اسلام آباد کے الرجی پھیلانے والے درخت

ہمارے اس ’’تیشے‘‘ یعنی ناک نے اسلام آباد شریف سے ہمارا رشتہ یوں جوڑا کہ یہ مستقل طور پر الرجی کا شکار رہتی ہے۔

barq@email.com

لاہور:
پہلے تو ہم اس عظیم، برتر اور کار ساز خدا کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں ایک ایسی ''ناک'' عطا فرمائی جو ہمارے کام آئی اور پھر ہم اپنی اس ''ناک'' کا بھی تھینکس کرتے ہیں جس نے ہماری ایک دیرینہ بلکہ تقریباً ''مردہ تمنا'' پوری کرتے ہوئے اسلام آباد سے ہمارا ''تعلق'' جوڑ لیا حالانکہ ہماری یہ ناک خطرناک حد تک ڈیفکٹیو ہے لیکن پھر بھی اس نے کمال کر دکھایا۔

ہم سخن ''تیشے'' نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا بھی کسی میں ہو کمال اچھا ہے

ہمارے اس ''تیشے'' یعنی ناک نے اسلام آباد شریف سے ہمارا رشتہ یوں جوڑا کہ یہ مستقل طور پر الرجی کا شکار رہتی ہے چنانچہ ایک ہندی فلم ''ویلکم ٹو سجن پور'' کی ایک بڑھیا کی طرح ہم روتے ہیں، ناک سے روتے ہیں یا ان خواتین کی طرح جو پرائی میت پر جا کر صرف منہ سے اور ناک سے روتی ہیں۔

منہ سے طرح طرح کی دلدوز باتیں کرتی ہیں بلکہ میت کے بارے میں طرح طرح کے انکشافات کرتی رہتی ہیں اور آنسو آنکھوں کے بجائے ناک سے بہاتی ہیں جو حیرت انگیز طور پر ایسے موقعے پر ''آب ریز'' ہو جاتی ہیں اور باقاعدہ ایک خاص ردھم سے سڑکنے لگتی ہیں۔ چشم گل چشم عرف قہر خدا وندی کا کہنا ہے کہ علامہ بریانی عرف برڈفلو کی زوجہ یعنی علامنی کی ناک ہمیشہ خشک رہتی ہے لیکن جب گاؤں میں کوئی میت ہوتی ہے جہاں جانا اس کی کاروباری ضرورت بھی ہوتی ہے تو جانے سے پہلے چولہے کے پاس بیٹھ کر اپنی ناک کو دھواں دے کر خطرناک بنا لیتی ہے تاکہ سڑکنے میں کوئی دقت نہ ہو، لیکن ہماری ناک کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ہمیشہ تر رہتی ہے کیونکہ پھولوں سے لے کر قولوں اور دھوئیں سے لے کر خوشبویات تک تقریباً ایک لاکھ ایک ہزار ایک سو ایک ایسی چیزیں بشمول لیڈروں اور شاعروں کے جن سے ہمیں الرجی ہو جاتی ہے اور اسے ہم خرابی سمجھتے تھے لیکن اب پتہ چلا کہ یہ تو ''خوبی'' نکلی کیونکہ بقول ہمارے ایک اسلام آبادی دوست کے اسلام آباد والوں کو بھی الرجی کی شکایت رہتی ہے۔ گویا ہم نہ سہی ہماری ناک تو اسلام آبادی نکلی۔ گویا،

واں کے نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

گویا کہاں ہم اور کہاں یہ مقام اللہ اللہ ۔۔۔ ایک مرتبہ ہمارے گاؤں میں ایک بڑے وزیر آئے تو تقریر کرتے ہوئے اسے ایک خاص قسم کی کھانسی ہوتی تھی، بعد میں چائے پر چشم گل چشم نے ان سے اپنا تعلق جوڑتے ہوئے کہا کہ اب تو ہم آپ کو ووٹ ضرور دیں گے کیونکہ آپ کی کھانسی اور میری کھانسی ایک جیسی ہے، پھر وہ کھانسا تو لیڈر بھی ساتھ میں کھانسے اور یوں دونوں کی کھانسیاں آپس میں جڑواں بہنوں کی طرح بغل گیر ہو گئیں، لیکن اپنے اسلام آباد پلٹ دوست نے اس خوش خبری کی دم میں ایک بدخبری کا نمدہ بھی کس لیا۔ بولا ،اسلام آباد میں تو سیانوں نے پتہ لگا لیا ہے کہ یہ الرجی ایک خاص قسم کے درخت سے پھیلتی ہے اور اس درخت کو اسلام آباد میں کاٹ کوٹ کر ختم کر دیا گیا ہے، اب مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ ہمارے یہ دوست اسلام آبادی ''امور'' کے تو ماہر ہیں لیکن درختوں کے بارے میں کچھ بھی معلومات نہیں رکھتے۔


ادھر ہم درختوں کے بارے میں تو بہت جانتے ہیں لیکن اسلام آبادی امور میں کورے ہیں ۔۔۔ اس لیے یہ پتہ ہی نہیں چل پا رہا ہے کہ وہ ''درخت'' کون سا ہے اور اس کی پہچان کیا ہے کیوںکہ اسلام آباد میں تو ہر قسم کا ''پیڑ پودا'' پایا جاتا ہے، خیر الرجی جائے بھاڑ میں بلکہ ہم اب اپنی ناک کو خطرناک نہیں بلکہ عزیز ناک سمجھنے لگے ہیں، روتی ہے تو روتی رہے ہمارا رشتہ تو اسلام آباد سے کسی نہ کسی طرح جڑ گیا ہے جس کے لیے ہم نے نہ جانے کتنے پاپڑ بیلے تھے اور اب

جز ''ناک'' اور کوئی نہ آیا بروئے کار
''چہرہ'' اگرچہ سارا ہمارا موجود تھا

ہمارا یہ دوست بھی کچھ عجیب و غریب ہے۔ اسلام آبادی ہونے کی وجہ سے شاید اسے یہ عادت ہو گئی ہے کہ پوری بات ایک دم نہیں بتاتا بلکہ جب بھی بولتا ہے تو کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی والی بات ہو جاتی ہے، پہلے تو اسلام آباد کی ناکوں اور ہماری ناک کے درمیان الرجی کا رشتہ جوڑا پھر ایک خاص درخت اور اسے کٹوانے کی بات کر کے خوش خبری کو بدخبری میں بدل دیا لیکن پھر اچانک پلٹا کھاتے ہوئے اس بدخبری میں خوش خبری کی ملاوٹ کی اور بولا کہ اس درخت کے کٹنے سے الرجی کم تو ہوئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی ہے۔

چنانچہ اسلام آباد کے لقمان ایسے اور درخت بھی ڈھونڈ رہے ہیں جن سے الرجی پھیلتی ہے ۔گویا ایک مرتبہ سلسلہ وہیں سے جڑ گیا جہاں سے ٹوٹا تھا یعنی اسلام آباد سے ہماری الرجی بلکہ ناک کا رشتہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ ہم نے پھر اطمینان کی سانس لی اور یہ مایوسی دور ہو گئی کہ اسلام آباد سے کسی رشتے کا سکھ ہمارے نصیب میں نہیں ہے یعنی اب وہ بات نہیں رہی کہ

لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بصد رنگ گلستاں ہونا

اب پتہ چلا ہے کہ اور بھی ''درخت'' ہیں اسلام آباد میں اس درخت کے سوا ۔آخر اسلام آباد والے کس کس درخت کو کاٹیں گے۔ ویسے اب چونکہ رشتہ قائم ہو ہی چکا ہے تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس رشتے کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے ''سمبندھیوں'' کی مدد کریں اور یہ مدد ہم کر بھی سکتے ہیں کیونکہ ہم دیہاتی ہونے کے ناطے ''درختوں'' کے بارے میں اچھی خاصی جان کاری رکھتے ہیں، جہاں تک الرجی پھیلانے والے درختوں کا تعلق ہے تو ہمیں یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ درخت بجائے خود اتنے خطرناک نہیں ہوتے کبھی کبھی کوئی درخت پھل دار بھی نکل آتا ہے بلکہ ان درختوں کے پھول پتے یا پھل الرجی زیادہ پھیلاتے ہیں۔

اس کی مثال ڈھونڈتے ہوئے جو مثال ہمارے ہاتھ لگی وہ یہ ہے کہ مثلاً یہ جو وزیر ہوتے ہیں، مشیر ہوتے ہیں منتخب نمایندے ہوتے ہیں، بڑے بڑے افسر ہوتے ہیں کہ خود اتنے زیادہ برے نہیں ہوتے جتنے ان کے ''پتے'' پھول پھل کانٹے اور وہ سنڈیاں ہوتی ہیں جو ان میں پلتی ہیں ۔ ہم عالم و فاضل تو نہیں ہیں سیدھے سادے کاشت کار دیہاتی ہیں، اس لیے صرف قیاس لگا سکتے ہیں جو ممکن ہے غلط ہو لیکن ہمارا یہ خیال ہے کہ وہ درخت بھی کچھ ایسا ہی درخت رہا ہو گا جس طرح اسلام آباد کے درخت ہیں یعنی کوئی نہ کوئی بدی یا مرض یا الرجی اس درخت سے بھی وابستہ ہو گئی کیونکہ جو ممانعت کی گئی ہے اس میں صاف صاف اس ''درخت'' کے قریب جانے کی ممانعت کی گئی ہے اور وجہ بھی بتائی گئی ہے کہ اگر تم اس کے قریب گئے تو تم ظالم ہو جاؤ گے۔

اب یہ مسئلہ صرف علماء ہی حل کر سکتے ہیں کہ جس درخت کے قریب جانے والے بھی ظالم ہو جاتے ہیں بذات خود وہ درخت کیا ہو گا ہم تو صرف ان درختوں کے بارے میں جانتے ہیں جو اسلام آباد میں ہیں اور ان کے پتے پھول پھل کانٹے سنڈیاں حتیٰ کہ ان پر پڑی ہوئی گرد بھی الرجی پھیلاتے ہیں ضروری نہیں کہ ایسے درخت صرف اسلام آباد میں ہوں پورے پاکستان میں ایسے درخت پائے جاتے ہوں گے جو اپنے ''حصوں'' کے ذریعے بے پناہ الرجی پھیلاتے ہیں خدا اسلام آباد والوں کو خصوصاً اور چاروں صوبوں والوں کہ عموماً توفیق عطا فرمائے کہ ایسے درختوں کا قلع قمع کر پائیں۔
Load Next Story