بات نظر نہیں آتی۔
موجودہ حکومت پاکستان کی جمہوری تاریخ کی سب سے زیادہ جمہوریت پسند کہلاتی ہے اور جمہوری اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ اس قدر شدید بحران پر جس کا اثر 12 کروڑ عوام کی زندگی اور حکومت کی کارکردگی پر پڑا ہے کم از کم متعلقہ وزیر بلا تاخیر استعفیٰ دیدے۔ اگر متعلقہ وزیر استعفیٰ نہیں دیتا تو وزیر اعظم کی ذمے داری ہے کہ وہ اس سے استعفیٰ لیں لیکن ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ ہم جمہوریت پسند تو ہیں لیکن ہمیں جمہوری اخلاقیات پسند نہیں ہیں۔ہمارے وزیر ریلوے جو حکومت کی ٹیم کے ایک اہم رکن ہیں فرماتے ہیں کہ پٹرول کے لیے طویل قطاریں ہمارے لیے باعث شرمندگی ہیں اور ہم اس پر قوم سے معافی مانگتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے بھی فرمایا ہے کہ سی این جی کے بعد پٹرول کے لیے لمبی لمبی قطاریں دیکھ کر ہمارے سر شرم سے جھک رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پٹرول کے بحران سے نہ صرف کروڑوں شہریوں کو ہفتوں اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ حکومت کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوئی کیا 'اس کے ذمے داران احتساب سے مبرا ہیں۔ ہمارے وزیر پٹرولیم فرماتے ہیں کہ پٹرول سستا ہونے سے اس کی طلب میں اضافہ ہو گیا 'اس سے پٹرول کا بحران پیدا ہو گیا۔ ماشا اللہ کیا لاجک ہے۔ پٹرول سستا ہونے سے عوام نے پٹرول پینا شروع کر دیا ہے اس لیے پٹرول کی قلت ہوگئی؟ کمال کی بات یہ ہے کہ پٹرول کی عدم دستیابی کی وجہ سے عوام سڑکوں پر خوار ہوتے رہے اور اس خواری کی خبریں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں آتی رہیں لیکن نہ حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
بحران کے چھ دن بعد میڈیا پر یہ نیوز بریک آئی کہ ''وزیر اعظم نے پٹرول بحران کا نوٹس لے لیا۔'' حیرت ہے کہ چھ دن تک پٹرول کا بحران میڈیا کی پہلی خبر بنا رہا لیکن چھ دن گزرنے کے بعد ایکشن یہ لیا گیا کہ وزارت کے دو تین سیکریٹریوں کو معطل کر دیا گیا اور حسب روایت ایک کمیٹی قائم کر دی ہے ۔پٹرول کا بحران اس ملک کا واحد مسئلہ نہیں ہے بلکہ قدم قدم پر اس قسم کے مسائل کھڑے ہوئے ہیں ۔ اصل خرابی اس نظام پر عائد ہوتی ہے جس میں قومی جرائم کے احتساب کا کوئی راستہ ہی موجود نہیں اور بڑے سے بڑے جرم کی سزا چند بے گناہ یا ضمنی گنہگاروں کی معطلی سے زیادہ نہیں۔
بلاشبہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی پاکستان کے مستقبل پر ایک تلوار کی طرح لٹک رہی ہے۔ حکمران خود پہلی بار اس سنگین صورت حال کو محسوس کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ حکومت کے خلاف طاقتور ترین تحریک چلانے والے بھی اس خطرناک صورت حال کے پیش نظر اپنی تحریکوں کو التوا میں ڈال رہے ہیں۔
دہشت گرد طاقتیں ضرب عضب قومی ایکشن پلان اور قومی یکجہتی کی وجہ سے سخت پریشان ہیں اور بالواسطہ اور بلاواسطہ یہ کوششیں کر رہی ہیں کہ حکومت اور مسلح افواج کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور ان کی توجہ کسی اور طرف کر دیں۔ اس حوالے سے اہل دانش بھارت کی سرحدی کارروائیوں کو بھی دہشت گردوں کی بلاواسطہ حمایت کہہ رہے ہیں اور یہ تاثر اس لیے غلط نہیں کہ سرحدوں پر نازک صورت حال پیدا کرنے سے مسلح افواج اور سول فورسز سب کی توجہ بٹ جاتی ہے اور ایسے فیصلہ کن حالات میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کرنے والوں کی توجہ کو بانٹنا ایک سازش سے کم نہیں۔
ہماری سیاسی اور مذہبی تمام جماعتیں جمہوریت سے اپنے والہانہ عشق کے دعوے کرتی ہیں لیکن جب جمہوریت کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں تو انھیں ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا جاتا ہے۔ ہماری مروجہ جمہوریت اور اس کی پیدا کردہ خرابیوں کا مستقل اور پائیدار علاج تو اس پورے کرپٹ نظام کی مکمل تبدیلی ہے لیکن وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس وقت عوام کے سڑکوں پر آنے کے تمام امکانات کا ازالہ کریں۔ ہمارے سیاستدان اس سسٹم کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز، ہر تحریک کی اس جواز کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں کہ ہر مسئلے کو حل کرنے کا اصل اور واحد فورم پارلیمنٹ ہے۔ بالکل درست لیکن کیا اس ملک میں ہر روز پیدا ہونے والے اس قسم کے بحرانوں کا حل پارلیمنٹ میں نہیں ہونا چاہیے؟
مسئلہ صرف پٹرول کے بحران کا نہیں ہے بلکہ اس قسم کے بحرانوں کے ذمے داروں کے خلاف سختی سے نمٹنے کا ہے ملک میں کون سا ایسا فورم ہے جو اس قسم کے بحرانوں کے اصل ذمے داروں کا احتساب کرے؟ اور دوبارہ اس قسم کے بحرانوں کو پیدا کرنے سے روکے۔ کیا نچلی سطح کے عہدیداروں کو معطل کرنے سے اور تحقیقی کمیٹیاں بنانے سے یہ بحران روکے جا سکتے ہیں اگر اعلیٰ ترین قیادت کروڑوں عوام کی ایک ہفتے تک خواری کے بعد نوٹس لیتی ہے تو اس قسم کی ذمے داری کو سوائے ''بعد از خرابیٔ بسیار خواجہ بیدار شُد'' کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے؟
موجودہ حکومت پاکستان کی جمہوری تاریخ کی سب سے زیادہ جمہوریت پسند کہلاتی ہے اور جمہوری اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ اس قدر شدید بحران پر جس کا اثر 12 کروڑ عوام کی زندگی اور حکومت کی کارکردگی پر پڑا ہے کم از کم متعلقہ وزیر بلا تاخیر استعفیٰ دیدے۔ اگر متعلقہ وزیر استعفیٰ نہیں دیتا تو وزیر اعظم کی ذمے داری ہے کہ وہ اس سے استعفیٰ لیں لیکن ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ ہم جمہوریت پسند تو ہیں لیکن ہمیں جمہوری اخلاقیات پسند نہیں ہیں۔ہمارے وزیر ریلوے جو حکومت کی ٹیم کے ایک اہم رکن ہیں فرماتے ہیں کہ پٹرول کے لیے طویل قطاریں ہمارے لیے باعث شرمندگی ہیں اور ہم اس پر قوم سے معافی مانگتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے بھی فرمایا ہے کہ سی این جی کے بعد پٹرول کے لیے لمبی لمبی قطاریں دیکھ کر ہمارے سر شرم سے جھک رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پٹرول کے بحران سے نہ صرف کروڑوں شہریوں کو ہفتوں اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ حکومت کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوئی کیا 'اس کے ذمے داران احتساب سے مبرا ہیں۔ ہمارے وزیر پٹرولیم فرماتے ہیں کہ پٹرول سستا ہونے سے اس کی طلب میں اضافہ ہو گیا 'اس سے پٹرول کا بحران پیدا ہو گیا۔ ماشا اللہ کیا لاجک ہے۔ پٹرول سستا ہونے سے عوام نے پٹرول پینا شروع کر دیا ہے اس لیے پٹرول کی قلت ہوگئی؟ کمال کی بات یہ ہے کہ پٹرول کی عدم دستیابی کی وجہ سے عوام سڑکوں پر خوار ہوتے رہے اور اس خواری کی خبریں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں آتی رہیں لیکن نہ حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
بحران کے چھ دن بعد میڈیا پر یہ نیوز بریک آئی کہ ''وزیر اعظم نے پٹرول بحران کا نوٹس لے لیا۔'' حیرت ہے کہ چھ دن تک پٹرول کا بحران میڈیا کی پہلی خبر بنا رہا لیکن چھ دن گزرنے کے بعد ایکشن یہ لیا گیا کہ وزارت کے دو تین سیکریٹریوں کو معطل کر دیا گیا اور حسب روایت ایک کمیٹی قائم کر دی ہے ۔پٹرول کا بحران اس ملک کا واحد مسئلہ نہیں ہے بلکہ قدم قدم پر اس قسم کے مسائل کھڑے ہوئے ہیں ۔ اصل خرابی اس نظام پر عائد ہوتی ہے جس میں قومی جرائم کے احتساب کا کوئی راستہ ہی موجود نہیں اور بڑے سے بڑے جرم کی سزا چند بے گناہ یا ضمنی گنہگاروں کی معطلی سے زیادہ نہیں۔
بلاشبہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی پاکستان کے مستقبل پر ایک تلوار کی طرح لٹک رہی ہے۔ حکمران خود پہلی بار اس سنگین صورت حال کو محسوس کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ حکومت کے خلاف طاقتور ترین تحریک چلانے والے بھی اس خطرناک صورت حال کے پیش نظر اپنی تحریکوں کو التوا میں ڈال رہے ہیں۔
دہشت گرد طاقتیں ضرب عضب قومی ایکشن پلان اور قومی یکجہتی کی وجہ سے سخت پریشان ہیں اور بالواسطہ اور بلاواسطہ یہ کوششیں کر رہی ہیں کہ حکومت اور مسلح افواج کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور ان کی توجہ کسی اور طرف کر دیں۔ اس حوالے سے اہل دانش بھارت کی سرحدی کارروائیوں کو بھی دہشت گردوں کی بلاواسطہ حمایت کہہ رہے ہیں اور یہ تاثر اس لیے غلط نہیں کہ سرحدوں پر نازک صورت حال پیدا کرنے سے مسلح افواج اور سول فورسز سب کی توجہ بٹ جاتی ہے اور ایسے فیصلہ کن حالات میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کرنے والوں کی توجہ کو بانٹنا ایک سازش سے کم نہیں۔
ہماری سیاسی اور مذہبی تمام جماعتیں جمہوریت سے اپنے والہانہ عشق کے دعوے کرتی ہیں لیکن جب جمہوریت کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں تو انھیں ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا جاتا ہے۔ ہماری مروجہ جمہوریت اور اس کی پیدا کردہ خرابیوں کا مستقل اور پائیدار علاج تو اس پورے کرپٹ نظام کی مکمل تبدیلی ہے لیکن وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس وقت عوام کے سڑکوں پر آنے کے تمام امکانات کا ازالہ کریں۔ ہمارے سیاستدان اس سسٹم کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز، ہر تحریک کی اس جواز کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں کہ ہر مسئلے کو حل کرنے کا اصل اور واحد فورم پارلیمنٹ ہے۔ بالکل درست لیکن کیا اس ملک میں ہر روز پیدا ہونے والے اس قسم کے بحرانوں کا حل پارلیمنٹ میں نہیں ہونا چاہیے؟
مسئلہ صرف پٹرول کے بحران کا نہیں ہے بلکہ اس قسم کے بحرانوں کے ذمے داروں کے خلاف سختی سے نمٹنے کا ہے ملک میں کون سا ایسا فورم ہے جو اس قسم کے بحرانوں کے اصل ذمے داروں کا احتساب کرے؟ اور دوبارہ اس قسم کے بحرانوں کو پیدا کرنے سے روکے۔ کیا نچلی سطح کے عہدیداروں کو معطل کرنے سے اور تحقیقی کمیٹیاں بنانے سے یہ بحران روکے جا سکتے ہیں اگر اعلیٰ ترین قیادت کروڑوں عوام کی ایک ہفتے تک خواری کے بعد نوٹس لیتی ہے تو اس قسم کی ذمے داری کو سوائے ''بعد از خرابیٔ بسیار خواجہ بیدار شُد'' کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے؟