مشروم کا ڈیمانسٹریشن اور…

ویسے یہ فارسی والے کسی بھی چیز کا نام رکھنے میں زیادہ تردد نہیں کرتے، کھمبی کا نام گوشت زمینی رکھا ہے

barq@email.com

JAMRUD:
ماننا پڑے گا کہ فارسی بڑی بلیغ و فصیح بل کہ سیدھی سادی اور صاف زبان ہے ایک چیز جسے اردو میں ''کھمبی'' کہتے ہیں انگریزی میں ''مشروم'' اور پشتو میں ''خریڑے'' کے نام سے جانا جاتا ہے اس کا نام فارسی والوں نے ''گوشت زمینی'' رکھا ہوا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ واقعی یہ کھمبی یا مشروم ہر لحاظ سے زمین کا گوشت کہلانے کے مستحق ہے کیونکہ جدید علوم کے مطابق اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو گوشت میں ہو سکتی ہیں اور وہ کوئی خرابی اس میں نہیں جو گوشت میں ہوتی ہے۔

ویسے یہ فارسی والے کسی بھی چیز کا نام رکھنے میں زیادہ تردد نہیں کرتے، کھمبی کا نام گوشت زمینی رکھا ہے تو مونگ پھلی کو ''بادام زمینی'' کہتے ہیں یعنی نہ ہینگ خرچ کرتے ہیں نہ پھٹکڑی، پہلے سے موجود الفاظ ملا کر نام بنا لیتے ہیں کچھ خرچہ نہیں کچھ محنت نہیں ایسی ہزار چیزیں ہیں جن کے ساتھ زمینی آسمانی یا آب لگا کر نام بنا لیتے ہیں جسے تالاب، سیلاب، غرقاب، برفاب، سرخاب، شراب وغیرہ، لیکن یہاں ہم قصہ فارسی زبان کا نہیں بلکہ اس ورکشاپ کا سنانا چاہتے ہیں جو نیفا (NIFA) نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار فوڈ اینڈ ایگریکلچر کے زیر اہتمام ''مشروم'' کی کاشت پر نوشہرہ زرعی توسیع والوں نے برپا کیا تھا لیکن اس سے پہلے کہ ہم اس ورکشاپ کی تفصیل سنائیں پہلے مشروم یا کھمبی کے ساتھ اپنے رشتے کا ذکرکرنا چاہتے ہیں۔

ڈریئے مت ہمارا اشارہ ان کھمبیوں کی طرف نہیں جو سیاست کی زمین میں اگتی ہیں۔عین ممکن ہے کہ ہزاروں سال پہلے کھمبیاں اور لیڈر ایک ہی خاندان کے اراکین ہوں اور بعد میں الگ ہو گئے ہوں جس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ کھمبیوں کو مشروم کہتے ہیں اور پشتو میں لیڈر کو بھی ''مشر'' کہتے ہیں، مشر، مشروم دونوں میں ''میں'' اور ''شر'' بھی پایا جاتا ہے، خیر شر، مشر کو گولی ماریئے صرف مشروم کو پکڑتے ہیں، ان دونوں یعنی مشر اور مشروم کی بے شمار مماثلتوں میں ایک تو یہ ہے کہ دونوں خود رو ہوتی ہیں بل کہ کسی بھی چیز گھاس پھوس پتوں یا لکڑی کے سڑنے سے پیدا ہوتی ہیں اور پھر یہ کہ دونوں میں جو اچھے ہوتے ہیں وہ بہت اچھے ہوتے ہیں لیکن جو برے یا زہریلے ہوتے ہیں اتنے زیادہ زہریلے کہ سانپ کا کاٹا پانی تو مانگ سکتا ہے لیکن زہریلے مشروم کا کاٹا یا پاگل کتے کا کاٹا پانی سے ڈر ڈر کر مر جاتا ہے۔

زہریلے مشروم سے پورے خاندان مر جاتے ہیں اور زہریلے ''مشر'' سے پورے ملک مر جاتے ہیں یا مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بن جاتے ہیں یا ان کے پورے جسم پر دہشت گردی کے پھوڑے نکل آتے ہیں، لیکن نیفا والوں نے زرعی توسیع نوشہرہ کی اس ورکشاپ میں بتایا کہ مشروم کی کچھ اقسام کاشت بھی کی جا سکتی ہیں جو بہت زیادہ نفع بخش اور ہر لحاظ سے لذیذ ہوتی ہیں اور یہ ہم نے فوراً مان لیا کہ ایک تو انھوں نے موقع پر اس کی ڈیمانسٹریشن بھی پیش کی اور ہمارے خیال بلکہ تحقیق کیگھوڑے کو مہمیز بھی کر دیا اور ہمارے ذہن میں فوراً یہ بات آگئی کہ بعض سیاسی خاندان بھی تو مستقبل کے لیڈر یعنی مشر پہلے ہی سے کاشت کرتے ہیں، یہاں بھی معاملہ بالکل مشروم جیسا ہے کہ جس طرح سڑی ہوئی اشیاء سے مشروم اگائی جاتی ہیں ٹھیک اسی طرح مرے ہوئے یا ڈیٹ ایکسپائر مشران کے پسماندے سے بھی مشر مشروم نکلتے ہیں، دراصل ہم نے یہ مشروں یعنی لیڈروں اور مشروم کا ذکر اس لیے چھیڑا ہے کہ مشروں اور مشروموں سے ہمارا عمر بھر کا رشتہ ہے۔


جب نیفا اور زرعی توسیع والوں نے اس مشروم تربیتی پروگرام میں بلایا تو ہم خوشی خوشی اس لیے گئے تھے کہ ایک تو ہم بنیادی طور پر کسان ہیں، باپ دادا زمینوں میں ہل چلا کر فصلیں اگایا کرتے تھے اور ہم ''کاغذ'' کے کھیت میں ''قلم'' کا ہل چلا کر پھول بوتے ہیں جو آب و ہوا میں پلوشن بڑھ جانے کی وجہ سے اکثر ''کانٹے'' بن جاتے ہیں، پھولوں کی جگہ کانٹے، کاٹنے کا مسئلہ الگ ہیں لیکن کسان تو ہم ہوئے کیونکہ ہر کسان کی طرح ہم کاغذ کے کھیت اور قلم کے ہل والے کسان بھی اکثر بھوکے ہی رہتے ہیں کیونکہ جو کچھ یہ پیدا کرتے ہیں وہ دوسروں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔

مشروم سے ہمارا تعلق بچپن سے ہے، بچپن میں پھر پھر کر کھیتوں میں مشروم ڈھونڈنا شکار جیسا مزہ دیتا تھا چنانچہ ہم لڑکوں میں اکثر ایک طرح کا مقابلہ ہوتا تھا کہ سیزن میں کون زیادہ شکار کرتا ہے، اس کام میں ہم اتنے ماہر ہو گئے تھے کہ مشروم کی اقسام کے بارے میں ہم جانتے تھے کہ کس قسم کا مشروم کس قسم کے مقامات پر پایا جاتا تھا، بڑی ٹوپی یا چھتری والا مشروم جسے عام طور پر برساتی کھمبی کہا جاتا ہے۔

ان نہروں دریاؤں اور نالوں کے کناروں پر پایا جاتا تھا جہاں کچھ بالوں ریت یا نہری دریائی بھل ہوتی تھی اور کناروں کی نم دار زمین میں کسی بھی چیز کے سڑنے سے پیدا ہوتی تھی، زہریلے اور صحیح مشروم کی پہچان تو بڑی آسان ہوتی ہے جو شاید موجودہ مشرومی اداروں کو بھی معلوم نہیں کہ مشروم کو چاقو چھری سے کاٹا جائے زہریلے مشروم کی کٹی ہوئی جگہ فوراً ''سبز'' ہو جاتی ہے بالکل ایک سیاسی پارٹی کی طرح، لیکن صحیح مشروم میں کوئی رنگت نہیں ابھرتی۔

جب بھی سبز رنگ کا ذکر آتا ہے خیال مسلم لیگ کی طرف چلا ہی جاتا ہے، چاہے وہ ذکر سبز مشروم کا ہو یا سبز قدمی کا، متذکرہ ڈیمانسٹریشن سے کسی اور کا تو پتہ نہیں ہمارا بہت ہی بھلا ہوا کہ دنیا میں خوراک کی قلت روز بروز بڑھ رہی ہے اور مشروم اگانے کا کام اتنا آسان ہے کہ بچے اور خواتین بھی اپنے کچے کمروں میں بہت تھوڑی سی جگہ میں اگا سکتے ہیں۔

تجارتی پیمانے پر نہ سہی گھریلو ضرورت تو پوری کی جا سکتی ہے ہم نے تین سو روپے کا سپان (بیج) لے کر سو کلو بھوسے میں مشروم اگائے تھے حالانکہ کچھ زیادہ توجہ بھی نہیں دی تھی لیکن سال بھر ہم خود بھی ہر دوسرے تیسرے دن پکا کر کھاتے اور دوستوں عزیروں کو بھی دیے تھے اگر اس کا حساب لگائیں تو کم از کم پانچ چھ ہزار روپے کی سبزیاں خریدنے سے ہم بچ گئے تھے۔
Load Next Story