سپریم کورٹ نے شہناز شیخ کی رکنیت معطل کردی مجتبیٰ کھرل کو نوٹس
دہری شہریت والے ارکان کی تفصیلات طلب،وزیرداخلہ،منتخب نمائندے سچ بولنے کی جرات کریں،جسٹس خلجی
پارلمنٹیرین سے حلف کافیصلہ ہو چکا، اس پر عمل ہوتا رہے گا،چیف جسٹس، توہین عدالت کیس میں وزیر داخلہ کوحاضری سے استثنیٰ دے دیا گیا۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے دہری شہریت کیس میں ایک اور رکن قومی اسمبلی شہناز شیخ کی رکنیت معطل کر دی ہے اور جواب نہ دینے پر شہناز شیخ اور غلام مجتبٰی کھرل کو دوبارہ نوٹس جا ری کر دیاہے۔
جبکہ وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو ہدایت کی ہے کہ دہری شہریت کے حامل پارلمنٹیرین اور ارکان صوبائی اسمبلیوں کے بارے میں تفصیلات سات دن کے اندر سر بمہر لفافے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس جمع کرادیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، شہناز شیخ کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا جبکہ ان کے بارے میں خبر دینے والے رپورٹر نے بتایا کہ وہ آسٹریلین شہری ہیں، انھیں1999میں آسٹریلین پاسپورٹ جاری ہوا جس پر وہ سعودی ایئر لائن میں سفر کر چکی ہیں جبکہ دوسرا پاسپورٹ 2009میں جاری ہوا جس پر وہ تھائی ایئر لائن کے ذریعے بیرون ملک گئیں۔ ایم این اے مجتبٰی کھرل کے وکیل نے جواب کیلیے وقت مانگ لیا۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا جواب کیا ہے،کہہ دیںکہ وہ غیر ملکی شہری ہیں یا نہیں، ہمارے منتخب نمائندوں میں سچ بولنے کی جرات ہونی چاہیے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ وہ اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سیکریٹری قومی اسمبلی کے ذریعے بھیجے گئے نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا جس پر عدالت نے دوبارہ نوٹس جاری کر کے تین دن میں جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے رحمٰن ملک کوکہا آرٹیکل پانچ کے تحت آئین اور ریاست سے وفاداری ہر شہری کی ذمے داری ہے، اگر آپ کے پاس ایسے منتخب نمائندوںکی تفصیل موجود ہے جو دہری شہریت رکھتے ہیں تو عدالت کو آگاہ کرنے سے نہ صرف ذمہ داری پوری ہو گی بلکہ یہ ایک قومی خدمت بھی ہو گی۔
رحمٰن ملک نے کہا ان کے پاس فہرست نہیں تاہم سنی سنائی اطلاعات ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا صدر، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی بات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے عدالت کو وہ سنے سنائے نام بتا دیں۔ رحمٰن ملک نے کہا وہ عدالت کوگمراہ نہیں کر سکتے اگر بعد میں اطلاع غلط ثابت ہوئی تو انھیں عدالتوں میںگھسیٹا جائے گا اور شرمندگی ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا ہمیں بھی پارلیمنٹیرین کی عزت عزیز ہے اس لیے بہتر یہی ہوگاکہ سر بمہر لفافے میں تمام تفصیلات فراہم کر دی جائیں ۔رحمٰن ملک نے کہا وہ ان کیمرہ عدالت کو تفصیلات بتا دیںگے ۔چیف جسٹس نے کہا پارلمنٹیرین سے حلف کا فیصلہ ہو چکا اس پر عمل ہوتا رہے گا۔
رحمٰن ملک نے عدالت کو بتایا اگر ان کے پاس اطلاعات ہوئیں تو عدالت کو آگاہ کر دیں گے فی الوقت وہ قومی سلامتی کے حوالے سے امریکا جارہے ہیں، وزیر داخلہ نے کہا وہ طالبان اور دہشت گردوں کیخلاف لڑرہے ہیں اور یہ ان کے سامنے مقدم ہے۔ اس موقع پروزیر داخلہ نے درخواست گزار محمود اختر نقوی کا معاملہ اٹھایا اورکہا کہ انھوں نے عدالت کوگمراہ کیا وہ مفرور تھے اور عدالت نے ایک مفرورکی درخواست پر فیصلہ دیا، عدالت نے مقدمے کی سماعت17 اکتوبر تک ملتوی کردی ۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کیخلاف توہین عدالت کیس میں عدالت نے انہیں پیشی سے مستثنٰی کر دیا ہے اور مقدمے کی مزید سماعت 8 اکتوبرکوکوئٹہ میںکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر داخلہ کو سٹیل مل کیس میں عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے عدالت میں اصغر خان کیس میں سیکرٹری داخلہ کی عدم دلچسپی کا معاملہ اٹھایا اورکہا کہ طلب کرنے کے باوجود وہ نہیں آئے ۔وزیر داخلہ نے بتایا انھوں نے سیکرٹری داخلہ سے پوچھا تاہم ان کا موقف تھا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی سے وزارت داخلہ کا کوئی تعلق نہیں۔چیف جسٹس نے کہا آئی بی اور دیگر سویلین خفیہ ادارے وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں۔جسٹس خلجی عارف حسین نے وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ امریکا جائواور قومی سلامتی کو یقینی بنا کر آجائو ۔
جبکہ وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو ہدایت کی ہے کہ دہری شہریت کے حامل پارلمنٹیرین اور ارکان صوبائی اسمبلیوں کے بارے میں تفصیلات سات دن کے اندر سر بمہر لفافے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس جمع کرادیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، شہناز شیخ کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا جبکہ ان کے بارے میں خبر دینے والے رپورٹر نے بتایا کہ وہ آسٹریلین شہری ہیں، انھیں1999میں آسٹریلین پاسپورٹ جاری ہوا جس پر وہ سعودی ایئر لائن میں سفر کر چکی ہیں جبکہ دوسرا پاسپورٹ 2009میں جاری ہوا جس پر وہ تھائی ایئر لائن کے ذریعے بیرون ملک گئیں۔ ایم این اے مجتبٰی کھرل کے وکیل نے جواب کیلیے وقت مانگ لیا۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا جواب کیا ہے،کہہ دیںکہ وہ غیر ملکی شہری ہیں یا نہیں، ہمارے منتخب نمائندوں میں سچ بولنے کی جرات ہونی چاہیے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ وہ اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سیکریٹری قومی اسمبلی کے ذریعے بھیجے گئے نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا جس پر عدالت نے دوبارہ نوٹس جاری کر کے تین دن میں جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے رحمٰن ملک کوکہا آرٹیکل پانچ کے تحت آئین اور ریاست سے وفاداری ہر شہری کی ذمے داری ہے، اگر آپ کے پاس ایسے منتخب نمائندوںکی تفصیل موجود ہے جو دہری شہریت رکھتے ہیں تو عدالت کو آگاہ کرنے سے نہ صرف ذمہ داری پوری ہو گی بلکہ یہ ایک قومی خدمت بھی ہو گی۔
رحمٰن ملک نے کہا ان کے پاس فہرست نہیں تاہم سنی سنائی اطلاعات ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا صدر، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی بات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے عدالت کو وہ سنے سنائے نام بتا دیں۔ رحمٰن ملک نے کہا وہ عدالت کوگمراہ نہیں کر سکتے اگر بعد میں اطلاع غلط ثابت ہوئی تو انھیں عدالتوں میںگھسیٹا جائے گا اور شرمندگی ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا ہمیں بھی پارلیمنٹیرین کی عزت عزیز ہے اس لیے بہتر یہی ہوگاکہ سر بمہر لفافے میں تمام تفصیلات فراہم کر دی جائیں ۔رحمٰن ملک نے کہا وہ ان کیمرہ عدالت کو تفصیلات بتا دیںگے ۔چیف جسٹس نے کہا پارلمنٹیرین سے حلف کا فیصلہ ہو چکا اس پر عمل ہوتا رہے گا۔
رحمٰن ملک نے عدالت کو بتایا اگر ان کے پاس اطلاعات ہوئیں تو عدالت کو آگاہ کر دیں گے فی الوقت وہ قومی سلامتی کے حوالے سے امریکا جارہے ہیں، وزیر داخلہ نے کہا وہ طالبان اور دہشت گردوں کیخلاف لڑرہے ہیں اور یہ ان کے سامنے مقدم ہے۔ اس موقع پروزیر داخلہ نے درخواست گزار محمود اختر نقوی کا معاملہ اٹھایا اورکہا کہ انھوں نے عدالت کوگمراہ کیا وہ مفرور تھے اور عدالت نے ایک مفرورکی درخواست پر فیصلہ دیا، عدالت نے مقدمے کی سماعت17 اکتوبر تک ملتوی کردی ۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کیخلاف توہین عدالت کیس میں عدالت نے انہیں پیشی سے مستثنٰی کر دیا ہے اور مقدمے کی مزید سماعت 8 اکتوبرکوکوئٹہ میںکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر داخلہ کو سٹیل مل کیس میں عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے عدالت میں اصغر خان کیس میں سیکرٹری داخلہ کی عدم دلچسپی کا معاملہ اٹھایا اورکہا کہ طلب کرنے کے باوجود وہ نہیں آئے ۔وزیر داخلہ نے بتایا انھوں نے سیکرٹری داخلہ سے پوچھا تاہم ان کا موقف تھا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی سے وزارت داخلہ کا کوئی تعلق نہیں۔چیف جسٹس نے کہا آئی بی اور دیگر سویلین خفیہ ادارے وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں۔جسٹس خلجی عارف حسین نے وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ امریکا جائواور قومی سلامتی کو یقینی بنا کر آجائو ۔