خادم حرمین الشریفین شاہ عبداللہ کا انتقال
پاکستان میں شاہ عبداللہ کی وفات پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور قومی پرچم سرنگوں رہا۔
بیس برس تک سعودی امور مملکت ان کے ہاتھ میں رہے۔ انھیں سعودی عرب میں قدرے اعتدال پسند حکمران تصور کیا جاتا تھا اور ان کے دور میں میڈیا کو حکومت پر کسی حد تک تنقید کرنے کی اجازت تھی۔ فوٹو : فائل
خادم حرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) وہ پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے کئی ہفتوں سے علیل تھے اور انھیں کئی روز سے ٹیوب کے ذریعے سانس دلایا جا رہا تھا۔ انھیں جمعہ کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سمیت کئی غیر ملکی سربراہوں نے شرکت کی۔
پاکستان میں شاہ عبداللہ کی وفات پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور قومی پرچم سرنگوں رہا۔ سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداللہ کے انتقال پرکئی ملکوں اور حکومتوں کے سربراہان نے انھیں زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے شاہ عبداللہ کے انتقال پر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب امریکا تعلقات میں شاہ عبداللہ کے کردار کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔امریکا کے سابق صدر بش نے بھی شاہ عبداللہ کو مسلم دنیا کا بہترین لیڈر اور امریکا کا بہترین اتحادی قرار دیا۔
شاہ عبداللہ کے انتقال پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی خدمات کوسراہا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے شاہی خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے فلسطین میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے ایک بیان میں کہا کہ مصر شاہ عبداللہ کی تاریخی خدمات کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ایک عظیم اور صلح جو رہنما کی حیثیت سے انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔کینیڈا کے صدر اسٹیفن ہارپر نے شاہ عبداللہ کے انتقال پرسعودی عوام سے گہرے دکھ اور اظہار کیا ہے۔
شاہ عبداللہ نے ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا جب مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا دہشت گردی کے حوالے سے سنگین بحران کا شکار تھی۔ امریکا اور اس کے اتحادی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ لڑ رہے تھے اور سعودی عرب اس جنگ میں امریکا کا اتحادی تھا' ایسے حالات میں سعودی عرب کے لیے مشرق وسطیٰ اور عالم اسلام کو متحد رکھنا انتہائی مشکل کام تھا لیکن شاہ عبداللہ نے ان سنگین اور مشکل حالات میں اپنے ملک ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر رہنما کردار ادا کیا۔ انھوں نے ملک کی سربراہی 2005 میں اپنے بھائی شاہ فہد بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد سنبھالی تھی۔ شاہ عبداللہ نو برس سے زیادہ عرصے تک سعودی عرب کے بادشاہ رہے تاہم عملاً انھوں نے 1995 سے اقتدار سنبھال لیا تھا کیونکہ شاہ فہد شدید بیماری کے باعث امور مملکت انجام دینے سے قاصر ہو چکے تھے۔
یوں بیس برس تک سعودی امور مملکت ان کے ہاتھ میں رہے۔ انھیں سعودی عرب میں قدرے اعتدال پسند حکمران تصور کیا جاتا تھا اور ان کے دور میں میڈیا کو حکومت پر کسی حد تک تنقید کرنے کی اجازت تھی۔ وہ خواتین کے حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔2011 میں شاہ عبداللہ نے سعودی خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بلدیہ کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جسے کئی دہائیوں میں سعودی خواتین کے حقوق کے سلسلے میں آنے والی سب سے اہم تبدیلی قرار دیا جاتا ہے۔ شاہ عبداللہ اگست 1924 کو ریاض میں پیدا ہوئے تھے اور وہ سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز کے 37 بیٹوں میں سے 13ویں نمبر پر تھے۔ ان کی جگہ ولی عہد شاہ سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے نئے فرمانروا بنے ہیں۔
عبداللہ بن عبدالعزیز نے روایت کے مطاق اپنے بچپن کا بڑا حصہ صحرا میں رہتے ہوئے گزارا۔ انھیں دین، ادب اور سائنس کی تعلیم دربار سے وابستہ اسلامی اساتذہ نے دی۔1962 میں شاہ عبداللہ کو 38 برس کی عمر میں شاہ فیصل نے سعودی نیشنل گارڈ کا کمانڈر مقرر کر دیا۔ مارچ 1975 میں شاہ فیصل کے قتل کے بعد ان کے جانشین شاہ خالد نے بھی انھیں ان کے عہدے پر برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دوسرا نائب وزیراعظم بھی بنا دیا۔ شاہ عبداللہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے۔
وہ 1991 میں کویت پر عراقی حملے کے بعد سعودی عرب میں امریکی فوج کی تعیناتی کے حق میں نہیں تھے۔ فلسطینی رہنما یاسر عرفات سے اچھے تعلقات نہ ہونے کے باوجود انھوں نے فلسطینیوں کی حمایت تو کی لیکن ساتھ ساتھ وہ فلسطینی رہنماؤں پر تنقید بھی کرتے رہے۔1994 میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلیوں سے جھڑپوں کے بعد انھوں نے فلسطینی رہنماؤں سے باز رہنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے بارے میں اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ 'ہم دہشت گردی کی ان کارروائیوں کو رد کرتے ہیں جن کا مقصد خلیج کے خطے کے استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔
1997 میں انھوں نے ایک لبنانی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'سعودی عرب امریکا کا دوست رہے گا لیکن ہم ان کے مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح نہیں دے سکتے۔ ہمارے مفادات ہر جگہ موجود مسلمانوں اور عربوں سے وابستہ ہیں۔ ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کے بعد جہاں انھوں نے بطور حکمران سعودی عرب کے قومی دن کی تقریبات کو مختصر کرنے کا حکم دیا وہیں امریکی ذرایع ابلاغ میں حملوں کے بعد سعودی عرب کی منفی شبیہ پیش کیے جانے پر کڑی تنقید بھی کی۔2002 میں عرب لیگ نے عرب اسرائیل تنازع کے خاتمے کے لیے شاہ عبداللہ کی پیش کردہ تجاویز کو ہی اپنایا تھا جن میں اسرائیلی افواج کی جانب سے 1967 سے قبل کی پوزیشن پر واپسی اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے اسرائیل سے امن معاہدے کی بات کی گئی تھی۔
مغربی دنیا سے رشتے بہتر بنانے اور سعودی عرب کے داخلی مسائل پر توجہ دینے کے معاملے میں توازن سے کام لیا۔سعودی سرزمین پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد 2003 میں شاہ عبداللہ نے ایک بڑے سیکیورٹی کریک ڈاؤن کا حکم دیااور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم ظاہر کیا۔ اپنے دورِ بادشاہت میں انھیں عرب ممالک میں شروع ہونے والی انقلابی تحریکوں کے اثرات سعودی عرب تک پہنچنے کا خطرہ درپیش رہا۔
شاہ عبداللہ نے خصوصی تعلقات کی سعودی روایت کو برقرار رکھا' انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا تنازعہ کشمیر ہر معاملے میں پاکستان کے موقف کی حمایت ہی نہیں بلکہ عملی مدد بھی کی۔ انھوں نے ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ان کی وفات سے عالم اسلام ایک مدبر اور زیرک حکمران سے محروم ہو گیا ہے' سعودی عرب کے نئے حکمران شاہ سلمان بن عبدالعزیز بھی عالمی اور عرب سیاست کا طویل تجربہ رکھتے ہیں' امید ہے کہ وہ شاہ عبداللہ کے ویژن کو آگے بڑھائیں گے اور عالم اسلام کے لیے رہنما کردار ادا کرینگے۔
پاکستان میں شاہ عبداللہ کی وفات پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور قومی پرچم سرنگوں رہا۔ سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداللہ کے انتقال پرکئی ملکوں اور حکومتوں کے سربراہان نے انھیں زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے شاہ عبداللہ کے انتقال پر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب امریکا تعلقات میں شاہ عبداللہ کے کردار کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔امریکا کے سابق صدر بش نے بھی شاہ عبداللہ کو مسلم دنیا کا بہترین لیڈر اور امریکا کا بہترین اتحادی قرار دیا۔
شاہ عبداللہ کے انتقال پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی خدمات کوسراہا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے شاہی خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے فلسطین میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے ایک بیان میں کہا کہ مصر شاہ عبداللہ کی تاریخی خدمات کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ایک عظیم اور صلح جو رہنما کی حیثیت سے انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔کینیڈا کے صدر اسٹیفن ہارپر نے شاہ عبداللہ کے انتقال پرسعودی عوام سے گہرے دکھ اور اظہار کیا ہے۔
شاہ عبداللہ نے ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا جب مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا دہشت گردی کے حوالے سے سنگین بحران کا شکار تھی۔ امریکا اور اس کے اتحادی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ لڑ رہے تھے اور سعودی عرب اس جنگ میں امریکا کا اتحادی تھا' ایسے حالات میں سعودی عرب کے لیے مشرق وسطیٰ اور عالم اسلام کو متحد رکھنا انتہائی مشکل کام تھا لیکن شاہ عبداللہ نے ان سنگین اور مشکل حالات میں اپنے ملک ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر رہنما کردار ادا کیا۔ انھوں نے ملک کی سربراہی 2005 میں اپنے بھائی شاہ فہد بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد سنبھالی تھی۔ شاہ عبداللہ نو برس سے زیادہ عرصے تک سعودی عرب کے بادشاہ رہے تاہم عملاً انھوں نے 1995 سے اقتدار سنبھال لیا تھا کیونکہ شاہ فہد شدید بیماری کے باعث امور مملکت انجام دینے سے قاصر ہو چکے تھے۔
یوں بیس برس تک سعودی امور مملکت ان کے ہاتھ میں رہے۔ انھیں سعودی عرب میں قدرے اعتدال پسند حکمران تصور کیا جاتا تھا اور ان کے دور میں میڈیا کو حکومت پر کسی حد تک تنقید کرنے کی اجازت تھی۔ وہ خواتین کے حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔2011 میں شاہ عبداللہ نے سعودی خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بلدیہ کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جسے کئی دہائیوں میں سعودی خواتین کے حقوق کے سلسلے میں آنے والی سب سے اہم تبدیلی قرار دیا جاتا ہے۔ شاہ عبداللہ اگست 1924 کو ریاض میں پیدا ہوئے تھے اور وہ سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز کے 37 بیٹوں میں سے 13ویں نمبر پر تھے۔ ان کی جگہ ولی عہد شاہ سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے نئے فرمانروا بنے ہیں۔
عبداللہ بن عبدالعزیز نے روایت کے مطاق اپنے بچپن کا بڑا حصہ صحرا میں رہتے ہوئے گزارا۔ انھیں دین، ادب اور سائنس کی تعلیم دربار سے وابستہ اسلامی اساتذہ نے دی۔1962 میں شاہ عبداللہ کو 38 برس کی عمر میں شاہ فیصل نے سعودی نیشنل گارڈ کا کمانڈر مقرر کر دیا۔ مارچ 1975 میں شاہ فیصل کے قتل کے بعد ان کے جانشین شاہ خالد نے بھی انھیں ان کے عہدے پر برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دوسرا نائب وزیراعظم بھی بنا دیا۔ شاہ عبداللہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے۔
وہ 1991 میں کویت پر عراقی حملے کے بعد سعودی عرب میں امریکی فوج کی تعیناتی کے حق میں نہیں تھے۔ فلسطینی رہنما یاسر عرفات سے اچھے تعلقات نہ ہونے کے باوجود انھوں نے فلسطینیوں کی حمایت تو کی لیکن ساتھ ساتھ وہ فلسطینی رہنماؤں پر تنقید بھی کرتے رہے۔1994 میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلیوں سے جھڑپوں کے بعد انھوں نے فلسطینی رہنماؤں سے باز رہنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے بارے میں اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ 'ہم دہشت گردی کی ان کارروائیوں کو رد کرتے ہیں جن کا مقصد خلیج کے خطے کے استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔
1997 میں انھوں نے ایک لبنانی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'سعودی عرب امریکا کا دوست رہے گا لیکن ہم ان کے مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح نہیں دے سکتے۔ ہمارے مفادات ہر جگہ موجود مسلمانوں اور عربوں سے وابستہ ہیں۔ ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کے بعد جہاں انھوں نے بطور حکمران سعودی عرب کے قومی دن کی تقریبات کو مختصر کرنے کا حکم دیا وہیں امریکی ذرایع ابلاغ میں حملوں کے بعد سعودی عرب کی منفی شبیہ پیش کیے جانے پر کڑی تنقید بھی کی۔2002 میں عرب لیگ نے عرب اسرائیل تنازع کے خاتمے کے لیے شاہ عبداللہ کی پیش کردہ تجاویز کو ہی اپنایا تھا جن میں اسرائیلی افواج کی جانب سے 1967 سے قبل کی پوزیشن پر واپسی اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے اسرائیل سے امن معاہدے کی بات کی گئی تھی۔
مغربی دنیا سے رشتے بہتر بنانے اور سعودی عرب کے داخلی مسائل پر توجہ دینے کے معاملے میں توازن سے کام لیا۔سعودی سرزمین پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد 2003 میں شاہ عبداللہ نے ایک بڑے سیکیورٹی کریک ڈاؤن کا حکم دیااور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم ظاہر کیا۔ اپنے دورِ بادشاہت میں انھیں عرب ممالک میں شروع ہونے والی انقلابی تحریکوں کے اثرات سعودی عرب تک پہنچنے کا خطرہ درپیش رہا۔
شاہ عبداللہ نے خصوصی تعلقات کی سعودی روایت کو برقرار رکھا' انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا تنازعہ کشمیر ہر معاملے میں پاکستان کے موقف کی حمایت ہی نہیں بلکہ عملی مدد بھی کی۔ انھوں نے ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ان کی وفات سے عالم اسلام ایک مدبر اور زیرک حکمران سے محروم ہو گیا ہے' سعودی عرب کے نئے حکمران شاہ سلمان بن عبدالعزیز بھی عالمی اور عرب سیاست کا طویل تجربہ رکھتے ہیں' امید ہے کہ وہ شاہ عبداللہ کے ویژن کو آگے بڑھائیں گے اور عالم اسلام کے لیے رہنما کردار ادا کرینگے۔