زیورات میں استعمال ہونیوالے سونے چاندی کو سیلز ٹیکس چھوٹ
سیلز ٹیکس اسپیشل پروسیجر رولز 2007 میں ترامیم، ایف بی آرنے ترمیمی ایس آر او جاری کردیا
سیلز ٹیکس اسپیشل پروسیجر رولز 2007 میں ترامیم، ایف بی آرنے ترمیمی ایس آر او جاری کردیا۔ فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے زیورات میں استعمال ہونے والے سونے اور چاندی کو سیلز ٹیکس سے چھوٹ دے دی ہے۔
اس ضمن میں ایف بی آر کی طرف سے گزشتہ روز جاری کردہ ترمیمی ایس آر او 85(I)/2015 کے ذریعے سیلز ٹیکس اسپیشل پروسیجر رولز 2007 میں ترامیم کر دی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ جیولرز سے سیلز ٹیکس وصولی کے لیے ان کے تیارکردہ زیورات کی سپلائی پر سیلز ٹیکس کا تعین کرتے وقت ان زیورات میں استعمال ہونے والے سونے اور چاندی کی مالیت کو منہا کر دیا جائے گا اور اس کے بعد جو رقم بچے گی اس پر سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ جیولرزکے لیے زیورات کی سپلائی پر قابل ٹیکس رقم ان میں استعمال ہونے والے سونے اور چاندی کی مالیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہونی چاہیے جس پر سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
اس ضمن میں ایف بی آر کی طرف سے گزشتہ روز جاری کردہ ترمیمی ایس آر او 85(I)/2015 کے ذریعے سیلز ٹیکس اسپیشل پروسیجر رولز 2007 میں ترامیم کر دی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ جیولرز سے سیلز ٹیکس وصولی کے لیے ان کے تیارکردہ زیورات کی سپلائی پر سیلز ٹیکس کا تعین کرتے وقت ان زیورات میں استعمال ہونے والے سونے اور چاندی کی مالیت کو منہا کر دیا جائے گا اور اس کے بعد جو رقم بچے گی اس پر سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ جیولرزکے لیے زیورات کی سپلائی پر قابل ٹیکس رقم ان میں استعمال ہونے والے سونے اور چاندی کی مالیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہونی چاہیے جس پر سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔