کرپشن ختم کرنے کی ادھوری کوششیں
نچلے طبقات میں موجود چھوٹی موٹی کرپشن اس وقت تک موجود رہے گی جب تک ان کی آمدنی اور خرچ میں توازن نہیں پیدا ہوگا
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
کرپشن صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ساری دنیا کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت یا عدلیہ اس مہلک مرض کا علاج کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس کے اسباب، اس کے پھیلائو اور استحکام وغیرہ کا معروضی جائزہ لیتے ہیں اور ایک موثر حکمت عملی کے ذریعے اس کے خلاف اقدامات کرتے ہیں۔ پاکستان میں کرپشن کی وبادوسرے ترقی پذیر ملکوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ پورے معاشرے میں سرائیت اس عفریت کو ختم کرنے کے دعوے دار اس وبا کی اے بی سی سے بھی واقف نہیں۔ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اگر وہ برسرِ اقتدار آئے تو نوّے دن کے اندر اندر کرپشن کا خاتمہ کردیں گے۔ ایک اور سیاسی جماعت کے رہنما حکومت کو علی بابا چالیس چوروں کا ٹولہ قرار دے رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ الزام لگانے والوں کے اپنے دامن بھی داغدار ہیں۔
سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کرپشن کی کیوں جاتی ہے۔ نچلی سطح پر ہونے والی کرپشن جو سو روپوں سے لے کر چند ہزار تک ہوتی ہے، جس کا ارتکاب پولیس کے سپاہی، دفاتر کا عملہ، عدلیہ اور دوسرے سرکاری اداروں کے اہلکار کرتے ہیں، اس کا بڑا سبب وہ کم آمدنی ہوتی ہے جس میں ان غریب طبقات کا گزارہ ممکن نہیں ہوتا۔ دوسری کرپشن مڈل کلاس کے ان لوگوں کی ہوتی ہے جس کا مقصد اپنی زندگی کو آسودہ بنانا یا اپر مڈل کلاس میں گھسنا ہوتا ہے۔
تیسری وہ کرپشن ہوتی ہے جس کا ارتکاب ایلیٹ کلاس کرتی ہے اور جس کا مقصد دولت کے بے مصرف انباروں پر قبضہ جمانا ہوتا ہے۔ چوتھی کرپشن جسے جائز اور حلال کہا جاتا ہے وہ ہے زیادہ سے زیادہ منافع خوری، یہ کرپشن ایک سبزی یا پھل فروش سے لے کر ملٹی نیشنل کمپنیوں تک دیکھی جاسکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ اس کی ایک مثال ہے۔ منافع خوری کی یہ کرپشن مہنگائی کو جنم دیتی ہے جس سے عوام براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔
نچلے طبقات میں موجود چھوٹی موٹی کرپشن اس وقت تک موجود رہے گی جب تک ان کی آمدنی اور خرچ میں توازن نہیں پیدا ہوگا، یعنی جائز طریقوں سے ان کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں کی جائیں گی۔ مڈل کلاس کا وہ حصّہ جو اپر مڈل کلاس میں گھسنا چاہتا ہے وہ اپنی اس خواہش کو کرپشن ہی کے ذریعے پوری کرتا ہے، لیکن اس قسم کی کرپشن میں ارتکاز زر کا وہ خطرناک پہلو نہیں ہوتا، جس کا ارتکاب ایلیٹ اور ملٹی نیشنل کمپنیاں کرتی ہیں۔ یہ بات ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر کا ایلیٹ اپنے اپنے ملک کی اسّی فیصد دولت پر قابض ہے۔ یہی وہ کرپشن ہے جسے معاشرے کو غربت، بھوک، بیماری کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔
ہم نے پاکستان کے حوالے سے اس حقیقت کی نشان دہی کردی ہے کہ پاکستان میں کرپشن کے خلاف جو واویلا کررہے ہیں، وہ عوام کو بے وقوف بنانے اور ممکنہ طور پر آنے والے انتخابات میں اپنے لیے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی ایک کوشش کے علاوہ کوئی معنویت نہیں رکھتی۔ اس قسم کی مہموں کا رخ انتہائی عیّاری کے ساتھ حکومت اور چند حکومتی اکابرین کی طرف موڑ کر عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ صرف حکومت ہی کرپشن کی مجرم ہے، باقی ساری ایلیٹ گنگا کے پانی سے دھلی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ سارے کرپشن کی اس بہتی گنگا میں نہائے ہوئے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے واضح کیا اصل کرپشن وہ ہے جو دو فیصد امراء کے ہاتھوں میں اسّی فیصد دولت کی شکل میں ہے ۔ اس دولت پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے سرمایہ دارانہ استحصالی نظام نے جمہوریت، انتخابات، عوامی مینڈیٹ، قانون اور انصاف کا وہ نظام ایجاد کر رکھا ہے جس کے ذریعے لوٹ مار کی آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان کی ایلیٹ آج کل اس نظامِ کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔
ایسے ملکوں اور معاشروں میں اگر کوئی فرد، جماعت یا ادارہ کرپشن کی روک تھام میں مخلص ہو تو اسے سب سے پہلے ایلیٹ کی اعلیٰ سطحی کرپشن کے خلاف بلاامتیاز ڈنڈا اٹھانا چاہیے۔ اس حوالے سے ہماری نوآزاد اعلیٰ عدلیہ کوشش کرتی نظرآرہی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ابھی تک سارا زور حکومت کی کرپشن پر دیا جارہا ہے ۔ باقی ساری ایلیٹ جو حزب اختلاف کی شکل میں موجود ہے، وہ ابھی تک عدلیہ کی نظروں سے بچی ہوئی ہے۔
اس وقت ''خط'' لکھنے کا معاملہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اس خط کے پیچھے 5 ارب کی جو رقم چھپی ہوئی ہے، اگر وہ واپس لے بھی لی جائے تو یہ کرپشن کے اونٹ کے منہ میں زیرہ ہی ثابت ہوگی کیونکہ ہمارے ملک کی سیاسی ایلیٹ کے شہزادے زرداری کی 5 ارب سے پچاس گنا زیادہ بڑی کرپشن کی دولت پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ اس حقیقت کے پس منظر میں صرف حکومت کو ہدف بنانے سے ایک طرف عوام میں عدلیہ کی غیر جانبداری مشکوک بن رہی ہے، دوسرے وہ سیاست دان اور ایلیٹ طبقہ پسِ پشت چلے جارہے ہیں جن کے قبضے میں اربوں نہیں کھربوں کی دولت جمع ہے۔ صرف بینکوں کے قرض ہڑپ کرنے والوں کی طرف دو کھرب سے زیادہ رقم وصول طلب ہے۔ ہماری محترم عدلیہ اگر اعلیٰ سطحی کرپشن ہی ختم کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے زرداری سے آگے بڑھ کر تمام ایلیٹ کے خلاف بلاامتیاز انصاف کرنا چاہیے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ پورے معاشرے میں سرائیت اس عفریت کو ختم کرنے کے دعوے دار اس وبا کی اے بی سی سے بھی واقف نہیں۔ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اگر وہ برسرِ اقتدار آئے تو نوّے دن کے اندر اندر کرپشن کا خاتمہ کردیں گے۔ ایک اور سیاسی جماعت کے رہنما حکومت کو علی بابا چالیس چوروں کا ٹولہ قرار دے رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ الزام لگانے والوں کے اپنے دامن بھی داغدار ہیں۔
سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کرپشن کی کیوں جاتی ہے۔ نچلی سطح پر ہونے والی کرپشن جو سو روپوں سے لے کر چند ہزار تک ہوتی ہے، جس کا ارتکاب پولیس کے سپاہی، دفاتر کا عملہ، عدلیہ اور دوسرے سرکاری اداروں کے اہلکار کرتے ہیں، اس کا بڑا سبب وہ کم آمدنی ہوتی ہے جس میں ان غریب طبقات کا گزارہ ممکن نہیں ہوتا۔ دوسری کرپشن مڈل کلاس کے ان لوگوں کی ہوتی ہے جس کا مقصد اپنی زندگی کو آسودہ بنانا یا اپر مڈل کلاس میں گھسنا ہوتا ہے۔
تیسری وہ کرپشن ہوتی ہے جس کا ارتکاب ایلیٹ کلاس کرتی ہے اور جس کا مقصد دولت کے بے مصرف انباروں پر قبضہ جمانا ہوتا ہے۔ چوتھی کرپشن جسے جائز اور حلال کہا جاتا ہے وہ ہے زیادہ سے زیادہ منافع خوری، یہ کرپشن ایک سبزی یا پھل فروش سے لے کر ملٹی نیشنل کمپنیوں تک دیکھی جاسکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ اس کی ایک مثال ہے۔ منافع خوری کی یہ کرپشن مہنگائی کو جنم دیتی ہے جس سے عوام براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔
نچلے طبقات میں موجود چھوٹی موٹی کرپشن اس وقت تک موجود رہے گی جب تک ان کی آمدنی اور خرچ میں توازن نہیں پیدا ہوگا، یعنی جائز طریقوں سے ان کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں کی جائیں گی۔ مڈل کلاس کا وہ حصّہ جو اپر مڈل کلاس میں گھسنا چاہتا ہے وہ اپنی اس خواہش کو کرپشن ہی کے ذریعے پوری کرتا ہے، لیکن اس قسم کی کرپشن میں ارتکاز زر کا وہ خطرناک پہلو نہیں ہوتا، جس کا ارتکاب ایلیٹ اور ملٹی نیشنل کمپنیاں کرتی ہیں۔ یہ بات ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر کا ایلیٹ اپنے اپنے ملک کی اسّی فیصد دولت پر قابض ہے۔ یہی وہ کرپشن ہے جسے معاشرے کو غربت، بھوک، بیماری کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔
ہم نے پاکستان کے حوالے سے اس حقیقت کی نشان دہی کردی ہے کہ پاکستان میں کرپشن کے خلاف جو واویلا کررہے ہیں، وہ عوام کو بے وقوف بنانے اور ممکنہ طور پر آنے والے انتخابات میں اپنے لیے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی ایک کوشش کے علاوہ کوئی معنویت نہیں رکھتی۔ اس قسم کی مہموں کا رخ انتہائی عیّاری کے ساتھ حکومت اور چند حکومتی اکابرین کی طرف موڑ کر عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ صرف حکومت ہی کرپشن کی مجرم ہے، باقی ساری ایلیٹ گنگا کے پانی سے دھلی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ سارے کرپشن کی اس بہتی گنگا میں نہائے ہوئے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے واضح کیا اصل کرپشن وہ ہے جو دو فیصد امراء کے ہاتھوں میں اسّی فیصد دولت کی شکل میں ہے ۔ اس دولت پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے سرمایہ دارانہ استحصالی نظام نے جمہوریت، انتخابات، عوامی مینڈیٹ، قانون اور انصاف کا وہ نظام ایجاد کر رکھا ہے جس کے ذریعے لوٹ مار کی آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان کی ایلیٹ آج کل اس نظامِ کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔
ایسے ملکوں اور معاشروں میں اگر کوئی فرد، جماعت یا ادارہ کرپشن کی روک تھام میں مخلص ہو تو اسے سب سے پہلے ایلیٹ کی اعلیٰ سطحی کرپشن کے خلاف بلاامتیاز ڈنڈا اٹھانا چاہیے۔ اس حوالے سے ہماری نوآزاد اعلیٰ عدلیہ کوشش کرتی نظرآرہی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ابھی تک سارا زور حکومت کی کرپشن پر دیا جارہا ہے ۔ باقی ساری ایلیٹ جو حزب اختلاف کی شکل میں موجود ہے، وہ ابھی تک عدلیہ کی نظروں سے بچی ہوئی ہے۔
اس وقت ''خط'' لکھنے کا معاملہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اس خط کے پیچھے 5 ارب کی جو رقم چھپی ہوئی ہے، اگر وہ واپس لے بھی لی جائے تو یہ کرپشن کے اونٹ کے منہ میں زیرہ ہی ثابت ہوگی کیونکہ ہمارے ملک کی سیاسی ایلیٹ کے شہزادے زرداری کی 5 ارب سے پچاس گنا زیادہ بڑی کرپشن کی دولت پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ اس حقیقت کے پس منظر میں صرف حکومت کو ہدف بنانے سے ایک طرف عوام میں عدلیہ کی غیر جانبداری مشکوک بن رہی ہے، دوسرے وہ سیاست دان اور ایلیٹ طبقہ پسِ پشت چلے جارہے ہیں جن کے قبضے میں اربوں نہیں کھربوں کی دولت جمع ہے۔ صرف بینکوں کے قرض ہڑپ کرنے والوں کی طرف دو کھرب سے زیادہ رقم وصول طلب ہے۔ ہماری محترم عدلیہ اگر اعلیٰ سطحی کرپشن ہی ختم کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے زرداری سے آگے بڑھ کر تمام ایلیٹ کے خلاف بلاامتیاز انصاف کرنا چاہیے۔