اعتدال پسند انتہا پسند ہورہے ہیں

انسانی جان بڑی قیمتی ہوتی ہے خواہ وہ چارلی ہیبڈو کے صحافیوں کی ہو یا خودکش حملوں میں مارے جانے والےبےگناہ لوگوں کی ہو۔

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

مغربی ملکوں میں سیاسی معاشی اور مذہبی مسائل کا تجزیہ کرکے حکومتوں کو پالیسی سازی میں معاونت فراہم کرنے والے بے شمار ادارے موجود ہیں جنھیں تھنک ٹینک کہاجاتا ہے۔

ا تھنک ٹینک اگر اپنے تجزیے اپنے مشورے فروخت کرتے ہیں تو کوئی حیرت کی بات نہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کیا ان تھنک ٹینکوں کے تجزیے غلط ہوتے ہیں، کیا یہ تھنک ٹینک کرپٹ ہوتے ہیں؟ امریکا جب عراق پر حملہ کرنے کی تیاری کررہاتھا تو ساری دنیا میں کروڑوں لوگ اس حملے کے خلاف سڑکوں پر آگئے تھے لیکن دنیا کی رائے عامہ کو جوتوں تلے روند کر امریکا نے عراق پر حملہ کردیا۔ کیا عراق پر حملے سے قبل امریکی حکمرانوں نے تھنک ٹینکوں سے مشورہ نہیں لیا تھا؟

اس سوال کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ ان تھنک ٹینکوں نے ضرور بش کو اس جنگ کے ممکنہ انجام سے آگاہ کیا ہوگا لیکن ضدی اور بے وقوف امریکی صدر نے ان مشوروں کو نظر انداز کرکے عراق پر حملہ کردیا ہوگا۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز حتیٰ کہ دین دھرم ضمیر سب خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ جنگوں میں فائدہ یا نقصان جنگ کرنیوالوں کو تو ہوتا ہے لیکن ایک شعبہ ایسا ہوتا ہے جسے جنگوں سے فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے۔

نقصان کوئی نہیں ہوتا اور وہ شعبہ ہے ہتھیاروں کی انڈسٹری۔ سارے سوال ہمارے سامنے آج اس لیے کھڑے ہوگئے ہیں کہ مغرب کے 40 ملکوں کے ''عمائدین'' نے پیرس کے جریدے چارلی ہیبڈو پر حملے کے خلاف پیرس میں ایک ریلی میں شرکت کی جو چارلی ہیبڈو جریدے پر حملے کے خلاف نکالی گئی تھی ۔

انسانی جان بڑی قیمتی ہوتی ہے خواہ وہ چارلی ہیبڈو کے صحافیوں کی ہو یا خودکش حملوں میں مارے جانے والے بے گناہ لوگوں کی ہو۔ چارلی ہیبڈو میں کام کرنے والے 12 صحافیوں کی ہلاکت بلاشبہ قابل افسوس ہے لیکن یہ جریدہ تواتر کے ساتھ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرکے ساری دنیا کے اربوں مسلمانوں کی جو دل آزاری کررہا ہے کیا یہ حرکت قابل مذمت تھی یا قابل حمایت؟ 40 ممالک کے سربراہوں نے چارلی ہیبڈو کے 12 مقتولین کی حمایت میں اس ریلی میں شرکت کی۔

ہوسکتا ہے ان کی یہ شرکت دہشت گردی کے خلاف ہو لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دہشت گردی میں چارلی ہیبڈو کے 12کارکن ہی ہلاک ہوئے ہیں؟ ایک عشرے سے زیادہ عرصے پر پھیلی ہوئی اس دہشت گردی میں صرف پاکستان میں 50 ہزار سے زیادہ بے گناہ لوگ جاں بحق ہوگئے ہیں۔ کیا کسی مغربی ملک کے سربراہ یا مغربی ملکوں کے سربراہوں نے ان پچاس ہزار بے گناہ پاکستانیوں کی شہادت کے خلاف کوئی ریلی نکالنے کی ضرورت محسوس کی؟


اگر نہیں کی تو کیا پریس کی ریلی کو امتیازی ریلی کا نام نہیں دیا جاسکتا؟ ہمارا خیال ہے کہ اس ریلی میں شرکت سے پہلے 40 ملکوں کے سربراہوں نے اپنے تھنک ٹینکوں سے مشورہ ضرور کیا ہوگا۔ اپنی حکومتوں کے پالیسی ساز اداروں سے بھی ضرور مشورہ کیا ہوگا؟ کیا ان تھنک ٹینکوں نے چارلی ہیبڈو میں شایع کیے جانے والے گستاخانہ خاکوں کے مضمرات سے اپنے سربراہوں کو آگاہ نہیں کیا؟آج 57 مسلم ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر میں رہنے والے لاکھوں مسلمان سڑکوں پر کھڑے چارلی ہیبڈو اور جرمنی کے ایک رسالے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

اس احتجاج میں زیادہ تعداد ان اعتدال پسند مسلمانوں کی ہے جو دہشت گردی کے سخت خلاف ہیں جو مذہبی انتہا پسندی کو پسند نہیں کرتے۔ جو پاکستان کے ان پچاس ہزار بے گناہ انسانوں کے قاتل دہشت گردوں سے نفرت کرتے ہیں ان اعتدال پسند اور امن پسند کروڑوں مسلمانوں کو بھی چارلی ہیبڈو کے کرتادھرتاؤں نے انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا۔16/12 کو پشاور میں ہونے والے سانحے میں 140 کے لگ بھگ طالب علم بچے شہید ہوگئے، اس سانحے نے ساری دنیا کے انسانوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ یہ سانحہ دہشت گردی کی تاریخ کا سب سے بڑا، سب سے المناک سانحہ تھا۔ اس سانحے پر دنیا کا ہر انسان دکھی تھا۔ کیا تاریخ کے اس بدترین سانحے کے خلاف مغرب کے حکمرانوں نے کسی ریلی کا اہتمام کیا؟ نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا؟ کیا یہ رویہ مغربی ملکوں کے سربراہوں کا امتیازی رویہ نہیں ہے؟

اس حوالے سے سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑنے والوں نے چارلی ہیبڈو کے گستاخانہ خاکوں کے نتیجے میں اعتدال پسندوں میں پیدا ہونے والی نفرت کے مضمرات کا اندازہ لگایا؟ آج دنیا بھر میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف مسلمان سڑکوں پر کھڑے احتجاج کررہے ہیں اور ان احتجاج کرنے و الوں میں اکثریت ان مسلمانوں کی ہے جو اعتدال پسند ہیں لیکن گستاخانہ خاکوں نے انھیں انتہا پسندوں کے ساتھ کھڑا کردیا ہے اور مذہبی انتہا پسند اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں اور کسی مائی کے لعل میں یہ ہمت نہیں کہ وہ اس مذہبی انتہا پسندی کے خلاف زبان کھولے۔

دنیا میں کئی مذاہب موجود ہیں اور ہر مذہب کے ماننے والے اپنے مذہبی اکابرین کا بے حد احترام کرتے ہیں اگر کوئی احمق آزادیٔ اظہار رائے کے نام پر کسی مذہب کے اکابرین کے خلاف گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ آزادی اظہار رائے مذہبی انتہا پسندی کے فروغ اور استحکام کا باعث بن جاتی ہے۔ اگر یہ ریلی صرف چارلی ہیبڈو کے مرحومین کے بجائے عمومی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہوتی تو اس میں امتیازات کا گمان نہیں رہتا اور دنیا خاص طور پر مسلم دنیا کو اس ریلی کے امتیازی ہونے کی شکایت نہ ہوتی۔

لیکن حیرت ہے کہ 40 ملکوں کے سربراہوں کو ان کے تھنک ٹینکوں نے اس ریلی اور چارلی ہیبڈو کی احمقانہ حرکتوں کے گہرے مضمرات سے کیوں آگاہ نہیں کیا۔ کیا ہم اس تھنک ٹینکوں کی حماقت کہیں یا سازش؟اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ دہشت گردی آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن گئی ہے اور دنیا کے مستقبل پر تلوار کی طرح لٹک رہی ہے پاکستان ان ملکوں میں سے ایک ہے جو دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہیں اب تک 50 ہزار سے زیادہ لوگ اس دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں۔ 16/12 کے سانحے نے پاکستان کے عوام سیاسی جماعتوں حتیٰ کہ مذہبی جماعتوں کو بھی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کردیا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ضرب عضب کے ذریعے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کررہی ہے۔

حکومت بھی آج کھل کر دہشت گردی کے خلاف اسٹینڈ لے رہی ہے اور قومی ایکشن پلان کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف لڑنے کی تیاری کررہی ہے۔ پاکستان کے 20 کروڑ عوام مذہبی انتہا پسندی کے خلاف صف آرا ہوگئے ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد قومی اتحاد ہے اس اتحاد میں گستاخانہ خاکے دراڑ ڈال رہے ہیں اور اعتدال پسندوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔کیا مغرب کے حکمرانوں کو اس کے خطرناک مضمرات کا اندازہ ہے؟
Load Next Story