دہشت گردی کیخلاف ایکشن پلان پر عملدرآمد میں پنجاب سب سے آگے
پنجاب میں ایکشن پلان کے آغاز کے بعد سے اب تک 20 مجرموں کو سزائے موت دی گئی
وزیراعظم کی دیگر صوبوں کو ایکشن پلان پر عمل کرنے کی ہدایت،پنجاب کی کوششوں کی تعریف فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلیے نیشنل ایکشن پلان پر ملک کے تمام علاقوں میں عملدرآمد جاری ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پنجاب اس سلسلے میں دیگر صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سے آگے ہے، ایکشن پلان کے آغاز کے بعد سے اب تک 20 مجرموں کو سزائے موت دی گئی، پنجاب میں 14، سندھ میں 5، خیبر پختونخوا میں ایک مجرم کو سزائے موت دی گئی، پنجاب میں 5487، خیبر پختونخوا میں 1223، سندھ میں 322، بلوچستان میں 12 اور اسلام آباد میں 275 سرچ آپریشن ہوئے، پنجاب میں 958، سندھ 244، خیبر پختونخوا 234، بلوچستان 188 اور اسلام آباد میں 235 افراد کو گرفتار کیا گیا، پنجاب میں منافرت انگیز تقاریر پر 329 اور خیبر پختونخوا میں 10 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر صوبوں سے تعمیل کا انتظار ہے، لاؤڈ اسپیکروں کے غلط استعمال پر پنجاب میں 2837 کیس درج ہوئے جس پر 1471 افراد کو گرفتار کیا گیا، اس الزام پر اسلام آباد میں 14 افراد گرفتار ہوئے جبکہ دیگر صوبوں سے تعمیل کا انتظار ہے۔
پنجاب میں 51 دکانوں کو بند کیا گیا، دیگر صوبوں سے تعمیل کا انتظار ہے، پنجاب میں 1085 مقامات سے منافرت انگیز مواد قبضے میں لیا گیا دیگر صوبوں سے تعمیل کا انتظار ہے، پنجاب میں 166000 افغان پناہ گزینوں کو رجسٹرڈ کیا گیا جبکہ دیگر صوبوں سے اعداد و شمار دستیاب نہیں، دہشت گردی کے گلوریفکیشن کے الزامات پر پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں اس سلسلے میں قانون سازی جاری ہے جبکہ میڈیا مشاورت شروع ہو گئی ہے، وزیراعظم نے اس سلسلے میں حکومت پنجاب کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے دیگر صوبوں سے کہا ہے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر پورے جذبے سے عمل کریں تاکہ ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پنجاب اس سلسلے میں دیگر صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سے آگے ہے، ایکشن پلان کے آغاز کے بعد سے اب تک 20 مجرموں کو سزائے موت دی گئی، پنجاب میں 14، سندھ میں 5، خیبر پختونخوا میں ایک مجرم کو سزائے موت دی گئی، پنجاب میں 5487، خیبر پختونخوا میں 1223، سندھ میں 322، بلوچستان میں 12 اور اسلام آباد میں 275 سرچ آپریشن ہوئے، پنجاب میں 958، سندھ 244، خیبر پختونخوا 234، بلوچستان 188 اور اسلام آباد میں 235 افراد کو گرفتار کیا گیا، پنجاب میں منافرت انگیز تقاریر پر 329 اور خیبر پختونخوا میں 10 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر صوبوں سے تعمیل کا انتظار ہے، لاؤڈ اسپیکروں کے غلط استعمال پر پنجاب میں 2837 کیس درج ہوئے جس پر 1471 افراد کو گرفتار کیا گیا، اس الزام پر اسلام آباد میں 14 افراد گرفتار ہوئے جبکہ دیگر صوبوں سے تعمیل کا انتظار ہے۔
پنجاب میں 51 دکانوں کو بند کیا گیا، دیگر صوبوں سے تعمیل کا انتظار ہے، پنجاب میں 1085 مقامات سے منافرت انگیز مواد قبضے میں لیا گیا دیگر صوبوں سے تعمیل کا انتظار ہے، پنجاب میں 166000 افغان پناہ گزینوں کو رجسٹرڈ کیا گیا جبکہ دیگر صوبوں سے اعداد و شمار دستیاب نہیں، دہشت گردی کے گلوریفکیشن کے الزامات پر پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں اس سلسلے میں قانون سازی جاری ہے جبکہ میڈیا مشاورت شروع ہو گئی ہے، وزیراعظم نے اس سلسلے میں حکومت پنجاب کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے دیگر صوبوں سے کہا ہے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر پورے جذبے سے عمل کریں تاکہ ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جا سکے۔