پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کا اعلان

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونےوالی حالیہ کمی کےبعد بالآخرپبلک ٹرانسپورٹ کےکرایوں میں بھی کمی کااعلان کردیاگیاہے۔

ارباب اختیار ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کے نفاذ کو یقینی بنائیں اور پٹرولیم مصنوعات میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچائے جائیں۔ فوٹو: فائل

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی حالیہ کمی کے بعد بالآخر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی کمی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا فائدہ حکومتی خزانے میں لے جانے کے بجائے اسے عوام تک منتقل کیاگیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تیل کے نرخوں میں مسلسل کمی سے اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی عوام کی دسترس میں آرہی ہیں۔


پنجاب اور سندھ حکومت نے انٹرسٹی اور گڈز کے کرایوں میں 5 تا 8 فیصد کمی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، بلوچستان حکومت نے بھی کرایوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن یہ اطلاعات بھی چشم کشا ہیں کہ پنجاب حکومت تمام تر دعوؤں کے باوجود نئے کرایہ ناموں پر عملدرآمد یقینی نہیں بناسکی، گزشتہ روز بھی ٹرانسپورٹرز پرانے کرایے وصول کرتے رہے۔ انٹرسٹی اور اربن ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں پر نئے کرایے نامے بھی آویزاں نہیں کیے گئے ہیں۔ کراچی میں بھی مختلف روٹس پر چلنے والی انٹرسٹی بسوں، گڈز ٹرانسپورٹ، رکشا، ٹیکسی اور اسکولز وین کے کرایوں میں 5 سے 8 فیصد تک کمی کا اعلان کردیا گیا ہے، اس سلسلے میں محکمہ ٹرانسپورٹ وماس ٹرائزٹ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

ان تمام اقدامات کے باوجود عوام حقیقی معنوں میں اس سہولت سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں، کیونکہ ٹرانسپورٹرز اپنی من مانی پر اڑے ہوئے ہیں، پیر کو کرایوں میں کمی کا اعلان ہونے کے باوجود بڑھے ہوئے کرایے ہی وصول کیے جاتے رہے اور مسافروں اور کنڈیکٹر کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے، نیز رکشے اور ٹیکسیوں میں لگے میٹرز ایک عرصہ پہلے ناکارہ یا گمشدہ ہوچکے ہیں، اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ شہریوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کے اعلان کو خوش آیند قرار دیا ہے، تاہم ماضی میں جس طرح سندھ حکومت نے کئی بار ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کی لیکن ان کو نافذ کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دی، اس لیے ارباب اختیار ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کے نفاذ کو یقینی بنائیں اور پٹرولیم مصنوعات میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچائے جائیں۔
Load Next Story