قوم پرستوں کا بلدیاتی نظام کیخلاف مرحلہ وار جدوجہد کا اعلان
10اکتوبر کو کراچی پریس کلب،12کو بدین اور19 کو ٹنڈو محمد خان میں مظاہرے ہونگے
10اکتوبر کو کراچی پریس کلب،12کو بدین اور19 کو ٹنڈو محمد خان میں مظاہرے ہونگے
قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ بچاؤ ایکشن کمیٹی نے نئے بلدیاتی نظام کیخلاف مرحلہ وار جدوجہد کا اعلان کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ 10 اکتوبر کو پریس کلب پر دھرنا دیا جائیگا۔
12اکتوبر کو بدین جبکہ 19 اکتوبر کو ٹنڈو محمد خان میں عوامی رابطہ مہم اور احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، اس بات کا فیصلہ بدھ کو قوم پرست اور وفاقی جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا جو کہ حیدر منزل پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے چیئرمین سید جلال محمود شاہ کی صدارت میں ہوا جس میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی، مسلم لیگ ق کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی، جئے سندھ محاذ کے الٰہی بخش بکک، عوامی تحریک کے قادر رانٹو، سندھ ڈیموکریٹک پارٹی کے ابرار قاضی، مسلم لیگ ن کے سلیم ضیا، نیشنل پیپلز پارٹی کی راحیلہ ٹوانہ۔
جئے سندھ محاذ کے ریاض چانڈیو سمیت جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے نمائندگان نے شرکت کی، اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام کیخلاف سندھ کے تمام شہروں اور دیہی علاقوں میں عوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی تاکہ وہ حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کسی بھی صورت میں اس بل کو واپس لیں، انھوں نے کہا کہ اسمبلی کو قانون سازی کا حق حاصل ہے لیکن رات کے اندھیرے میں جاری کردہ آرڈیننس کو پانچ منٹ کے اندر بغیر بحث کے منظور کرنے کا حق نہیں۔
12اکتوبر کو بدین جبکہ 19 اکتوبر کو ٹنڈو محمد خان میں عوامی رابطہ مہم اور احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، اس بات کا فیصلہ بدھ کو قوم پرست اور وفاقی جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا جو کہ حیدر منزل پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے چیئرمین سید جلال محمود شاہ کی صدارت میں ہوا جس میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی، مسلم لیگ ق کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی، جئے سندھ محاذ کے الٰہی بخش بکک، عوامی تحریک کے قادر رانٹو، سندھ ڈیموکریٹک پارٹی کے ابرار قاضی، مسلم لیگ ن کے سلیم ضیا، نیشنل پیپلز پارٹی کی راحیلہ ٹوانہ۔
جئے سندھ محاذ کے ریاض چانڈیو سمیت جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے نمائندگان نے شرکت کی، اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام کیخلاف سندھ کے تمام شہروں اور دیہی علاقوں میں عوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی تاکہ وہ حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کسی بھی صورت میں اس بل کو واپس لیں، انھوں نے کہا کہ اسمبلی کو قانون سازی کا حق حاصل ہے لیکن رات کے اندھیرے میں جاری کردہ آرڈیننس کو پانچ منٹ کے اندر بغیر بحث کے منظور کرنے کا حق نہیں۔