ڈالر بانڈ سمیت متعدد بچت اسکیمیں تاخیر کا شکار
حکومت نے محکمہ قومی بچت کو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈ ریزنگ کے لیے بھی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ذرائع
حکومت نے محکمہ قومی بچت کو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈ ریزنگ کے لیے بھی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ذرائع فوٹو: فائل
محکمہ قومی بچت کے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی نہ ہونے کے باعث اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈالر بانڈ متعارف کرانے سمیت دیگر بچت اسکیمیں تاخیر کا شکار ہوگئی ہیں ۔
جس سے حکومت کو بچتوں کی مد میں حاصل ہونے والے سستے ترین ریونیو میں کمی کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ محکمہ قومی بچت کے سابق ڈائریکٹر جنرل ظفر محمود شیخ کے دور میں محکمہ قومی بچت نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈالر بانڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے تمام تر انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے تھے، اس کے علاوہ محکمہ قومی بچت نے دیگر بچت اسکیمیں بھی تیار کر کے منظوری کے لیے وزارت خزانہ کو بھجوائی تھیں اور حکومت کی طرف سے اوور سیز پاکستانیوں کے لیے 3 سال، 5 سال اور 10سال کی مدت کے لیے ڈالر بانڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اس مد میں کم ازکم 50 کروڑ ڈالر مالیت کے ڈالر بانڈز جاری کیے جانا تھے لیکن چونکہ ظفر محمود شیخ کی مدت ملازمت پوری ہوچکی تھی اور ان کی جانب سے عہدے کا چارج چھوڑنے کے بعد سے لے کر اب تک ادارے میں کوئی مستقل ڈائریکٹر جنرل ہی تعینات نہیں ہو سکا جس کے باعث نہ تو محکمہ قومی بچت کی جانب سے کوئی نئی بچت اسکیم متعارف کرائی جا سکی ہے اور نہ ہی ادارے کی کمپیوٹرائزیشن کا پراجیکٹ ہی پایہ تکمیل کو پہنچ سکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے محکمہ قومی بچت کو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈ ریزنگ کے لیے بھی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس حوالے سے دیامیر بھاشا ڈیم کیلیے فنڈ ریزنگ کیلیے محکمہ قومی بچت کو لیٹر بھی موصول ہوا تھا مگر ادارے پر حکومت کی عدم توجہ کے باعث ادارہ شدید قسم کے بحران سے دوچار ہوگیا ہے۔
جس سے حکومت کو بچتوں کی مد میں حاصل ہونے والے سستے ترین ریونیو میں کمی کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ محکمہ قومی بچت کے سابق ڈائریکٹر جنرل ظفر محمود شیخ کے دور میں محکمہ قومی بچت نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈالر بانڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے تمام تر انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے تھے، اس کے علاوہ محکمہ قومی بچت نے دیگر بچت اسکیمیں بھی تیار کر کے منظوری کے لیے وزارت خزانہ کو بھجوائی تھیں اور حکومت کی طرف سے اوور سیز پاکستانیوں کے لیے 3 سال، 5 سال اور 10سال کی مدت کے لیے ڈالر بانڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اس مد میں کم ازکم 50 کروڑ ڈالر مالیت کے ڈالر بانڈز جاری کیے جانا تھے لیکن چونکہ ظفر محمود شیخ کی مدت ملازمت پوری ہوچکی تھی اور ان کی جانب سے عہدے کا چارج چھوڑنے کے بعد سے لے کر اب تک ادارے میں کوئی مستقل ڈائریکٹر جنرل ہی تعینات نہیں ہو سکا جس کے باعث نہ تو محکمہ قومی بچت کی جانب سے کوئی نئی بچت اسکیم متعارف کرائی جا سکی ہے اور نہ ہی ادارے کی کمپیوٹرائزیشن کا پراجیکٹ ہی پایہ تکمیل کو پہنچ سکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے محکمہ قومی بچت کو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈ ریزنگ کے لیے بھی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس حوالے سے دیامیر بھاشا ڈیم کیلیے فنڈ ریزنگ کیلیے محکمہ قومی بچت کو لیٹر بھی موصول ہوا تھا مگر ادارے پر حکومت کی عدم توجہ کے باعث ادارہ شدید قسم کے بحران سے دوچار ہوگیا ہے۔