سری نواسن کی چھٹی بھارتی کرکٹ بورڈ میں اقتدار کی رسہ کشی

موجودہ حالات میں حکمراں جماعت بی جے پی کی مداخلت ناگزیر ہوگئی ہے

موجودہ حالات میں حکمراں جماعت بی جے پی کی مداخلت ناگزیر ہوگئی فوٹو؛فائل

آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کیس میں گروناتھ میاپن کو ملزم قرار دیے جانے کے بعد سری نواسن کیلیے آئندہ 3 برس کیلیے بھارتی کرکٹ بورڈ کی صدارت پر قابض ہونا ممکن نہیں رہا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایسے میں بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کی مداخلت ناگزیز ہوگئی ہے، سردست بھارتی بورڈ میں دو گروپ ہیں، ایک کی سربراہی معطل چیف سری نواسن کرتے ہیں جب کہ دوسرے گروپ کو شرد پوار کی آشیرباد حاصل ہے، سری نواسن کے اتحادیوں کیلیے عدالتی فیصلہ بھیانک خواب کی صورت سامنے آیا ہے، اگر سری نواسن موجودہ صورتحال میں غیرفعال ہوجاتے ہیں تو ان کے گروپ کے پاس کوئی دوسرا لیڈر فی الوقت نہیں ہے، جس کے بل بوتے پر وہ 31 رکنی بی سی سی آئی ہائوس پر قبضہ برقرار رکھ پائیں گے، تاہم بھارتی جنتا پارٹی ( بی جے پی ) بی سی سی آئی کے 8 یونٹس کو کنٹرول کیے ہوئے ہے۔


انھیں بورڈ پر اپنا تسلط قائم رکھنے کیلیے مزید 16 ووٹس درکار ہوتے ہیں، تاہم ایسے میں اگر اور مگر کا معاملہ کافی گھمبیر ہے، موجودہ حکمراں گروپ کے لیے صدارتی امیدوار کاتعین مشکل ہوگا، جو بی جے پی کیلیے قابل قبول ہو، دوسری جانب سری نواسن کے حریف گروپ کیلیے اس فیصلے میں چند اچھی خبریں ہیںِ ، اس جتھے کی سربراہی شرد پوار کرتے ہیں، جو ماضی میں آئی سی سی اور بھارتی بورڈ کے چیف بھی رہے ہیں، انھوں نے گذشتہ دنوں بننے والی صورتحال میں تمام بورڈ ممبران کا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ بھارتی کرکٹ کے داغدار چہرے کو دوبارہ روشن کیا جاسکے ، شردپوار خود بھی بھارتی بورڈ کے الیکشن میں دوبارہ دلچسپی رکھتے ہیں، انھیں شیشانک منوہر اور آئی ایس بندرا جیسے سابق آفیشلز کی حمایت بھی حاصل ہے، اس کے علاوہ اجے شیرک، سنجے جگدل اور چیرایو امین بھی ان کے گروپ میں ہی ہیں۔

تاہم کوئی بھی گروپ بی جے پی کے بغیر بورڈ میں اپنی اکثریت ثابت نہیں کرسکتا، سری نواسن گروپ جگموہن ڈالمیا یا موجودہ نائب صدر راجیوشکلا کو سامنے لانے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، تاہم ڈالمیا کے معاملے میں اعتماد کا فقدان آڑے آتا ہے اور شکلا کی زیرسربراہی آئی پی ایل میں تاریخ کے بدترین اسکینڈل نے بھارتی کرکٹ کو رسوا کیا ہے، موجودہ صورتحال میں بی جے پی فیصلہ کن کردار رکھتی ہے، ان کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ ، دونوں گجرات کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیف بھی ہیں، وہ ممکنہ طور پر آنے والے بھارتی کرکٹ بورڈ انتخابات میں کلیدی عہدوں پر بھی فائز ہوسکتے ہیں۔
Load Next Story