صدر اوباما کا دورۂ بھارت
بھارت کی آئرن لیڈی اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی نے کھلی معیشت کی پالیسی اختیار کی۔
tauceeph@gmail.com
افغانستان میں بھارت قابلِ اعتماد پارٹنر ہے۔ نئی دہلی سے بہتر تعلقات امریکی خارجہ پالیسی میں سرفہرست ہیں۔ صدر اوباما نے بھارت کے دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی سے مذاکرات کے بعد یہ اعلانات کیے۔ صدر اوباما نے اس موقعے پر ایٹمی ٹیکنالوجی پر بھارت کے مطالبات بھی تسلیم کر لیے، واشنگٹن جوہری مواد کی نگرانی کے مطالبے سے دستبردار ہو گیا۔
صدر اوباما نے اس موقعے پر بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی حمایت کی اور سرمایہ کاری اور قرضوں کی مد میں 4 کھرب روپے دینے کا اعلان کیا۔ بھارت کے معمار پنڈت جواہر لال نہرو نے غیر جانبدار خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی تھی، بھارت نے ہمیشہ برطانیہ، امریکا اور سوویت یونین کے ساتھ ایک جیسے تعلقات قائم کیے تھے۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے سوشلزم کو معیشت کی بنیاد قرار دے کر بڑی صنعتوں اور بینکوں کو قومیا لیا تھا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کردار کو محدود کر دیا تھا۔ گزشتہ صدی کی 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں افغان تنازعے کے دوران بھارت کے سوویت یونین اور امریکا سے اچھے تعلقات تھے مگر بھارت نے امریکا کی ایماء پر سوویت یونین کے بائیکاٹ کی مہم کی حمایت نہیں کی تھی۔
بھارت کی آئرن لیڈی اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی نے کھلی معیشت کی پالیسی اختیار کی۔ یوں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھارت میں کاروبار کے مواقعے ملے، یہی وہ وقت تھا جب بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے جامع منصوبہ بندی ہوئی۔ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق اور ان کے ساتھی سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے خلاف امریکی سی آئی اے کے پروجیکٹ کے تحت جنگ میں مصروف تھے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کارگل قبضے کے بعد بھارت کے پالیسی ساز اداروں کے ماہرین نے امریکا سے قریبی دوستی کا منصوبہ بنایا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 2006ء میں امریکا سے سِول ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاہدے پر دستخط کر کے اس خطے میں امریکا سے دوستی کے ذریعے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی تھی۔ اس معاہدے کے تحت بھارت نے اپنی کئی ایٹمی تنصیبات بین الاقوامی معائنے کے لیے کھول دی تھی۔
اس وقت کمیونسٹ پارٹی کانگریس کے بعد وفاقی حکومت میں ایک مضبوط اتحادی کی حیثیت سے موجود تھی۔ کمیونسٹ پارٹی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی امریکا سے سول ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاہدے کی حمایت نہیں کی۔ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سمجھتے تھے کہ یہ نعرہ بھارت کی قومی خودمختاری پر حملہ ہے، یوں کمیونسٹ پارٹی نے قومی خودمختاری جیسے حساس معاملے پر عوام میں آگہی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ قومی خودمختاری ایک ایسا جذباتی معاملہ ہے کہ ماضی میں بہت سے مخالف قوتیں اس مسئلے پر متحد ہو جاتیں مگر گلوبلائزیشن کی اس دنیا میں بھارت کے متوسط طبقے کی ترجیحات تبدیل ہو چکی تھیں۔ بھارتی نوجوان کے لیے امریکی مارکیٹ کے ڈالر کی کشش بڑھ گئی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی کے قومی خودمختاری کے نعرے کی کشش کھو گئی۔
کمیونسٹ پارٹی عام انتخابات میں اپنی روایتی نشستوں سے بھی محروم ہو گئی۔ صدر اوباما کا دورئہ بھارت 2006ء کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ صدر اوباما نے افغانستان سے امریکا اور اتحادی افواج کی واپسی میں دہشت گردی اور بھارت امریکا اشتراک سے ترقی جیسے اہم معاملات کو مدنظر رکھا ہے۔ افغانستان سے امریکا کی فوجوں کی واپسی کے بعد انتہاپسند طالبان کے کابل پر قبضے کے مفروضے پر بہت دنوں سے بحث و مباحث جاری تھے۔ امریکا کی حمایت سے افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پہلے پاکستان سے تعلقات معمول پر لانے کی پالیسی اختیار کی، افغان صدر نے پاکستان میں جمہوری حکومت کے علاوہ پہلی دفعہ جی ایچ کیو کے ساتھ بھی معاملات بہتر بنائے۔ پشاور آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کی کارروائی کے بعد ملا فضل اﷲ جیسے دہشت گردوں کے خاتمے پر اتفاق رائے ہوا۔
جنرل راحیل شریف کی افغانستان کے فوجیوں کی تربیت پر بھی اتفاق رائے ہوا۔ اب امریکا نے بھارت کو افغانستان میں اپنا قابلِ اعتماد پارٹنر قرار دیا ہے، اس لیے بھارت اب افغانستان کی حکومت کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مشترکہ اقدام کر سکتا ہے، یوں افغانستان میں امریکا کی مدد سے قائم کردہ سیاسی نظام مستحکم ہو گا۔ صدر اوباما نے اپنے دورئہ بھارت میں دہشت گردی کے خاتمے کو اہم نکتہ قرار دیا ہے۔ امریکا اور بھارت غیر ریاستی کرداروں Non State Actors کے خاتمے پر متفق ہے، امریکا ممبئی میں دہشت گردی میں مبینہ طور پر ملوث لشکرِ طیبہ پر بھی پابندی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ امریکا کی حمایت کی بناء پر اقوامِ متحدہ نے لشکرِ طیبہ اور کشمیر میں متحرک مسلح تنظیموں پر پابندی کی قرارداد منظور کی تھی۔ اب امریکا اور بھارت مشترکہ طور پر غیر ریاستی کردار کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔
پاکستان اس دباؤ سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ امریکا اور بھارت کی دوستی کا ایک بڑا ہدف ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ یہ ترقی بھارت میں ہو گی۔ امریکا بھارت میں دیہات میں چھوٹے کاروبار، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں اور امریکی اشیاء کی بھارت میں درآمد پر 4 کھرب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ امریکا کو دنیا کی سب سے بڑی مڈل کلاس کی منڈی ملے گی اور بھارتی وزیر اعظم مودی کو اپنی مذہبی انتہاپسندی کی پالیسی کو کنٹرول کرنا پڑے گا۔ بھارتی وزیر اعظم مودی نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے عدم برداشت کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ وہ یہ تجربہ اپنی آبائی ریاست گجرات میں بھی کر چکے ہیں جہاں ان کے دور میں ریکارڈ ترقی ہوئی تھی۔ اگر وزیر اعظم مودی نے مذہبی اور لسانی تضادات کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکا کی مدد سے ترقیاتی منصوبوں کو متحرک کیا تو بھارت میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔
امریکا قیامِ پاکستان کے بعد سے پاکستان کا سب سے بڑا حامی رہا ہے۔ امریکا کی دوستی کی بناء پر پاکستان سینٹو اور سیٹو کے معاہدے میں شامل ہوا، یوں غیر جانبدار تحریک سے دور ہوا۔ 1971ء میں امریکا کے دباؤ کی بناء پر بھارت نے مغربی پاکستان پر قبضہ نہیں کیا۔ افغان جنگ کے تمام برے اثرات کا سامنا پاکستان کو کرنا پڑا۔ امریکا کی سوویت یونین کے خاتمے کی پالیسی کا حصے دار بن کر پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر عام ہوا، مذہبی انتہاپسندی کو تقویت ملی، مذہبی اور لسانی گروہوں نے پاکستانی معاشرے کی ساخت کو متاثر کیا اور اب دہشت گردی نے پاکستانی معاشرے کو ایک نئے بھونچال کا شکار کیا ہوا ہے۔ امریکا اور بھارت کی اس دوستی کے نئے سفر سے پاکستان کے مفادات براہِ راست متاثر ہوئے ہیں مگر پاکستان میں صدر اوباما کے دور میں بھارت سے متعلق محض جذباتی حوالے سے بحث ہو رہی ہے۔
حقائق اور معروضیت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صورتحال کا تجزیہ نہیں کیا جا رہا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ، میڈیا، یونیورسٹیوں اور عوامی فورم میں اس بات پر بحث کی جائے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کی پالیسی دہشت گردی کا خاتمہ، تعلیم، صحت، انسانی وسائل کی ترقی اور غربت کے خاتمے کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ غیر ریاستی کرداروں کی سرپرستی کر کے ہم خطے میں تنہا ہو سکتے ہیں۔ جدید دنیا کی تاریخ سے سبق حاصل کر کے پاکستانی عوام اس نئی صورتحال سے خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
صدر اوباما نے اس موقعے پر بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی حمایت کی اور سرمایہ کاری اور قرضوں کی مد میں 4 کھرب روپے دینے کا اعلان کیا۔ بھارت کے معمار پنڈت جواہر لال نہرو نے غیر جانبدار خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی تھی، بھارت نے ہمیشہ برطانیہ، امریکا اور سوویت یونین کے ساتھ ایک جیسے تعلقات قائم کیے تھے۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے سوشلزم کو معیشت کی بنیاد قرار دے کر بڑی صنعتوں اور بینکوں کو قومیا لیا تھا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کردار کو محدود کر دیا تھا۔ گزشتہ صدی کی 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں افغان تنازعے کے دوران بھارت کے سوویت یونین اور امریکا سے اچھے تعلقات تھے مگر بھارت نے امریکا کی ایماء پر سوویت یونین کے بائیکاٹ کی مہم کی حمایت نہیں کی تھی۔
بھارت کی آئرن لیڈی اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی نے کھلی معیشت کی پالیسی اختیار کی۔ یوں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھارت میں کاروبار کے مواقعے ملے، یہی وہ وقت تھا جب بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے جامع منصوبہ بندی ہوئی۔ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق اور ان کے ساتھی سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے خلاف امریکی سی آئی اے کے پروجیکٹ کے تحت جنگ میں مصروف تھے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کارگل قبضے کے بعد بھارت کے پالیسی ساز اداروں کے ماہرین نے امریکا سے قریبی دوستی کا منصوبہ بنایا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 2006ء میں امریکا سے سِول ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاہدے پر دستخط کر کے اس خطے میں امریکا سے دوستی کے ذریعے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی تھی۔ اس معاہدے کے تحت بھارت نے اپنی کئی ایٹمی تنصیبات بین الاقوامی معائنے کے لیے کھول دی تھی۔
اس وقت کمیونسٹ پارٹی کانگریس کے بعد وفاقی حکومت میں ایک مضبوط اتحادی کی حیثیت سے موجود تھی۔ کمیونسٹ پارٹی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی امریکا سے سول ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاہدے کی حمایت نہیں کی۔ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سمجھتے تھے کہ یہ نعرہ بھارت کی قومی خودمختاری پر حملہ ہے، یوں کمیونسٹ پارٹی نے قومی خودمختاری جیسے حساس معاملے پر عوام میں آگہی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ قومی خودمختاری ایک ایسا جذباتی معاملہ ہے کہ ماضی میں بہت سے مخالف قوتیں اس مسئلے پر متحد ہو جاتیں مگر گلوبلائزیشن کی اس دنیا میں بھارت کے متوسط طبقے کی ترجیحات تبدیل ہو چکی تھیں۔ بھارتی نوجوان کے لیے امریکی مارکیٹ کے ڈالر کی کشش بڑھ گئی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی کے قومی خودمختاری کے نعرے کی کشش کھو گئی۔
کمیونسٹ پارٹی عام انتخابات میں اپنی روایتی نشستوں سے بھی محروم ہو گئی۔ صدر اوباما کا دورئہ بھارت 2006ء کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ صدر اوباما نے افغانستان سے امریکا اور اتحادی افواج کی واپسی میں دہشت گردی اور بھارت امریکا اشتراک سے ترقی جیسے اہم معاملات کو مدنظر رکھا ہے۔ افغانستان سے امریکا کی فوجوں کی واپسی کے بعد انتہاپسند طالبان کے کابل پر قبضے کے مفروضے پر بہت دنوں سے بحث و مباحث جاری تھے۔ امریکا کی حمایت سے افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پہلے پاکستان سے تعلقات معمول پر لانے کی پالیسی اختیار کی، افغان صدر نے پاکستان میں جمہوری حکومت کے علاوہ پہلی دفعہ جی ایچ کیو کے ساتھ بھی معاملات بہتر بنائے۔ پشاور آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کی کارروائی کے بعد ملا فضل اﷲ جیسے دہشت گردوں کے خاتمے پر اتفاق رائے ہوا۔
جنرل راحیل شریف کی افغانستان کے فوجیوں کی تربیت پر بھی اتفاق رائے ہوا۔ اب امریکا نے بھارت کو افغانستان میں اپنا قابلِ اعتماد پارٹنر قرار دیا ہے، اس لیے بھارت اب افغانستان کی حکومت کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مشترکہ اقدام کر سکتا ہے، یوں افغانستان میں امریکا کی مدد سے قائم کردہ سیاسی نظام مستحکم ہو گا۔ صدر اوباما نے اپنے دورئہ بھارت میں دہشت گردی کے خاتمے کو اہم نکتہ قرار دیا ہے۔ امریکا اور بھارت غیر ریاستی کرداروں Non State Actors کے خاتمے پر متفق ہے، امریکا ممبئی میں دہشت گردی میں مبینہ طور پر ملوث لشکرِ طیبہ پر بھی پابندی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ امریکا کی حمایت کی بناء پر اقوامِ متحدہ نے لشکرِ طیبہ اور کشمیر میں متحرک مسلح تنظیموں پر پابندی کی قرارداد منظور کی تھی۔ اب امریکا اور بھارت مشترکہ طور پر غیر ریاستی کردار کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔
پاکستان اس دباؤ سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ امریکا اور بھارت کی دوستی کا ایک بڑا ہدف ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ یہ ترقی بھارت میں ہو گی۔ امریکا بھارت میں دیہات میں چھوٹے کاروبار، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں اور امریکی اشیاء کی بھارت میں درآمد پر 4 کھرب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ امریکا کو دنیا کی سب سے بڑی مڈل کلاس کی منڈی ملے گی اور بھارتی وزیر اعظم مودی کو اپنی مذہبی انتہاپسندی کی پالیسی کو کنٹرول کرنا پڑے گا۔ بھارتی وزیر اعظم مودی نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے عدم برداشت کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ وہ یہ تجربہ اپنی آبائی ریاست گجرات میں بھی کر چکے ہیں جہاں ان کے دور میں ریکارڈ ترقی ہوئی تھی۔ اگر وزیر اعظم مودی نے مذہبی اور لسانی تضادات کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکا کی مدد سے ترقیاتی منصوبوں کو متحرک کیا تو بھارت میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔
امریکا قیامِ پاکستان کے بعد سے پاکستان کا سب سے بڑا حامی رہا ہے۔ امریکا کی دوستی کی بناء پر پاکستان سینٹو اور سیٹو کے معاہدے میں شامل ہوا، یوں غیر جانبدار تحریک سے دور ہوا۔ 1971ء میں امریکا کے دباؤ کی بناء پر بھارت نے مغربی پاکستان پر قبضہ نہیں کیا۔ افغان جنگ کے تمام برے اثرات کا سامنا پاکستان کو کرنا پڑا۔ امریکا کی سوویت یونین کے خاتمے کی پالیسی کا حصے دار بن کر پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر عام ہوا، مذہبی انتہاپسندی کو تقویت ملی، مذہبی اور لسانی گروہوں نے پاکستانی معاشرے کی ساخت کو متاثر کیا اور اب دہشت گردی نے پاکستانی معاشرے کو ایک نئے بھونچال کا شکار کیا ہوا ہے۔ امریکا اور بھارت کی اس دوستی کے نئے سفر سے پاکستان کے مفادات براہِ راست متاثر ہوئے ہیں مگر پاکستان میں صدر اوباما کے دور میں بھارت سے متعلق محض جذباتی حوالے سے بحث ہو رہی ہے۔
حقائق اور معروضیت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صورتحال کا تجزیہ نہیں کیا جا رہا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ، میڈیا، یونیورسٹیوں اور عوامی فورم میں اس بات پر بحث کی جائے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کی پالیسی دہشت گردی کا خاتمہ، تعلیم، صحت، انسانی وسائل کی ترقی اور غربت کے خاتمے کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ غیر ریاستی کرداروں کی سرپرستی کر کے ہم خطے میں تنہا ہو سکتے ہیں۔ جدید دنیا کی تاریخ سے سبق حاصل کر کے پاکستانی عوام اس نئی صورتحال سے خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔