دفاعی شعبے میں اہم کامیابی
پاکستان کے سائنسدان اور ماہرین محدود وسائل کے باوجود اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
پاکستان کو دہشت گردی سے شدید خطرات لاحق ہیں،دہشت گرد جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور بے گناہ انسانوں کا قتل عام کررہے ہیں، فوٹو : فائل
پاکستان نے دفاعی شعبے میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے پیر کوا سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل کروز میزائل ،،رعد،، کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل 350 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رعد یا حتف 8 میزائل 1100 کلو گرام وزنی اور 4.85 میٹرز طویل ہے۔ 25 اگست 2007 کے بعد سے اس کروز میزائل کا چھٹی بار کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔
اس کامیاب تجربے کے بعد میزائل ٹیکنالوجی میں پاکستان کو بھارت پر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق رعد میزائل کم اونچائی اور ناہموار علاقوں سے گزرتے ہوئے سمندر اور زمین دونوں میں ہدف کو سو فیصد درست نشانہ بناسکتا ہے۔ اس میزائل کو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے باعث ریڈار پر نہیں دیکھاجاسکتا اور نہ ہی اس کی آواز سنی جاسکتی ہے۔ رعد میزائل روایتی اور ایٹمی ہتھیار لیجانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ کروز ٹیکنالوجی انتہائی پیچیدہ ہے جسے دنیا کے چند ممالک نے حاصل کیا ہے۔
رعد میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کے دفاعی نظام میں نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان جس خطے میں واقعہ ہے، وہاں بھارت اور چین دو ایٹمی قوتیں ہیں اور دونوں اپنی دفاعی صلاحیت کو ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھا رہی ہیں۔ پاکستان بھی ایٹمی طاقت ہے، اس صورت حال میں پاکستان دفاعی اعتبار سے کسی کمی یا کوتاہی کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب کہ بھارت مسلسل اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے۔ بھارت میزائل بھی بنا رہا ہے تاہم کروز میزائل ٹیکنالوجی میں پاکستان اس سے برتر پوزیشن میں ہے جو یقیناً بڑی بات ہے۔ بابر میزائل (حتف 7) کے بعد پاکستان کی جانب سے تیار کیا جانے والا یہ نیا کروز میزائل ہے۔
پاکستان اور بھارت پر لازم ہے کہ وہ میزائل تجربہ سے 24 گھنٹے قبل ایک دوسرے کو مطلع کریں تاہم کروز میزائل کے تجربات اس معاہدے میں نہیں آتے۔ دو دہائی قبل جب دونوں ملک سیکیورٹی کے طریقہ کار پر مذاکرات کر رہے تھے تو اس وقت میزائل کے تجربات کے معاملے پر بھارت نے کروز ٹیکنالوجی کو اس معاہدے میں لانے سے انکار کر دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ پاکستان کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں ہے۔
پاکستان اس ضمن میں اصرار کرتا رہا تاہم بھارت اس وجہ سے انکار کرتا رہا کہ جیسے ہی اس کے پاس یہ ٹیکنالوجی آ جائے گی ویسے ہی اسے تجربات کے لیے پاکستان پر بالادستی حاصل ہو جائے گی اور وہ کھل کر تجربات کر سکے گا۔ یہ بھارت کے لیے اچنبھے کی بات تھی کہ معاہدے کے دو ہفتوں کے بعد ہی پاکستان نے کروز میزائل کا تجربہ کیا۔
پاکستان کے سائنسدان اور ماہرین محدود وسائل کے باوجود اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس پر وہ یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں، رعد میزائل کے کامیاب تجربے پر صدر پاکستان ممنون حسین اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کامیاب تجربے کو سراہتے ہوئے سائنسدانوں اور انجینئرز کو ان کی اس شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔ پاکستان کے مشرقی اور شمال مغرب میں جو حالات ہیں، انھیں مدنظر رکھا جائے تو پاکستان کو دفاعی اعتبار سے انتہائی مضبوط ہونا چاہیے۔
بھارت جدید اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے، جب سے مودی سرکار برسراقتدار آئے ہیں، وہ بھارت میں دفاعی صنعت کو پروان چڑھانے کے مشن پر گامزن ہیں، ابھی حال ہی میں امریکا کے صدر بارک اوباما نے بھارت کا دورہ کیا ہے، اس دورے کے دوران امریکا اور بھارت کے درمیان خاصے اہم معاہدے بھی ہوئے ہیں، جن سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ بھی شامل ہے۔ بھارت روس اور یورپی ممالک سے بھی جدید اسلحہ خریدتا رہتا ہے ۔ اسرائیل سے بھی وہ دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کرتا رہتا ہے۔ ادھر شمالی مغرب میں پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری ہے۔
پاکستان کو دہشت گردی سے شدید خطرات لاحق ہیں،دہشت گرد جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور بے گناہ انسانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان کو دفاعی ٹیکنالوجی کے تمام شعبوں میں انتہائی ترقی یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ا سٹیلتھ ٹیکنالوجی کو میزائلوں کے علاوہ ہیلی کاپٹرز اور ہوائی جنگی طیاروں میں بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو ان کی اشد ضرورت ہے۔ڈرون ٹیکنالوجی بھی پاکستان کے لیے ضروری ہے، اسے اب جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔پاکستان اگر دہشت گردوں کے خلاف ڈرون طیارے خود استعمال کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ آج دنیا جس عہد میں داخل ہو گئی ہے، وہاں بڑی جنگوں کا امکان کم ہو گیا ہے۔
اب دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا دور ہے۔ دہشت گرد اچانک اور چھپ کر حملہ کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جہاں بہترین جاسوسی نیٹ ورک ضروری ہے وہاں چھوٹے لیکن جدید ترین ہتھیار انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لیے پاکستان کو جدید نوعیت کے پستول اور گنز کی بھی ضرورت ہے، اندھیرے میں دیکھنے والی عینکوں کی بھی ضرورت ہے لہٰذا پاکستان کو اس شعبے میں ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔ یہ پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔
اس کامیاب تجربے کے بعد میزائل ٹیکنالوجی میں پاکستان کو بھارت پر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق رعد میزائل کم اونچائی اور ناہموار علاقوں سے گزرتے ہوئے سمندر اور زمین دونوں میں ہدف کو سو فیصد درست نشانہ بناسکتا ہے۔ اس میزائل کو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے باعث ریڈار پر نہیں دیکھاجاسکتا اور نہ ہی اس کی آواز سنی جاسکتی ہے۔ رعد میزائل روایتی اور ایٹمی ہتھیار لیجانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ کروز ٹیکنالوجی انتہائی پیچیدہ ہے جسے دنیا کے چند ممالک نے حاصل کیا ہے۔
رعد میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کے دفاعی نظام میں نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان جس خطے میں واقعہ ہے، وہاں بھارت اور چین دو ایٹمی قوتیں ہیں اور دونوں اپنی دفاعی صلاحیت کو ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھا رہی ہیں۔ پاکستان بھی ایٹمی طاقت ہے، اس صورت حال میں پاکستان دفاعی اعتبار سے کسی کمی یا کوتاہی کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب کہ بھارت مسلسل اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے۔ بھارت میزائل بھی بنا رہا ہے تاہم کروز میزائل ٹیکنالوجی میں پاکستان اس سے برتر پوزیشن میں ہے جو یقیناً بڑی بات ہے۔ بابر میزائل (حتف 7) کے بعد پاکستان کی جانب سے تیار کیا جانے والا یہ نیا کروز میزائل ہے۔
پاکستان اور بھارت پر لازم ہے کہ وہ میزائل تجربہ سے 24 گھنٹے قبل ایک دوسرے کو مطلع کریں تاہم کروز میزائل کے تجربات اس معاہدے میں نہیں آتے۔ دو دہائی قبل جب دونوں ملک سیکیورٹی کے طریقہ کار پر مذاکرات کر رہے تھے تو اس وقت میزائل کے تجربات کے معاملے پر بھارت نے کروز ٹیکنالوجی کو اس معاہدے میں لانے سے انکار کر دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ پاکستان کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں ہے۔
پاکستان اس ضمن میں اصرار کرتا رہا تاہم بھارت اس وجہ سے انکار کرتا رہا کہ جیسے ہی اس کے پاس یہ ٹیکنالوجی آ جائے گی ویسے ہی اسے تجربات کے لیے پاکستان پر بالادستی حاصل ہو جائے گی اور وہ کھل کر تجربات کر سکے گا۔ یہ بھارت کے لیے اچنبھے کی بات تھی کہ معاہدے کے دو ہفتوں کے بعد ہی پاکستان نے کروز میزائل کا تجربہ کیا۔
پاکستان کے سائنسدان اور ماہرین محدود وسائل کے باوجود اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس پر وہ یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں، رعد میزائل کے کامیاب تجربے پر صدر پاکستان ممنون حسین اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کامیاب تجربے کو سراہتے ہوئے سائنسدانوں اور انجینئرز کو ان کی اس شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔ پاکستان کے مشرقی اور شمال مغرب میں جو حالات ہیں، انھیں مدنظر رکھا جائے تو پاکستان کو دفاعی اعتبار سے انتہائی مضبوط ہونا چاہیے۔
بھارت جدید اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے، جب سے مودی سرکار برسراقتدار آئے ہیں، وہ بھارت میں دفاعی صنعت کو پروان چڑھانے کے مشن پر گامزن ہیں، ابھی حال ہی میں امریکا کے صدر بارک اوباما نے بھارت کا دورہ کیا ہے، اس دورے کے دوران امریکا اور بھارت کے درمیان خاصے اہم معاہدے بھی ہوئے ہیں، جن سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ بھی شامل ہے۔ بھارت روس اور یورپی ممالک سے بھی جدید اسلحہ خریدتا رہتا ہے ۔ اسرائیل سے بھی وہ دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کرتا رہتا ہے۔ ادھر شمالی مغرب میں پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری ہے۔
پاکستان کو دہشت گردی سے شدید خطرات لاحق ہیں،دہشت گرد جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور بے گناہ انسانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان کو دفاعی ٹیکنالوجی کے تمام شعبوں میں انتہائی ترقی یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ا سٹیلتھ ٹیکنالوجی کو میزائلوں کے علاوہ ہیلی کاپٹرز اور ہوائی جنگی طیاروں میں بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو ان کی اشد ضرورت ہے۔ڈرون ٹیکنالوجی بھی پاکستان کے لیے ضروری ہے، اسے اب جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔پاکستان اگر دہشت گردوں کے خلاف ڈرون طیارے خود استعمال کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ آج دنیا جس عہد میں داخل ہو گئی ہے، وہاں بڑی جنگوں کا امکان کم ہو گیا ہے۔
اب دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا دور ہے۔ دہشت گرد اچانک اور چھپ کر حملہ کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جہاں بہترین جاسوسی نیٹ ورک ضروری ہے وہاں چھوٹے لیکن جدید ترین ہتھیار انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لیے پاکستان کو جدید نوعیت کے پستول اور گنز کی بھی ضرورت ہے، اندھیرے میں دیکھنے والی عینکوں کی بھی ضرورت ہے لہٰذا پاکستان کو اس شعبے میں ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔ یہ پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔