داعش کو ختم کرنے کا کثیرالملکی عزم
انسانیت کے دشمن اور دہشت گردوں کا کوئی مذہب، دین و ایمان نہیں ہوتا۔
گستاخانہ خاکوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں، دنیا کی تمام اقوام کو ان شدت پسندوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ فوٹو: فائل
لاہور:
شدت پسندوں کی تنظیم داعش کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے لندن میں امریکا و برطانیہ سمیت 21 ممالک کا اجلاس ہوا جس میں تمام ممالک نے داعش کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔
انسانیت کے دشمن اور دہشت گردوں کا کوئی مذہب، دین و ایمان نہیں ہوتا، اس لیے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کا تعلق کسی قوم یا مذہب سے جوڑنے کے بجائے انسانیت کی بقا کی خاطر تمام اقوام کو باہم کوششوں سے ان شرپسندوں کا قلع قمع کرنا چاہیے۔ لندن کے مذکورہ اجلاس میں 21 ممالک کا اکٹھا ہونا اور داعش جیسی شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائی کا مصمم ارادہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کتنا بڑا خطرہ ہے۔ اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا یہ کہنا صائب ہے کہ داعش کا خطرہ شام اور عراق کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے، داعش کی پیش قدمی روک کر انھیں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
شدت پسندوں کو ختم کرنے کا مشن طویل ہے، کوئی شارٹ کٹ نہیں، داعش کے خلاف لڑنے کے لیے عراقی فورسز کے لیے اسلحہ جلد عراق کو مل جائے گا۔ اجلاس سے قبل جان کیری کا کہنا تھا دہشت گرد ہمارے درمیان دراڑیں ڈالنا چاہتے ہیں، مگر اس کے برعکس ان کے اقدامات کا الٹا اثر ہورہا ہے۔ وہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب لارہے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے بتایا کہ اتحادی ممالک نے داعش کے شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔
دوسری جانب ہفتہ کو شامی فوج کی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے باعث 6 بچوں سمیت 32 افراد ہلاک ہوگئے، جب کہ بغداد میں تعینات امریکی سفیر اسٹیورٹ جونز نے کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے حملوں میں داعش کے نصف سے زائد قائدین سمیت 6 ہزار جنگجو مارے جاچکے ہیں۔ علاوہ ازیں یمن کی موجودہ صورتحال بھی تشویشناک ہے، یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی اور وزیراعظم خالد بحاح کے مستعفی ہونے کے بعد حکومتی ایوان تقریباً خالی ہوگیا ہے، ایسے میں افراتفری کے شکار ملک میں مسلح کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے، دوسری جانب حوثی باغیوں نے راتوں رات پارلیمنٹ کی بلڈنگ کا محاصرہ بھی کرلیا جب کہ وہ پہلے سے ہی صدارت محل کے گرد بھی گھیرا ڈالے بیٹھے ہیں۔
داعش سے پہلے بوکوحرام اور قبل ازیں القاعدہ جیسی تنظیم بھی دہشت کی علامت بن گئی تھیں، دنیا کے دیگر خطوں میں ابھرنے والے شدت پسند بھی انسانیت اور امن کے لیے یکساں خطرے کا باعث ہیں، چاہے وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں یا ان کی دہشت گردی قتل و غارت سے ہٹ کر انارکی پھیلانے کا باعث بنے، گستاخانہ خاکوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں، دنیا کی تمام اقوام کو ان شدت پسندوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
شدت پسندوں کی تنظیم داعش کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے لندن میں امریکا و برطانیہ سمیت 21 ممالک کا اجلاس ہوا جس میں تمام ممالک نے داعش کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔
انسانیت کے دشمن اور دہشت گردوں کا کوئی مذہب، دین و ایمان نہیں ہوتا، اس لیے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کا تعلق کسی قوم یا مذہب سے جوڑنے کے بجائے انسانیت کی بقا کی خاطر تمام اقوام کو باہم کوششوں سے ان شرپسندوں کا قلع قمع کرنا چاہیے۔ لندن کے مذکورہ اجلاس میں 21 ممالک کا اکٹھا ہونا اور داعش جیسی شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائی کا مصمم ارادہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کتنا بڑا خطرہ ہے۔ اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا یہ کہنا صائب ہے کہ داعش کا خطرہ شام اور عراق کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے، داعش کی پیش قدمی روک کر انھیں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
شدت پسندوں کو ختم کرنے کا مشن طویل ہے، کوئی شارٹ کٹ نہیں، داعش کے خلاف لڑنے کے لیے عراقی فورسز کے لیے اسلحہ جلد عراق کو مل جائے گا۔ اجلاس سے قبل جان کیری کا کہنا تھا دہشت گرد ہمارے درمیان دراڑیں ڈالنا چاہتے ہیں، مگر اس کے برعکس ان کے اقدامات کا الٹا اثر ہورہا ہے۔ وہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب لارہے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے بتایا کہ اتحادی ممالک نے داعش کے شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔
دوسری جانب ہفتہ کو شامی فوج کی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے باعث 6 بچوں سمیت 32 افراد ہلاک ہوگئے، جب کہ بغداد میں تعینات امریکی سفیر اسٹیورٹ جونز نے کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے حملوں میں داعش کے نصف سے زائد قائدین سمیت 6 ہزار جنگجو مارے جاچکے ہیں۔ علاوہ ازیں یمن کی موجودہ صورتحال بھی تشویشناک ہے، یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی اور وزیراعظم خالد بحاح کے مستعفی ہونے کے بعد حکومتی ایوان تقریباً خالی ہوگیا ہے، ایسے میں افراتفری کے شکار ملک میں مسلح کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے، دوسری جانب حوثی باغیوں نے راتوں رات پارلیمنٹ کی بلڈنگ کا محاصرہ بھی کرلیا جب کہ وہ پہلے سے ہی صدارت محل کے گرد بھی گھیرا ڈالے بیٹھے ہیں۔
داعش سے پہلے بوکوحرام اور قبل ازیں القاعدہ جیسی تنظیم بھی دہشت کی علامت بن گئی تھیں، دنیا کے دیگر خطوں میں ابھرنے والے شدت پسند بھی انسانیت اور امن کے لیے یکساں خطرے کا باعث ہیں، چاہے وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں یا ان کی دہشت گردی قتل و غارت سے ہٹ کر انارکی پھیلانے کا باعث بنے، گستاخانہ خاکوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں، دنیا کی تمام اقوام کو ان شدت پسندوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔