پٹرولیم کی قیمتوں میں مزید کمی

نئی قیمتوں کے تحت پٹرول 70.29 روپے فی لیٹر ہو گیا،ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت.61 80روپے ہوگئی ہے۔

پٹرول یا مصنوعات توانائی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اگر حکومت ان کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر استحکام لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے ملکی معیشت ایک ہموار رفتار سے ترقی کر سکتی ہے۔ فوٹو: فائل

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریبا بارہ روپے فی لیٹر تک مزید کمی کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری سے ہو گیا ہے۔نئی قیمتوں کے تحت پٹرول 70.29 روپے فی لیٹر ہو گیا،ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت.61 80روپے ہوگئی ہے،لائٹ ڈیزل تقریباً 58روپے فی لیٹر ملے گاجب کہ مٹی کا تیل ساڑھے 61روپے کے لگ بھگ فروخت ہوا کرے گا۔ گویا پٹرول اب سی این جی سے بھی سستا ہوگیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اس قدر نمایاں کمی کی گئی ہے ورنہ سابقہ معمول تو یہ تھا کہ قیمتوں میں اضافہ ہو تو بہت سا لیکن اگر کمی ہو تو بس برائے نام۔ وزیراعظم نے گزشتہ روز لاہور میں میڈیا سے بات چیت کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔ موجودہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاصی کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا تاہم ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اتنی کمی نہیں ہوئی جتنی کہ ہونی چاہیے تھی۔

اس حوالے سے کوئی عملی میکنزم تیار کیا جانا چاہیے تاکہ جیسے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی ہو تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اسی تناسب سے کمی کر دی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ یہ ریلیف کتنے عرصے تک ملے گا۔تیل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھائو کے تناسب سے کیا جاتا ہے۔ اب عالمی حالات کی وجہ سے تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گا۔ جیسے ہی حالات بہتر ہوئے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی بڑھنا شروع ہو جائیں گی۔ اس کے بعد پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی۔


اس صورت حال سے نمٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں سالانہ بنیادوں پر مقرر کی جائیں۔اس طریقے سے ملکی معیشت خاصی مستحکم ہوگی۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا تعین کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ نقل و حمل کے اخراجات بھی پورا سال یکساں رہیں گے جس سے مہنگائی میں ٹھہرائو آئے گا۔ بہرحال یہ کام حکومت کے کرنے کا ہے ۔گزشتہ دنوں پٹرول پمپوں سے تیل غائب ہو گیا تھا جس کی وجہ سے پنجاب میں ایک بحرانی کیفیت برقرار رہی۔

یہ بھی بدانتظامی کی وجہ سے ہوا۔ اس بحران کے دوران لوگوں نے بوتلوں اور پلاسٹک کے کنٹینروں میں پٹرول لینا شروع کیا اور بعض لوگوں نے اسے فروخت بھی کرنا شروع کر دیا اس صورت حال سے بچنے کے لیے حکومت نے بوتلوں یا پلاسٹک کے ڈبوں میں پٹرول دینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بحران کے دنوں میں تو پابندی ہونی چاہیے تھی لیکن بحران تقریباً ہفتہ جاری رہا ،اس وقت یہ پابندی عائد نہیں تھی۔ جیسے ہی بحران ختم ہوا تو یہ پابندی عائد کر دی گئی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ پابندی درست ہو لیکن اس کا ایک پہلو مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ لاہور سمیت پورے ملک میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔

بہت سے گھرانے اور ادارے جنریٹر چلاتے ہیں۔پلاسٹک کے ڈبوں اور بوتلوں میں پٹرول دینے پر پابندی کے باعث انھیں بھی خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کو اس حوالے سے کوئی مناسب طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ بہر حال حکومت نے عوام کو پٹرول کی قیمتیں کم کر کے خاصا ریلیف دیا ہے۔ ماضی میں ایسا ریلیف سامنے نہیں آیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ریلیف کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔توانائی کسی معیشت کی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ دنیا میں ان ممالک نے ہی ترقی کی ہے جہاں توانائی کے تمام ذرائع وافر اور سستے ہیں۔

چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ چین کی ترقی کی وجہ یہی ہے کہ وہاں توانائی سستی ہے۔ پاکستان نے بھی اگر ترقی کرنی ہے تو اسے توانائی کے ذرائع کو سستا بھی کرنا ہو گا اور اس کی کمی کو بھی دور کرنا ہو گا۔ پٹرول یا مصنوعات توانائی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اگر حکومت ان کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر استحکام لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے ملکی معیشت ایک ہموار رفتار سے ترقی کر سکتی ہے۔
Load Next Story