دہشت گردی کیسز اہم اقدامات

سندھ حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے مقدمات کی فوجی عدالتوں میں بھیجنے کا فیصلہ بر وقت ہے۔

انسانیت کے اصل مجرم اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے مکافات عمل کا مزہ چکھیں، تب ہی دہشت گردی کا عفریت دم توڑے گا اور عوام سکھ کا سانس لیں گے، فوٹو : اے پی پی

UMERKOT:
آئی جی پولیس سندھ غلام حیدر جمالی نے کہا کہ 315کیسز ملٹری کورٹس کو بھیجے جارہے ہیں جن میں سے 48کراچی،121سی آئی ڈی، 95شہید بے نظیر آباد، 17حیدرآباد، 26لاڑکانہ اور 8 سکرنڈ کے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ 10دن کے اندر دہشت گردی کے کیسز ملٹری کورٹس کو بھیج کر رپورٹ پیش کی جائے۔ آئی جی سندھ کے مطابق 57کیسز بشمول سی آئی ڈی کے چند کیسز فوجی عدالتوں میں بھیجنے کے لیے تیار ہیں ۔

ملک میں دہشت گردی کے عفریت کو روکنے کے لیے عوام انصاف کی عدم فراہمی اور دہشت گردوں کو سزا نہ ملنے یا ان کی رہائی اور ضمانت ہوجانے کے حوالہ سے کافی تحفظات کا شکار تھے، اب وہ مرحلہ آیا ہے جس میں فوجی عدالتوں کے ذریعے مجرم سزا پائیں گے اور عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوجائے گا۔ سندھ حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے مقدمات کی فوجی عدالتوں میں بھیجنے کا فیصلہ بر وقت ہے، اس سے وہ کنفیوژن دور ہوجائے گا کہ دہشت گردوں کو سزا دینے سے ریاستی مشینری تذبذب میں ہے ۔


تاہم دہشت گردوں کو سزا دلانے میں قانونی مراحل کی تکمیل اور مقدمات کی شفاف سکروٹنی کر کے باقی ماندہ کیسز بھی جلد بھیج دیے جانے کا عندیہ قانون کے تیزی سے حرکت میں آنے اور لاقانونیت اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا غیر متزلزل عزم دکھائی دیتا ہے جو ملکی بقا اورامن و امان کے مفاد میں ہے ۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی زیرصدارت پیر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں صوبے میں انسداد دہشت گردی فورس کے قیام، دہشت گردی کے خلاف مربوط کارروائی کے لیے3 زونل کمیٹیاں بنانے اور 10دن کے اندر دہشت گردی سے متعلق 57کیس فوجی عدالتوں کو بھیجنے کی منظوری دی ۔

کراچی کور کے بریگیڈیئر احسن گلزار نے صوبائی اپیکس کمیٹی کو پریزینٹیشن دیتے ہوئے بتایا کہ صوبائی ایکشن پلان کی ہدایات میں کالعدم تنظیموں، فرقہ ورانہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی، دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کے لیے مالی اعانت کو روکنا اور کاؤنٹر ٹیرر ازم فورس کی تشکیل شامل ہے۔گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جس فورس کے قیام کی بات کی ہے اور اس پر کور کمانڈر کراچی نوید مختار نے کہا ہے کہ وہ اہلکاروں کو تربیت فراہم کرنے پر تیار ہیں، ان کی اس پیشکش پر بھی فوری عمل درآمد ہونا چاہیے ، اسی طرح جو سرکاری اہلکار جعلی شناختی کارڈ کے اجرا میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ان کے مقدمات بھی ملٹری کورٹس کو بھیجے جائیں ۔ یہ اقدامات دیگر صوبوں کے لیے بھی نظیر ثابت ہوں گے جب کہ ملک میں دہشت گردوں کو عوام اپنے کیے کی سزا پاتے ہوئے بھی دیکھ سکیں گے۔ صوبہ سندھ نے محکمہ کاؤنٹر ٹیرر ازم کے قیام کی منظوری دے کر ایک احسن فیصلہ کیا ہے لیکن قانونی ماہرین کے اس نکتہ نظر کو ارباب اختیار مد نظر رکھیں کہ شفاف تفتیش اور ٹھوس شواہد کی عدالتوں میں فراہمی کلیدی شرط ہے، کسی مشتبہ فرد یا ملزم کا حق دفاع مجروح نہ ہو، مکمل کھلا انصاف ہو ، کیونکہ انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ انسانیت کے اصل مجرم اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے مکافات عمل کا مزہ چکھیں، تب ہی دہشت گردی کا عفریت دم توڑے گا اور عوام سکھ کا سانس لیں گے۔
Load Next Story