کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مندی 34100کی حدبھی گرگئی
کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 26.15 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر22 کروڑ72 لاکھ 89 ہزار90 حصص کے سودے ہوئے۔
کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 26.15 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر22 کروڑ72 لاکھ 89 ہزار90 حصص کے سودے ہوئے۔ فوٹو: آن لائن/فائل
کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو بھی پرافٹ ٹیکنگ کا رحجان غالب رہنے سے کاروباری سرگرمیاں اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کی زد میں رہیں جس سے انڈیکس کی34100 پوائنٹس کی حد بھی گرگئی۔
مندی کے باعث 57.45 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید15 ارب88 کروڑ26 لاکھ97 ہزار627 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں کے سرمایہ کارنئی مانیٹری پالیسی کے منتظر ہیں جس کا اعلان ہفتے کو ہوگا اور مانیٹری پالیسی میں شرح سود سے متعلق فیصلے کے اعلان کے بعد ہی وہ اپنی نئی کاروباری ترجیحات کا تعین کریں گے جس کا اثر آئندہ ہفتے کے کاروباری سیشنز میں مرتب ہوگا۔
ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر1 کروڑ12 لاکھ88 ہزار231 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر45 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن بعد ازاں حصص کی فروخت پر رحجان غالب ہونے سے مندی کی شدت168 پوائنٹس کی کمی تک جاپہنچی تھی جس سے انڈیکس کی 34000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی تھی اور اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 42 لاکھ71 ہزار538 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے38 لاکھ61 ہزار339 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے15 لاکھ34 ہزار623 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے16 لاکھ20 ہزار733 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے مارکیٹ مندی سے دوچار ہوئی نتیجتاکاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 120.38 پوائنٹس کی کمی سے34026.59 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس101.89 پوائنٹس کی کمی سے 22104.36 اور کے ایم آئی30 انڈیکس425.28 پوائنٹس کی کمی سے 53107.48 ہوگیا۔
کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 26.15 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر22 کروڑ72 لاکھ 89 ہزار90 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار369 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں139 کے بھاؤ میں اضافہ 212 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
مندی کے باعث 57.45 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید15 ارب88 کروڑ26 لاکھ97 ہزار627 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں کے سرمایہ کارنئی مانیٹری پالیسی کے منتظر ہیں جس کا اعلان ہفتے کو ہوگا اور مانیٹری پالیسی میں شرح سود سے متعلق فیصلے کے اعلان کے بعد ہی وہ اپنی نئی کاروباری ترجیحات کا تعین کریں گے جس کا اثر آئندہ ہفتے کے کاروباری سیشنز میں مرتب ہوگا۔
ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر1 کروڑ12 لاکھ88 ہزار231 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر45 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن بعد ازاں حصص کی فروخت پر رحجان غالب ہونے سے مندی کی شدت168 پوائنٹس کی کمی تک جاپہنچی تھی جس سے انڈیکس کی 34000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی تھی اور اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 42 لاکھ71 ہزار538 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے38 لاکھ61 ہزار339 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے15 لاکھ34 ہزار623 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے16 لاکھ20 ہزار733 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے مارکیٹ مندی سے دوچار ہوئی نتیجتاکاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 120.38 پوائنٹس کی کمی سے34026.59 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس101.89 پوائنٹس کی کمی سے 22104.36 اور کے ایم آئی30 انڈیکس425.28 پوائنٹس کی کمی سے 53107.48 ہوگیا۔
کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 26.15 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر22 کروڑ72 لاکھ 89 ہزار90 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار369 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں139 کے بھاؤ میں اضافہ 212 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔