شکارپور سانحہ… پانی سر سے اونچا ہو گیا

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردوں کے لیے انسانی جان اور نماز جمعہ کے احترام کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی۔

حکمران یاد رکھیں کہ فسطائیت پسند اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کرتے اور نہ اپنا ہدف۔ وہ سندھ سمیت ملک کے تمام شہروں میں اپنی دہشت گردی کو پھیلانے کا مذموم ایجنڈا رکھتے ہیں، فوٹو : اے ایف پی

سندھ کے ضلع شکار پور کے علاقے لکھی در کی مرکزی امام بارگاہ کربلا معلیٰ کی جامع مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 5 بچوں سمیت 55 افراد جاں بحق اور 60 کے قریب زخمی ہونے کا سانحہ انتہائی درد انگیز اور انسانیت سوز کہلانے کا مستحق ہے۔

دہشت گردی کی اس سفاکانہ واردات کے پس پردہ کون سے ماسٹر مائنڈ ہیں ان کا جلد کھوج لگانے میں تھوڑی سی تاخیر بھی مصائب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، دشمن نے واردات کرنے کے لیے اب فوری ذمے داری قبول کرنے کی حکمت عملی بدل لی ہے تا کہ انٹیلی جنس اداروں کو متحرک حملہ آوروں کی شناخت کا مسئلہ درپیش ہو، تاہم ایک اطلاع کے مطابق بعض مذہبی شدت پسندوں سے منسلک پاکستانی طالبان نے اس خود کش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے، دوسری جانب اندرون سندھ کی سماجی اور سیاسی صورتحال میں فسطائیت پسندوں اور مسلکی و فرقہ وارانہ کشیدگی میں ملوث کئی عناصر کے از سر نو سرگرم ہونے کی اطلاعات گزشتہ کئی ماہ سے میڈیا میں آتی رہی ہیں ۔

جن سے ریاستی اور حکومتی سطح پر جوابی اقدامات اور ان جارح عناصر کی سرکوبی کے لیے پولیس اور رینجرز کی موثر اور نتیجہ خیز مشترکہ مانیٹرنگ ناگزیر تھی، ایک انگریزی معاصر اخبار کے مطابق بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے انھوں نے اس امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے گزشتہ تین چار اجتماعات میں کسی قسم کے سیکیورٹی انتظامات نہیں دیکھے، جب کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق دو پولیس کانسٹیبل یہاں ڈیوٹی پر ہوتے ہیں، اس بات کی انکوائری کر رہے ہیں کہ وہ کیوں موجود نہیں تھے۔ صرف دو پولیس کانسٹیبل! حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردوں کے لیے انسانی جان اور نماز جمعہ کے احترام کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی وہ اپنے ایجنڈے کے تحت ملک دشمنی کی لہو رنگ تاریخ لکھنے کے جنون میں مبتلا ہیں جسے دیکھتے ہوئے ارباب اختیار اور سلامتی پر مامور حکام کو اپنی دہشت گردی مخالف حکمت عملی پر فی الفور نظر ثانی کرنی چاہیے۔

دہشت گرد تنظیمیں اور سندھ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں دہشت گردی کے لرزہ خیز واقعات ریاستی اور حکومتی حلقوں کے لیے ایک چیلنج کی شکل اختیار کر چکے ہیں، اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، سندھ کے جس حصے میں یہ فرقہ وارانہ حملہ کیا گیا ہے اس کی جہتیں ہولناک ہیں، سندھ صوفی ازم کا پر امن روایتی خطہ ہے، یہ دہشت گردانہ یلغار اسی غیر معمولی، فیصلہ کن اور دوٹوک آپریشن کی ضرورت کا احساس دلاتی ہے جو فاٹا میں ضرب عضب کے نام سے جاری ہے۔ امام بارگاہ کے متولی اور عینی شاہدین کے مطابق دوپہر 2 بجے کے قریب جمعہ کے خطبے کے دوران ایک شخص جامع مسجد امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

دو منزلہ عمارت لوگوں سے بھری ہوئی تھی، نمازیوں میں بھگدڑ مچ گئی، ہر طرف انسانی اعضا بکھر گئے، دھماکے کے بعد مسجد کی چھت متاثر ہوکر گر گئی جس کے ملبے تلے امدادی کارروائی میں مصروف کئی افراد بھی دب گئے۔ امام بارگاہ میں تقریباً 300 افراد موجود تھے، ڈی ایس پی عبدالقدوس کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونیوالوں میں امام بارگاہ کے پیش امام اور 5 بچے بھی شامل ہیں جب کہ21 کے قریب شدید زخمیوں کو شکار پور سے لاڑکانہ، سکھر اور کراچی منتقل کر دیا گیا۔ ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ لوگوں نے انھیں بتایا کہ ایک شخص تھیلے سمیت امام بار گاہ کے اندر آیا۔

جس کے فوری بعد دھماکا ہو گیا، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ شکار پور پر ملک بھر میں تین دن سوگ منایا جائے گا۔ ہفتہ کو سندھ بھر میں پر امن پہیہ جام ہڑتال کی گئی، تحفظ عزاداری کونسل، شیعہ علما کونسل، جعفریہ الائنس اور بلوچستان شیعہ کانفرنس نے بھی یوم سیا ہ اور تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے جاں بحق ہونیوالوں کے لواحقین کے لیے 5 لاکھ فی کس اور زخمیوں کے لیے فی کس ایک لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے، انھوں نے آئی جی پولیس سندھ سے اس سانحہ کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔


صدر اور وزیراعظم نے شکارپور سانحہ کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے حوالہ سے کہا کہ کراچی کی روشنیوں کو اندھیرے میں تبدیل کرنے و الے اور معصوم انسانوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کے مقدمات قانون کے مطابق فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جلد نئے قوانین پارلیمنٹ سے منظور کرائے جائیں گے۔

یہ بات انھوں نے جمعے کو گورنر ہاؤس میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کہی۔ اس موقع پر ڈی جی رینجرز نے بتایا کہ کراچی میں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز، لینڈ مافیا اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاامتیاز آپریشن جاری ہے، وزیر اعظم کی دہشت گردی کے مقدمات کے چالان عدالتوں میں تاخیر سے بھیجنے پر سخت برہمی کا اظہار بروقت ہے، درست ہے کہ جب چالان تاخیر سے عدالتوں میں بھیجے جائیں گے تو پھر مقدمات کے فیصلے جلد کیسے ہوں گے؟ یہ ہدایت بھی تقاضائے وقت ہے کہ تفتیش میں غفلت برتنے والے افسران کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور دہشت گردی کے مقدمات کے چالان 15 روز میں عدالتوں میں جمع کرائے جائیں۔

اجلاس میں صائب فیصلہ کیا گیا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے وفاقی اور سندھ حکومت مل کر اقدام کریں گی اور ان عدالتوں کے قیام کے لیے سندھ حکومت ہر ممکن تعاون اور سہولتیں فراہم کرے گی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے لیکن بجلی سمیت دیگر گمبھیر مسائل کے حل کے لیے مدت نہیں دی جا سکتی البتہ حکومت کے آخری سال بجلی بھی سرپلس ہو جائے گی اور مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج میں وزیراعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے میں دشمن بھی ملوث ہو سکتے ہیں، ایم کیو ایم کے کارکن سہیل احمد اور فراز کی ہلاکت کا نوٹس لے کر چند اہم فیصلے کیے ہیں، آئی جی سندھ ایک ماہ میں رپورٹ پیش کریں گے، خصوصی عدالتیں چند دنوں میں قائم ہو جائیں گی اور بڑے بڑے دہشت گردوں کا ٹرائل ہو گا۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ شکار پور سانحہ کو آل آؤٹ وار اسٹرٹیجی کی بنیاد بنا کر ایسے اقدامات اور فول پروف میکنزم وضع کرنا لازم ہے کہ دہشت گرد ہمارے سیکیورٹی اقدامات کے تحت پیشگی حملے سے نڈھال ہو جائیں، ان کو واردات سے پہلے دبوچ لیا جائے، دہشت گردوں کو جغرافیائی نقل و حمل کی آزادی نہ ملی تو وہ ناکام و نامراد ہونگے۔ پے در پے سانحات پر حکومتی ارباب بست و کشاد کا مذمتی بیان سے کچھ ہونے کی توقع نہیں۔

حکمران یاد رکھیں کہ فسطائیت پسند اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کرتے اور نہ اپنا ہدف۔ وہ سندھ سمیت ملک کے تمام شہروں میں اپنی دہشت گردی کو پھیلانے کا مذموم ایجنڈا رکھتے ہیں، وہ کل کسی اور مقام پر وحشیانہ کھیل کھیل سکتے ہیں، پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے، دہشت گردوں پر فیصلہ کن وار کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
Load Next Story