غیر اصولی سیاست اور دنیا کا مستقبل

بے اصولی سیاست دنیا کے مستقبل پر ایک منحوس سائے کی طرح منڈلا رہی ہے

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

بے اصولی سیاست دنیا کے مستقبل پر ایک منحوس سائے کی طرح منڈلا رہی ہے۔ گھر کی داخلی ذمے داریوں سے لے کر قومی اور بین الاقوامی سیاست تک اگر اصولوں کی جگہ بے اصولیوں کا کلچر مستحکم ہو تو گھر سے لے کر قومی اور بین الاقوامی زندگی کا مستقبل تاریک ہوجاتا ہے۔

امریکا دنیا کی واحد سپر پاور ہے بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ دونوں بڑے ملک محض اپنے قومی مفادات کی خاطر ایک ایسی بے اصولی سیاست کی راہ کے مسافر بن گئے ہیں جن کی منزل تباہی اور بربادی ہی ہوگی۔ امریکی صدر بارک اوباما نے پچھلے دنوں بھارت کا دورہ کیا اس وقت بھارت کے وزیر اعظم بی جے پی کے رہنما نریندر مودی ہیں۔ نریندر مودی گجرات کے لرزہ خیز قتل عام کے مرکزی کردار ہیں۔

مودی اپنے اس شرمناک کردار کی وجہ سے زمانے بھر میں رسوا اور بدنام ہیں۔ بھارت کا دانشور طبقہ اور شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے لوگ مودی کے اس کردار کے سخت ناقد ہیں۔ بھارت کے ایک نوجوان ہندو شاعر نے گجرات کے قتل عام پر ماں کے پیٹ میں پرورش پانے والے ایک بچے کے شکوے کو اپنی ایک نظم ''ماں'' میں اس طرح قلم بند کیا کہ جب یہ شاعر اپنی یہ نظم ماں کی اپنی زبان سے سناتے تو حاضرین کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے۔ یہ نظم ماں کے پیٹ میں پرورش پانے والے ایک ایسے بچے کا نوحہ ہے جس کی ماں کو غنڈوں نے اس بری طرح قتل کردیا کہ اس کا پیٹا کٹ گیا اور یہ خون رحم مادر میں پرورش پاتے بچے کو نہلا گیا۔

غالباً نریندر مودی کے اسی شرمناک کردار کی وجہ سے امریکا نے اسے اپنے ملک کا ویزا دینے سے برسوں تک انکار کیا۔ یہ بلاشبہ ایک اصولی موقف تھا لیکن قومی مفادات کے تقاضوں نے امریکی حکمرانوں کے اصولی موقف کی دھجیاں اڑا دیں۔ صدر اوباما اسی ملک کے دورے پر گئے جس کے میزبان نریندر مودی تھے اور اوباما نے دنیا پر یہ انکشاف کیا کہ اکیسویں صدی میں امریکا اور بھارت متحد ہوکر دنیا کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

نریندر مودی پر گجرات کے قتل عام کا الزام ہے اور اوباما پر افغانستان کے لاکھوں عوام کے قتل عام کا الزام ہے اور یہ دونوں قتل عام کے ملزم مل کر دنیا کا مستقبل سنواریں گے۔امریکی حکمران مذہبی انتہا پسندی کو ہمیشہ دنیا کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ کہتے رہے ہیں لیکن جب روس کو افغانستان سے نکالنے کا مسئلہ سامنے آیا تو امریکی حکمران طبقہ اپنے اصولی موقف کو اپنے جوتوں تلے روند کر دنیا بھر کے مذہبی انتہاپسندوں کو افغانستان میں لے آیا انھیں یہ باور کرایا کہ روس کو افغانستان سے نکالنے کی جنگ ''جہاد'' ہے اور مذہبی انتہا پسندوں نے اس جہاد کے ذریعے روس کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا۔

یوں امریکا کی اصولی سیاست بے اصولی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی اور وہ مذہبی انتہا پسند جو کل تک امریکا کی نظر میں دنیا کے مستقبل کے لیے خطرہ تھے امریکا کی فوج بن گئے اور آج واقعی دنیا کے مستقبل کے لیے ایک بھیانک خطرہ بن گئے ہیں اور یہ نتیجہ ہے امریکا کی بے اصولی سیاست کا۔مسئلہ کشمیر ایک ایسا تنازعہ ہے جس کے حل کے لیے اقوام متحدہ نے کشمیر میں رائے شماری کرانے کا فیصلہ صادر کیا تھا۔


اصولاً امریکا کو بھارتی حکمرانوں پر زور دینا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیر کا مسئلہ حل کریں۔ لیکن امریکا کے قومی مفادات امریکا کی اصولی سیاست کے آڑے آئے اور امریکا نے اس مسئلے کو حل کرنے میں کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے یہ منافقانہ پالیسی اپنائی کہ اس مسئلے کو دونوں ملک مل جل کر حل کریں۔ بھارت پاکستان سے زیادہ طاقتور ملک ہے اور مروجہ سیاست میں طاقت کی برتری ہی سب سے بڑا اصول ہے۔

مسئلہ کشمیر کے دو پہلو ہیں ایک مذہبی دوسرے جمہوری۔ مذہبی پہلو سے اس مسئلے کو دیکھنے والے کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیر کی پاکستان میں شمولیت بتاتے ہیں اور اس مسئلے کو جمہوری حوالوں سے دیکھنے والے اس مسئلے کے حل کے لیے رائے شماری پر زور دیتے ہیں۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن بھارتی حکمراں جمہوری اصولوں کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے سے انکاری ہیں۔

دنیا میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کا ایک بڑا سبب فلسطین پر اسرائیل کا جارحانہ موقف ہے۔ ساری دنیا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کا ملک فلسطین ملنا چاہیے یہ ایک اصولی موقف ہے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے یہودیوں کے لیے ایک ملک کی ضرورت سے اتفاق کیا یوں اسرائیل وجود میں آگیا جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی دربدر ہوگئے۔ اس حوالے سے اصولی موقف یہ ہے کہ فلسطینیوں کے لیے ایک ملک ہونا چاہیے لیکن یہودیوں کے لیے ایک ملک کی ضرورت کے حامی امریکا کو 67 سالوں سے یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کا ملک دلاتا ، محض اپنے قومی مفادات کی خاطر امریکا یہاں بھی بے اصولی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اسرائیل کو فلسطینیوں کے قتل عام کی کھلی اجازت دے رہا ہے۔

دنیا کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ ایٹمی ہتھیار دنیا کی بقا کے لیے سب سے زیادہ سنگین خطرہ ہیں۔ اس حوالے سے اصولی موقف یہ ہونا چاہیے کہ دنیا میں موجود تمام ایٹمی ہتھیار بلاتوقف بلاتاخیر تلف کردیے جائیں۔ لیکن امریکا اپنے سیاسی مفادات کی خاطر تمام ایٹمی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے اصولی موقف کو اپنانے کے بجائے ایٹمی ہتھیاروں میں تخفیف کے شاطرانہ موقف پر کاربند ہے اس غیر اصولی موقف کی وجہ سے ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ممکن نہیں اور ایٹمی ہتھیار دنیا کے مستقبل پر ایک ننگی تلوار کی طرح لٹک رہے ہیں۔ اسرائیل ایک ایٹمی ملک ہے اور پورے مشرق وسطیٰ میں ایک بے لگام گھوڑے کی طرح دندناتا پھر رہا ہے ایران اسرائیل کی اس دادا گیری کو لگام دینے کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔

امریکا کا اصولی موقف یہ ہونا چاہیے تھا کہ یا تو اسرائیل کو غیر ایٹمی ملک بنایا جاتا یا پھر ایران کو اسرائیل کی جارحانہ سیاست روکنے کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت دیتا۔ لیکن یہاں بھی امریکا کے قومی مفادات اس کے آڑے آرہے ہیں کہ وہ نہ اسرائیل کو غیر ایٹمی ملک بنانے پر تیار ہے نہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت دینے کے لیے تیار۔امریکا ماضی میں چین کو اپنا دشمن نمبر 1 سمجھتا اور کہتا رہا، لیکن بدلتے ہوئے معاشی اور سیاسی تقاضوں نے امریکا کو مجبور کیا کہ وہ چین سے تعلقات استوار کرے ۔اب چین سے امریکا کے تعلقات دوستانہ بھی ہیں اور اقتصادی بھی لیکن امریکا آج بھی چین کے خلاف ایک فوجی حصار قائم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور چین کی پیش رفت کو روکنے کے لیے بھارت کو ایشیا کی سپرپاور بنانے کی غیر اصولی پالیسی پر کاربند ہے۔

دنیا میں جتنے تنازعات ہیں ، جتنے سنگین خطرات ہیں ان کی سب سے بڑی وجہ غیر اصولی سیاست ہے۔ صدر بارک اوباما اگر واقعی دنیا کو تنازعات تصادم سے بچانا چاہتے ہیں تو انھیں قومی اور سیاسی مفادات پر اصولی موقف کو ترجیح دینا ہوگا۔ کشمیر، فلسطین ایٹمی ہتھیاروں کے مسائل کو مصلحتوں کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر حل کرنے کی طرف آنا ہوگا۔ بحیثیت دنیا کی واحد سپر پاور اگر امریکا اصولوں کی سیاست پر عمل پیرا ہوتا ہے تو دنیا بھی اصولوں کی سیاست کرنے پر مجبور ہوجائے گی اور دنیا کو ان خطرات سے نجات حاصل ہوجائے گی جو اس کے مستقبل پر تلوار کی طرح لٹک رہے ہیں۔
Load Next Story