کبھی بند کیا رے کبھی کھول دیا رے

اب اس کی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ ہم عمران خان کی باتوں کو کیوں اتنا پسند کرتے ہیں،

barq@email.com

پسند اور ناپسند کا معاملہ خالص دل کا معاملہ ہوتا ہے، اس میں ''دلائل و براہین'' کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ قیس عامری عرف مجنون کے سامنے جب لوگوں نے دلائل و براہین کا ڈھیر لگاتے ہوئے کہا کہ لیلیٰ تو کالی کلوٹی ہے تو اس نے ان تمام دلائل و براہین کو اپنے پیر کے انگوٹھے (جوتے نہ ہونے کی وجہ سے) رکھتے ہوئے تہس نہس کر دیا اور صرف اتنا کہا کہ لیلیٰ کو میری نظر سے دیکھو اور دل کے معاملات کی یہی سب سے بڑی دلیل، بڑی صحبت اور برہان ہے کہ دل کے اپنے اندرونی معاملات ہوتے ہیں اور دماغ کو اس میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہوتا کیونکہ دل والوں کا بین الاقوامی بین التاریخی اور بین البراعظمی نعرہ بھی یہی ہے کہ

لوگ سنتے رہے دماغ کی بات
ہم چلے دل کو راہ نما کر کے

اس وقت ''لیلیٰ'' کے ذکر سے ہمیں اپنی ''کلوٹن'' بھی یاد آنے لگی ہے۔ ہم نے جارج بش، جنرل مشرف اور کرزئی سے کتنی درخواستیں کی تھیں کہ کسی دن ہم سے بھی ہاتھ ملایئے کیونکہ آپ کا ہاتھ اس نوبہار ناز کے ہاتھ کو بوسہ دے چکا ہے لیکن تینوں ہی ہماری دل آزاری کر گئے، سو ہم نے بھی بددعا دی اور آج یہ تینوں ہی ہماری اس بددعا میں گرفتار ہیں، لیکن اس وقت ہم اپنے دل کے اس مندمل شدہ زخم کو کریدنا نہیں چاہتے بلکہ ایک تازہ ترین ''معاملہ دل'' کا ذکر کرتے ہیں۔

اب اس کی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ ہم عمران خان کی باتوں کو کیوں اتنا پسند کرتے ہیں، اگر ہے تو یہی اکلوتی دلیل ہے کہ پسند کرتے ہیں تو پسند کرتے ہیں ،کسی کو اس سے کیا بلکہ حضرت مجنوں کی پیروی کرتے ہوئے اتنا ہی عرض کریں گے کہ ان کی باتوں کو ہمارے کانوں سے سنیں۔ ایک مرتبہ پہلے ہمارے ساتھ ایسا ہو چکا ہے بلکہ ہوا تو کئی بار ہے لیکن اس خاص تقریب میں ہمارے اپنے ایک جگری دوست سے کچھ زیادہ ہی ''کہا سنی'' ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں اب وہ ہمارا جگری دوست ہمارے جانی دشمنوں میں شامل ہے۔

ہوا یوں کہ افغانستان کے اچھے وقتوں کی بات ہے کہ ادب کے موضوع پر ایک چندے آفتاب چندے ماہتاب تقریب ہو رہی تھی تقریب خود تو گھناونی حد تک بدصورت تھی کیونکہ انتہائی بدصورت قسم کے بدصورت ترین دانشور اپنے بدصورت ترین مقالے سنا رہے تھے لیکن تقریب کی مہمانہ خصوصی ایک حد درجے خوب صورت ''فارسی زبان'' کی محترمہ تھی جس سے نہ صرف تقریب ہی کو آٹھ دس چاند لگ گئے تھے حالانکہ ان میں انتہائی ہائی پوٹینسی سو سو ملی گرام تک کے خواب آور مقالے بھی تھے۔ ہم خود عام طور پر دس گرام والے دانشورانہ مقالات پر بھی سو جاتے ہیں لیکن اس دن آنکھ تک نہیں جھپک رہی تھی اور نہایت ہی انہماک سے مقالے سن رہے تھے بلکہ یوں کہیے کہ دیکھ رہے تھے، اپنی باری پر وہ محترمہ چہچہائی اور کوئل کی طرح کوکی بلکہ

پی پی تھی پپہا کی کہ کوئل کی تھی کو کو
گہہ بہتا ہوا چاند تھی گہہ تھی رم آہو

ہمارے اس دوست نے جو صدر محفل تھے محترمہ کی باتوں پر کچھ گرفت کی جس سے دونوں میں کچھ تلخ سوال و جواب ہوئے، اس پر ہمیں اس دوست پر سخت غصہ آیا۔ ہم نے اس پر دانت پیسے تو اس نے ہم پر آنکھیں نکالیں۔ یوں ہم دونوں میں تکرار ہو گئی، مسئلہ زیر بحث کو تو چھوڑیئے، ہمارے اس دوست کا موقف یہ تھا کہ محترمہ تو فارسی میں بولی تھی اور ہم فارسی جانتے نہیں تھے تو کیسے اس کی ''طرف داری'' کر رہے ہیں اور یہ بالکل درست تھا، اس وقت سخن فہمی کا نہیں بلکہ خالص طرف داری کا مظاہرہ کر رہے تھے، ظاہر ہے کہ اس موقع پر ہم نے قبیلہ دل کے سب سے بڑے راہ نما اور پیرو مرشد مرزا اسد اللہ خان کا سہارا لیا کہ

گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا


ہم نے کہا ٹھیک ہے ہم فارسی نہیں سمجھتے اس وقت واقعی ہم فارسی نہیں جانتے تھے لیکن باڈی لینگوئج بھی تو کوئی چیز ہے اور وہ محترمہ فارسی سے زیادہ اس ''بین الاقوامی زبان'' میں بول رہی تھیں، اور ٹھیک یہی سلسلہ اب جناب عمران خان کی باتوں کا بھی ہے جو کچھ زیادہ ہماری سمجھ میں نہیں آتیں لیکن پھر بھی اچھی لگتی ہیں اور دل کے معاملات میں ''سمجھنا'' کوئی زیادہ ضروری بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔ مثلاً ایک مرتبہ جب صوفی کانفرنس کے دوران بمقام بھوپال ایک بنگالی حسینہ جو بیک وقت کوئل بھی تھی اور میوری یعنی مورنی بھی تھی اور نام اس کا پاربتی باول تھا جب کوکی اور ناچی تو آپ یقین کریں کہ بنگالی میں ہونے کے باوجود اس کا سب کچھ ہماری سمجھ میں صاف صاف آرہا تھا جسے وہ کسی اور زبان میں نہیں بلکہ خالص پشتو میں ناچ اور گا رہی ہو اور ہمارا دل اپنی ''زبان'' میں گا رہا تھا کہ

گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہے

ہمارا خیال ہے کہ یہ جو حضرت دل ہے یہ بڑا ہی ماہر لسانیات ہوتا ہے۔ سامنے زبان کوئی بھی بولی جارہی ہو یہ نہایت ہی سلیس ترجمہ کر کے ہمیں دیتا ہے، خاص طور پر جب زبان بھی بین الاقوامی یعنی باڈی لینگوئج ہو اور اب عمران خان کی باتیں بھی جب ہم سنتے ہیں تو ایک بھی سمجھ میں نہیں آتی لیکن پھر بھی من ناچے ناچے ۔۔۔ یعنی وہ کہتے اور سنا کرے کوئی بلکہ ایک پشتو شعر ہے کہ

ھرہ یو خبرہ دے زما د رنز دا رو کوی
پاتی شوے د تلو خبرے دا خبرے مہ کوہ

یعنی تمہاری ہر بات میرے دل پر پھاہے کی طرح لگتی ہے ہاں مگر جان جانان صرف ایک ''جانے'' کی بات نہ کرو، جناب عمران خان کی باتیں براہ راست سننا تو ہمارے نصیب میں نہیں ہیں اور ٹی وی پر ان کی باتیں سننے کے لیے ایک لاکھ ایک ہزار ایک سو ایک بڑی دل چسپ سرگرمیاں ہوتی ہیں جو دھیان کو بٹا دیتی ہیں لیکن اچھا ہے کہ اخبار میں ذرا اطمینان یک یو سوئی کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں اور سمجھ میں نہ آنے کے باوجود عش عش کرنے لگتے ہیں، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم ان کی باتیں زبان کی حد تک نہیں سمجھتے وہ تو صاف صاف اردو میں ہوتی ہیں اس لیے نہ سمجھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن ان میں جو مشکل الفاظ اور مخصوص اصطلاحات ہوتی ہیں ۔

وہ ہمارے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں، مثلاً اب کے وہ جو یہ ''بند کرنے'' کی بات کر رہے ہیں وہ بھی پورے پاکستان کو تو ہماری سمجھ بالکل جواب دے دیتی ہے کیونکہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے بند کرنے کا مطلب بند کرنا ہوتا ہے یعنی یہ جو بند (ب ن د) کا لفظ ہے اس کے ایک معنی تو وہ ہیں جن کا تعلق کسی سوئچ یا کسی ایسی دوسری چیز سے ہوتا ہے کہ ہاتھ بڑھایا اور بند کر دیا، انگریزی میں اس کا مفہوم ''آف'' ہوتا ہے، دوسرا مفہوم ب ن د (بند) کا وہ ہے جسے کسی کو کمرے میں بند کر دیا جائے، تالا لگا دیا جائے، حوالات میں بند کر دیا جائے یا کسی خاص جگہ بند کیا جائے اس کا انگریزی مطلب غالباً ''باؤنڈ'' ہوتا ہے۔

ایک اور اس کے قریب لفظ بھی ہے لیکن وہ تو صاف صاف دو عدد آنکھیں (ھ) رکھتا ہے اور جو رسی کے بغیر نہیں ہوتا اور ہماری دبدا یہی ہے کہ جناب عمران خان کا مطلب قسم کے ''بند'' کرنے سے ہے وہ دو چشمی ''بندھ'' تو خیر ہو نہیں سکتا کیونکہ اتنی بڑی رسی یا زنجیر کہاں سے لائی جا سکے گی کہ پورے ملک کو محیط ہو جائے لیکن یہ بند کے جو باقی دو مفاہیم ہیں اس کے سمجھنے میں بھی ہمیں بڑی دقت ہو رہی ہے کیونکہ پورے پاکستان کا نہ تو کوئی بٹن ہے اور نہ کوئی اتنا بڑا پٹارا یا الماری یا کمرہ یا صندوق ہے جس میں چار صوبوں اور اٹھارہ کروڑ لوگوں کو بند کیا جا سکے۔

اگر ایسی بات حکومت کہے تو کسی حد تک سمجھ میں آسکتی ہے بلکہ حکومت اکثر ایسا کرتی رہتی ہے بلکہ آج کل تو صرف یہی کرتی ہے۔ کبھی بجلی بند کر دیتی ہے ،کبھی گیس کبھی پٹرولیم کبھی شہر کبھی سڑکیں اور کبھی لوگ بلکہ اب تو سنا ہے کہ ملک بھر میں کسی بھی چیز کی ''پوچھ'' بھی بند کی جا چکی ہے، چنانچہ ہم کافی سوچ و بچار اور بے شمار داناؤں دانشوروں سے پوچھ کر سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ جناب عمران خان بات بات پر ملک کے بند کرنے کی جو بات کر رہے ہیںاس کا اصل مفہوم کیا ہے اور ایسا کون سا سوئچ ان کے ہاتھ میں آگیا ہے کہ وہ جب چاہیں ملک کو بند کر دیں اور جب چاہیں کھول دیں۔

ساڑھی کے فال سے کبھی میچ کیا رے
کبھی چھوڑ دیا دل کبھی کیچ کیا رے
Load Next Story