سماجی اداروں میں نام نہاد جمہوریت
جہاں جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری سرگرمیاں سالوں سے جاری ہیں وہاں ہر بار دکھاوے کے انتخابات ہوتے ہیں۔
لاہور:
ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملک کی زیادہ تر سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا فقدان ہے جب کہ تمام ہی سیاسی جماعتیں جمہوریت کی دعویدار ہیں۔ ملک کی متعدد بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہ چکی ہیں اور چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں کے ساتھ اقتدار میں شامل رہی ہیں۔
جمہوریت کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے والی اور دن رات جمہوریت کا الاپ جپنے والی سیاسی جماعتوں نے ہی اپنے اندر جمہوریت قائم نہیں کی تو ملک میں موجود سماجی ، فلاحی، مختلف شعبوں اور برادریوں کے نام پر بنائی گئی تنظیموں، یونینوں میں کیسے جمہوریت قائم ہوسکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر اگر جمہوریت کی مثال قائم کی ہوتی تو ملک کے سماجی اداروں میں بھی جمہوریت ہوتی جو جمہوریت کے نام پر وجود میں نہیں آئے بلکہ باہمی اتحاد اور فلاحی کاموں کے نام پر قائم کیے جاتے ہیں مگر حقیقت میں ذاتی مفاد کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
ملک میں ڈاکٹروں، انجینئروں، وکیلوں، افسروں ودیگر نے اپنے اتحاد، مفاد اور فلاح کے نام پر جو ایسوسی ایشن قائم کر رکھی ہیں ان میں بھی دو تین بڑی مضبوط گروپ بنے ہوئے ہیں جو اپنے نامور قائدین کی قیادت میں دکھانے کے لیے اپنے سالانہ یا دو تین سالہ انتخابات کراتے ہیں اور زیادہ تر وہی گروپ دوبارہ اقتدار حاصل کرلیتا ہے جو سالوں سے برسر اقتدار چلا آرہاہوں۔
یہ بااثر گروپ اقتدار میں رہتے ہوئے ایسے انتظامات کرلیتا ہے کہ ہر بار اقتدار میں آتا رہے اور وہ اپنے اقتدار کے دوران اپنے مخالفین کی تعداد بڑھنے نہیں دیتا اور اس سلسلے میں مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے نئی ممبر شپ نہیں ہونے دیتا اور صرف اپنے حامیوں کو ہی رکنیت دیتا ہے تاکہ اس کے ووٹروں کی تعداد بڑھے، ایسے نئے ووٹروں سے حلف بھی لیے جاتے ہیں کہ وہ ان کے وفادار رہیں گے اور مخالفوں سے جاکر نہیں مل جائیں گے۔
برسر اقتدار گروپ کا سربراہ اپنے طویل اقتدار کے باعث اپنے شعبے، محکمے اور سرکاری حلقوں میں اپنی اہمیت منوالیتا ہے اور شہرت کے ساتھ مفادات بھی حاصل کرتا رہتا ہے جس سے اس کا اپنے گروپ میں اثرورسوخ بڑھتا جاتا ہے اور اس کے مخالف گروپ کے لوگ بھی مایوس ہوکر ذاتی مفادات کے لیے اس کے ساتھ آ ملنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جس سے برسر اقتدار گروپ کی طاقت مزید بڑھ جاتی ہے اور وہ اپنی اکثریت کے زور پر اپنی تنظیم کے آئین میں من پسند اور مفاداتی ترامیم کراکے مزید مطلق العنان بن جاتا ہے۔
بعض ایسی ایسوسی ایشن بھی ہیں جس کا صدر صرف ایک بار الیکشن لڑسکتا ہے۔ ہر تنظیم میں کارکردگی کی بنیاد پر ہر چھوٹے عہدیدار کا حق ہوتا ہے کہ وہ اوپری عہدوں پر ترقی کرنے کے لیے منتخب ہو مگر بعض جگہوں پر برسراقتدارگروپ اس کی راہ میں حائل ہوجاتا ہے اور وہ صلاحیت اور اچھی کارکردگی کے باعث منتخب نہیں ہوپاتا۔ ہر انجمن یا ایسوسی ایشن میں عہدیداروں کی میعاد مدت ایک دو سال ہی مقرر ہوتی ہے مگر بعض با اثر افراد یہ مدت چار سال مقرر کرالیتے ہیں اور آرام سے چار سال مسلط ہی نہیں رہتے بلکہ عہدہ دوسرے کے لیے چھوڑ دینے کی بجائے اپنے حامیوں کے ذریعے منتخب پہ منتخب ہوتے رہتے ہیں اور عشروں میں بھی جان نہیں چھوڑتے اور چاہتے ہیں کہ مرتے وقت بھی عہدے پر موجود رہیں تاکہ ان کے مرنے کی خبر میں نام کے ساتھ ایک عہدہ بھی لوگوں کی نظروں میں آسکے کہ موصوف ایک طویل عرصے سے اس اہم عہدے پر فائز تھے۔
عموماً یہ ہوتا ہے کہ نیچے سے اوپر آنے والا صدر منتخب ہونے کے بعد دوبارہ نچلے عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑتا مگر ایک مثال کراچی آرٹس کونسل کی بھی ہے جہاں پہلے صدر کا عہدہ نہیں ہوتا تھا۔ نائب صدر کا عہدہ ہوتا تھا اورکمشنر آرٹس کونسل کے سربراہ ہوتے تھے اور ایک بار نائب صدر منتخب ہوجانے والا دوبارہ انتخاب نہیں لڑسکتا تھا مگر ایک گروپ نے ہمیشہ اقتدار میں رہنے کا نیا طریقہ ایجاد کیا اور اپنی اکثریت کے زور پر صدر کا عہدہ تخلیق کرکے صدر منتخب کرانا شروع کردیا۔
کمشنر کا کردار محدود کردیا اور آرٹس کونسل کے آئین میں ترمیم کرا کر سیکڑوں کی تعداد میں مالدار شہریوں، تاجروں، صنعت کاروں، صحافیوں، انجینئروں، وکیلوں ودیگر کو رکنیت دے کر اپنا گروپ مضبوط کرلیا اور آرٹس کونسل کی حقیقی رکنیت کے مستحق اور اہل فنکاروں کی درخواستوں پر سالوں سے غور نہیں کیا جارہا۔ سیکڑوں ایسے سماجی ادارے ہیں۔
جہاں جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری سرگرمیاں سالوں سے جاری ہیں وہاں ہر بار دکھاوے کے انتخابات ہوتے ہیں۔ بعض اداروں کے آئین میں لکھا تو انتخابات ہوتا ہے مگر وہاں مسلط عہدیدار باقاعدگی سے اپنے آئین کے مطابق انتخابات نہیں کراتے بلکہ آپس میں بیٹھ کر عہدوں کی بندربانٹ کرلیتے ہیں اور انتخابات نہ کرانے کا جواز یہ قرار دیتے ہیں کہ امیدواروں میں ووٹنگ کرانے سے انجمن میں اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ کسی کو خفیہ رائے دہی کا حق جمہوریت کے نام پر نہ دیاجائے اور پسندیدہ افراد کی من پسند عہدوں پر نامزدگیاں کرکے سلیکشن کو الیکشن کا نام دے کر جمہوریت کا راگ الاپا جائے۔
کہنے کو تو سماجی ادارے فلاحی کاموں کے لیے قائم کیے جاتے ہیں مگر ایسے اداروں کی تعداد کم ہے جو واقعی فلاحی کام کررہے ہیں اور ان کی خدمات بلاشبہ قابل تعریف ہے مگر ملک بھر میں ایسے چھوٹے فلاحی اداروں کی بھرمار ہے جو فلاحی کام ذاتی شہرت کرپشن اور دکھاوے کے لیے کرتے ہیں اور بعض ادارے اپنے رجسٹرڈ نام کے لیٹر پیڈ پر دوسروں کے خلاف درخواستیں دے کر انھیں بلیک میل بھی کرتے ہیں اور اپنے ناجائز کام نہ کرنے والے افسروں کے خلاف حکومتی ذمے داروں اور عدالتوں تک میں درخواستیں دیتے ہیں۔ رشوت دے کر فلاحی ادارے اپنی رجسٹریشن کرالیتے ہیں اور معاشرے کے ٹھیکیدار بن جاتے ہیں۔ قدرتی آفات پر عطیات جمع کرکے ہڑپ کرنے اور اپنے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حکومت نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔
ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملک کی زیادہ تر سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا فقدان ہے جب کہ تمام ہی سیاسی جماعتیں جمہوریت کی دعویدار ہیں۔ ملک کی متعدد بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہ چکی ہیں اور چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں کے ساتھ اقتدار میں شامل رہی ہیں۔
جمہوریت کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے والی اور دن رات جمہوریت کا الاپ جپنے والی سیاسی جماعتوں نے ہی اپنے اندر جمہوریت قائم نہیں کی تو ملک میں موجود سماجی ، فلاحی، مختلف شعبوں اور برادریوں کے نام پر بنائی گئی تنظیموں، یونینوں میں کیسے جمہوریت قائم ہوسکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر اگر جمہوریت کی مثال قائم کی ہوتی تو ملک کے سماجی اداروں میں بھی جمہوریت ہوتی جو جمہوریت کے نام پر وجود میں نہیں آئے بلکہ باہمی اتحاد اور فلاحی کاموں کے نام پر قائم کیے جاتے ہیں مگر حقیقت میں ذاتی مفاد کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
ملک میں ڈاکٹروں، انجینئروں، وکیلوں، افسروں ودیگر نے اپنے اتحاد، مفاد اور فلاح کے نام پر جو ایسوسی ایشن قائم کر رکھی ہیں ان میں بھی دو تین بڑی مضبوط گروپ بنے ہوئے ہیں جو اپنے نامور قائدین کی قیادت میں دکھانے کے لیے اپنے سالانہ یا دو تین سالہ انتخابات کراتے ہیں اور زیادہ تر وہی گروپ دوبارہ اقتدار حاصل کرلیتا ہے جو سالوں سے برسر اقتدار چلا آرہاہوں۔
یہ بااثر گروپ اقتدار میں رہتے ہوئے ایسے انتظامات کرلیتا ہے کہ ہر بار اقتدار میں آتا رہے اور وہ اپنے اقتدار کے دوران اپنے مخالفین کی تعداد بڑھنے نہیں دیتا اور اس سلسلے میں مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے نئی ممبر شپ نہیں ہونے دیتا اور صرف اپنے حامیوں کو ہی رکنیت دیتا ہے تاکہ اس کے ووٹروں کی تعداد بڑھے، ایسے نئے ووٹروں سے حلف بھی لیے جاتے ہیں کہ وہ ان کے وفادار رہیں گے اور مخالفوں سے جاکر نہیں مل جائیں گے۔
برسر اقتدار گروپ کا سربراہ اپنے طویل اقتدار کے باعث اپنے شعبے، محکمے اور سرکاری حلقوں میں اپنی اہمیت منوالیتا ہے اور شہرت کے ساتھ مفادات بھی حاصل کرتا رہتا ہے جس سے اس کا اپنے گروپ میں اثرورسوخ بڑھتا جاتا ہے اور اس کے مخالف گروپ کے لوگ بھی مایوس ہوکر ذاتی مفادات کے لیے اس کے ساتھ آ ملنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جس سے برسر اقتدار گروپ کی طاقت مزید بڑھ جاتی ہے اور وہ اپنی اکثریت کے زور پر اپنی تنظیم کے آئین میں من پسند اور مفاداتی ترامیم کراکے مزید مطلق العنان بن جاتا ہے۔
بعض ایسی ایسوسی ایشن بھی ہیں جس کا صدر صرف ایک بار الیکشن لڑسکتا ہے۔ ہر تنظیم میں کارکردگی کی بنیاد پر ہر چھوٹے عہدیدار کا حق ہوتا ہے کہ وہ اوپری عہدوں پر ترقی کرنے کے لیے منتخب ہو مگر بعض جگہوں پر برسراقتدارگروپ اس کی راہ میں حائل ہوجاتا ہے اور وہ صلاحیت اور اچھی کارکردگی کے باعث منتخب نہیں ہوپاتا۔ ہر انجمن یا ایسوسی ایشن میں عہدیداروں کی میعاد مدت ایک دو سال ہی مقرر ہوتی ہے مگر بعض با اثر افراد یہ مدت چار سال مقرر کرالیتے ہیں اور آرام سے چار سال مسلط ہی نہیں رہتے بلکہ عہدہ دوسرے کے لیے چھوڑ دینے کی بجائے اپنے حامیوں کے ذریعے منتخب پہ منتخب ہوتے رہتے ہیں اور عشروں میں بھی جان نہیں چھوڑتے اور چاہتے ہیں کہ مرتے وقت بھی عہدے پر موجود رہیں تاکہ ان کے مرنے کی خبر میں نام کے ساتھ ایک عہدہ بھی لوگوں کی نظروں میں آسکے کہ موصوف ایک طویل عرصے سے اس اہم عہدے پر فائز تھے۔
عموماً یہ ہوتا ہے کہ نیچے سے اوپر آنے والا صدر منتخب ہونے کے بعد دوبارہ نچلے عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑتا مگر ایک مثال کراچی آرٹس کونسل کی بھی ہے جہاں پہلے صدر کا عہدہ نہیں ہوتا تھا۔ نائب صدر کا عہدہ ہوتا تھا اورکمشنر آرٹس کونسل کے سربراہ ہوتے تھے اور ایک بار نائب صدر منتخب ہوجانے والا دوبارہ انتخاب نہیں لڑسکتا تھا مگر ایک گروپ نے ہمیشہ اقتدار میں رہنے کا نیا طریقہ ایجاد کیا اور اپنی اکثریت کے زور پر صدر کا عہدہ تخلیق کرکے صدر منتخب کرانا شروع کردیا۔
کمشنر کا کردار محدود کردیا اور آرٹس کونسل کے آئین میں ترمیم کرا کر سیکڑوں کی تعداد میں مالدار شہریوں، تاجروں، صنعت کاروں، صحافیوں، انجینئروں، وکیلوں ودیگر کو رکنیت دے کر اپنا گروپ مضبوط کرلیا اور آرٹس کونسل کی حقیقی رکنیت کے مستحق اور اہل فنکاروں کی درخواستوں پر سالوں سے غور نہیں کیا جارہا۔ سیکڑوں ایسے سماجی ادارے ہیں۔
جہاں جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری سرگرمیاں سالوں سے جاری ہیں وہاں ہر بار دکھاوے کے انتخابات ہوتے ہیں۔ بعض اداروں کے آئین میں لکھا تو انتخابات ہوتا ہے مگر وہاں مسلط عہدیدار باقاعدگی سے اپنے آئین کے مطابق انتخابات نہیں کراتے بلکہ آپس میں بیٹھ کر عہدوں کی بندربانٹ کرلیتے ہیں اور انتخابات نہ کرانے کا جواز یہ قرار دیتے ہیں کہ امیدواروں میں ووٹنگ کرانے سے انجمن میں اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ کسی کو خفیہ رائے دہی کا حق جمہوریت کے نام پر نہ دیاجائے اور پسندیدہ افراد کی من پسند عہدوں پر نامزدگیاں کرکے سلیکشن کو الیکشن کا نام دے کر جمہوریت کا راگ الاپا جائے۔
کہنے کو تو سماجی ادارے فلاحی کاموں کے لیے قائم کیے جاتے ہیں مگر ایسے اداروں کی تعداد کم ہے جو واقعی فلاحی کام کررہے ہیں اور ان کی خدمات بلاشبہ قابل تعریف ہے مگر ملک بھر میں ایسے چھوٹے فلاحی اداروں کی بھرمار ہے جو فلاحی کام ذاتی شہرت کرپشن اور دکھاوے کے لیے کرتے ہیں اور بعض ادارے اپنے رجسٹرڈ نام کے لیٹر پیڈ پر دوسروں کے خلاف درخواستیں دے کر انھیں بلیک میل بھی کرتے ہیں اور اپنے ناجائز کام نہ کرنے والے افسروں کے خلاف حکومتی ذمے داروں اور عدالتوں تک میں درخواستیں دیتے ہیں۔ رشوت دے کر فلاحی ادارے اپنی رجسٹریشن کرالیتے ہیں اور معاشرے کے ٹھیکیدار بن جاتے ہیں۔ قدرتی آفات پر عطیات جمع کرکے ہڑپ کرنے اور اپنے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حکومت نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔