سندھ میں انتہاپسندی
علماء کے ذریعے مدارس میں کی جانے والی تدریس کے عمل کے مواد کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
tauceeph@gmail.com
سندھ پھر سوگوار ہے۔ مذہبی دہشت گردوں نے شکارپور کی 250 سالہ قدیم امام بارگاہ کو نشانہ بنایا، یوں چند لمحوں میں درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ شکارپور میں طبی سہولتوں کی کمی،گلیوں میں راستہ محدود ہونے اور ناقص سیکیورٹی انتظامات کی بناء پر 60 سے زائد افراد شہید اور بہت سے زخمی ہوئے۔ ہفتہ 31 جنوری کو کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں زندگی معطل رہی۔ جمعرات 29 جنوری کو ایم کیو ایم کے کارکن سہیل احمد کی مسخ شدہ لاش ملنے پر بھی کراچی شہر بند رہا۔
وزیراعظم میاں نواز شریف کراچی شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی کارکنوں کی لاشیں ملنے کا مسئلہ حل کرانے آئے۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو ایک دوسرے سے تعاون کی خواہش کا اظہار کر کے جب سندھ سے واپس گئے تو مذہبی دہشت گرد سندھ کے ایک بڑے شہر شکارپور کو نشانہ بنا چکے تھے۔ سندھ صوفیاء کی سرزمین ہے۔ عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام اور طرزِزندگی مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر شخص کو محبت کا پیغام دیتا ہے۔ ہر سندھی کے لیے شاہ لطیف کی شخصیت اور کلام سب سے اہم ہے۔ سندھ ہمیشہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی زمین رہا ہے۔
جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار سے سندھ میں مدرسوں کی سرپرستی شروع ہوئی۔ شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد اور سکھر وغیرہ میں انتہاپسندوں نے اپنی کمین گاہیں قائم کیں۔ مذہبی جماعتوں نے سندھ کے نوجوانوں کو افغانستان اور کشمیر میں جہاد کی تبلیغ کی، نوجوانوں کے چند گروہ افغانستان اور پھر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں لڑنے چلے گئے۔ ان میں سے کچھ وہاں مارے گئے جن کی میتیں ان کے آبائی علاقوں میں آئیں،انتہاپسندی کا نشانہ سب سے پہلے ہندو برادری بنی۔ ان کے مندروں پر حملے ہوئے اور ان کی مقدس کتابوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔
سندھ میں ہندو لڑکیوں کی جبری شادیوں کے مسائل سامنے آئے۔ انتخابات کے دوران ابراہیم جتوئی پر خودکش حملہ ہوا، گزشتہ سال 6ستمبر کو نیوی پر حملے میں بھی جیکب آباد کا ایک کا نوجوان ملوث تھا جو حملے میں مارا گیا۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہندوؤں کے ساتھ امتیازی پالیسی کی حمایت نہیں کی مگر پولیس اور عدالتوں نے ہندو برادری کے اعتراضات کے خاتمے کے لیے جامع فیصلے نہیں کیے۔ امن و امان کی مخدوش صورتحال نے ہندو برادری میں عدم اطمینان پیدا کیا، سیکڑوں خاندان بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ جو زیادہ دولت مند اور پروفیشنل تھے وہ یورپ، امریکا،کینیڈا،آسٹریلیا،ملائیشیا اور سنگاپور جیسے ممالک میں آباد ہوگئے ۔
نواب شاہ میں دو قادیانی قتل ہوگئے۔ شکارپور کے بارے میں خبریں شایع ہونے لگیں کہ وہاں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ شکارپور سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر ابراہیم جتوئی پر ہونے والے خودکش حملے کی واردات فرقہ وارانہ کارروائی قرار دی گئی۔ کچھ ماہرین کا اس وقت یہ خیال تھا کہ محرم الحرام کے مہینے میں صورتحال گرم ہوتی ہے، اس بناء پر شکارپور اور اطراف کے علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی ہے مگر اب جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے دوران کسی نوجوان کا خودکش جیکٹ پہن کر اپنے ساتھ بارودی مواد لا کر دھماکا کرنے سے واضح ہوگیا ہے کہ اب دہشت گرد مستقبل میں بھی اس طرح کی وارداتیں کریں گے۔
سندھ کو اس تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اندرونِ سندھ قائم ہونے والے مدارس کی مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر کیا جائے۔ ان مدارس کی انتظامی کمیٹیوں کو اعتماد میں لیا جائے اور انھیں اس نکتے پر عملدرآمد کے لیے تیار کیا جائے کہ مدارس میں محض عسکری تربیت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ان عناصر کا سدباب ضروری ہے جو معصوم نوجوانوں کو جنت کے جھوٹے فریب دے کر خودکش حملہ آور بننے پر تیار کرتے ہیں۔
علماء کے ذریعے مدارس میں کی جانے والی تدریس کے عمل کے مواد کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے اور ہر قسم کے انتہاپسندانہ مواد کی اشاعت اور اس جرم میں ملوث افراد کو سزاؤں کا نظام مؤثر ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ مدارس کی مانیٹرنگ اور انتہاپسند عناصر کو تنہا کرنے کا معاملہ تمام مکاتبِ فکرکے مدارس تک پھیلانا چاہیے، دوسرا معاملہ مذہبی عبادت گاہوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا ہے۔ پولیس حکام عبادت گاہوں پر چند پولیس والے کھڑے کر دیتے ہیں، جن شخصیتوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں انھیں پولیس موبائل فراہم کردی جاتی ہے مگر دہشت گردوں کو اسلحہ اور گولہ بارود جمع کرنے، شہر میں اسلحہ منتقل کرنے اور اس اسلحے اور بارودی مواد کو استعمال کرنے کی تربیت کے معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔
جدید ممالک،خاص طور پر امریکا اور یورپی ممالک میں اسلحے کی منتقلی،اس کاروبار میں ملوث اسمگلروں اورانتہاپسندوں کی کمین گاہوں کے خاتمے کے لیے سائنسی طریقہ کار پر عمل درآمد ہوتا ہے، اس طرح دہشت گرد اسلحہ بارود نہ ملنے پر محدود ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اپنے خیالات کسی دوسرے تک منتقل کرتے ہیں تو جدید آلات ان کا پتہ چلاتے ہیں۔ کیمروں کے سیکیورٹی نظام اورسراغ رسانی کے جدید طریقوں کو بروئے کار لا کرشہریوں کو تحفظ اورسکون کا احساس دلایا جاتا ہے۔ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد امریکی حکام نے اس جامع حکمت عملی کے ذریعے مستقبل میں ہونے والی دہشت گردی کے امکانات کو کم کیا۔ برطانیہ میں بم دھماکوں کے بعد بھی ایسا ہی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میںپولیس والے مسلح ہو کر ہر جگہ پہرا دیتے نظر نہیں آتے۔
گزشتہ ماہ نیشنل ایکشن پلان میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر اتفاقِ رائے ہوا تھا۔ پنجاب میں اس اعلان پر سنجیدگی سے عمل ہوا۔ بہت سا جنونی مواد ضبط ہوا، مساجد کے علماء کو لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور کالعدم تنظیموں کی مالیاتی امداد کی لائن کو ختم کرنے کے لیے دکانوں اور کیمپوں پر لگائے گئے چندہ باکس پولیس والے اٹھا کر لے گئے۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ مدارس کے معاملات پر بھی توجہ دی گئی مگر سندھ میں اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے کچھ نہیں ہوا۔ شکارپور میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد انتہائی ضروری ہے کہ سندھ کو غیر قانونی اسلحے سے پاک کرنے کے لیے مہم چلائی جائے۔
اس مہم میں پولیس، رینجرز، سول اور عسکری خفیہ ایجنسیاں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ صوبائی حکومت اس مہم کے لیے پولیس افسران کو مکمل طور پر بااختیار کرے، تمام سیاسی جماعتیں اس مہم کی حمایت کریں، انتہاپسند کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ان کے دفاتر کو سیل کیا گیا اور جن افراد پر فوجداری الزامات ہیں ان کو گرفتار کر کے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔ اس کے علاوہ وکیلوں، ججوں ،پولیس افسران اورگواہوں کے تحفظ کے لیے بھی جامع اقدامات کیے جائیں۔ چیف جسٹس انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی کارکردگی کی خود نگرانی کریں۔ سب سے بڑا معاملہ مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کا ہے۔
انتہاپسند مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کے لیے جدید تعلیمی اداروں اور مدارس کے نصاب کی تبدیلی، اساتذہ کی تربیت، دہشت گردی کے خلاف بیانیہ کو ذریع ابلاغ کے پیغام کا بنیادی حصہ بنا کر ہی مذہبی عبادت گاہوں اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ شہر میں دھرنے دے دے کر اور شہر بار بار بند کر کے اکثریتی فرقے کے انتہاپسندوں کو تقویت ملتی ہے۔ ان مظلوم لوگوں کو یہ بات کون سمجھا سکتا ہے؟
وزیراعظم میاں نواز شریف کراچی شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی کارکنوں کی لاشیں ملنے کا مسئلہ حل کرانے آئے۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو ایک دوسرے سے تعاون کی خواہش کا اظہار کر کے جب سندھ سے واپس گئے تو مذہبی دہشت گرد سندھ کے ایک بڑے شہر شکارپور کو نشانہ بنا چکے تھے۔ سندھ صوفیاء کی سرزمین ہے۔ عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام اور طرزِزندگی مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر شخص کو محبت کا پیغام دیتا ہے۔ ہر سندھی کے لیے شاہ لطیف کی شخصیت اور کلام سب سے اہم ہے۔ سندھ ہمیشہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی زمین رہا ہے۔
جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار سے سندھ میں مدرسوں کی سرپرستی شروع ہوئی۔ شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد اور سکھر وغیرہ میں انتہاپسندوں نے اپنی کمین گاہیں قائم کیں۔ مذہبی جماعتوں نے سندھ کے نوجوانوں کو افغانستان اور کشمیر میں جہاد کی تبلیغ کی، نوجوانوں کے چند گروہ افغانستان اور پھر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں لڑنے چلے گئے۔ ان میں سے کچھ وہاں مارے گئے جن کی میتیں ان کے آبائی علاقوں میں آئیں،انتہاپسندی کا نشانہ سب سے پہلے ہندو برادری بنی۔ ان کے مندروں پر حملے ہوئے اور ان کی مقدس کتابوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔
سندھ میں ہندو لڑکیوں کی جبری شادیوں کے مسائل سامنے آئے۔ انتخابات کے دوران ابراہیم جتوئی پر خودکش حملہ ہوا، گزشتہ سال 6ستمبر کو نیوی پر حملے میں بھی جیکب آباد کا ایک کا نوجوان ملوث تھا جو حملے میں مارا گیا۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہندوؤں کے ساتھ امتیازی پالیسی کی حمایت نہیں کی مگر پولیس اور عدالتوں نے ہندو برادری کے اعتراضات کے خاتمے کے لیے جامع فیصلے نہیں کیے۔ امن و امان کی مخدوش صورتحال نے ہندو برادری میں عدم اطمینان پیدا کیا، سیکڑوں خاندان بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ جو زیادہ دولت مند اور پروفیشنل تھے وہ یورپ، امریکا،کینیڈا،آسٹریلیا،ملائیشیا اور سنگاپور جیسے ممالک میں آباد ہوگئے ۔
نواب شاہ میں دو قادیانی قتل ہوگئے۔ شکارپور کے بارے میں خبریں شایع ہونے لگیں کہ وہاں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ شکارپور سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر ابراہیم جتوئی پر ہونے والے خودکش حملے کی واردات فرقہ وارانہ کارروائی قرار دی گئی۔ کچھ ماہرین کا اس وقت یہ خیال تھا کہ محرم الحرام کے مہینے میں صورتحال گرم ہوتی ہے، اس بناء پر شکارپور اور اطراف کے علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی ہے مگر اب جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے دوران کسی نوجوان کا خودکش جیکٹ پہن کر اپنے ساتھ بارودی مواد لا کر دھماکا کرنے سے واضح ہوگیا ہے کہ اب دہشت گرد مستقبل میں بھی اس طرح کی وارداتیں کریں گے۔
سندھ کو اس تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اندرونِ سندھ قائم ہونے والے مدارس کی مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر کیا جائے۔ ان مدارس کی انتظامی کمیٹیوں کو اعتماد میں لیا جائے اور انھیں اس نکتے پر عملدرآمد کے لیے تیار کیا جائے کہ مدارس میں محض عسکری تربیت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ان عناصر کا سدباب ضروری ہے جو معصوم نوجوانوں کو جنت کے جھوٹے فریب دے کر خودکش حملہ آور بننے پر تیار کرتے ہیں۔
علماء کے ذریعے مدارس میں کی جانے والی تدریس کے عمل کے مواد کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے اور ہر قسم کے انتہاپسندانہ مواد کی اشاعت اور اس جرم میں ملوث افراد کو سزاؤں کا نظام مؤثر ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ مدارس کی مانیٹرنگ اور انتہاپسند عناصر کو تنہا کرنے کا معاملہ تمام مکاتبِ فکرکے مدارس تک پھیلانا چاہیے، دوسرا معاملہ مذہبی عبادت گاہوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا ہے۔ پولیس حکام عبادت گاہوں پر چند پولیس والے کھڑے کر دیتے ہیں، جن شخصیتوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں انھیں پولیس موبائل فراہم کردی جاتی ہے مگر دہشت گردوں کو اسلحہ اور گولہ بارود جمع کرنے، شہر میں اسلحہ منتقل کرنے اور اس اسلحے اور بارودی مواد کو استعمال کرنے کی تربیت کے معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔
جدید ممالک،خاص طور پر امریکا اور یورپی ممالک میں اسلحے کی منتقلی،اس کاروبار میں ملوث اسمگلروں اورانتہاپسندوں کی کمین گاہوں کے خاتمے کے لیے سائنسی طریقہ کار پر عمل درآمد ہوتا ہے، اس طرح دہشت گرد اسلحہ بارود نہ ملنے پر محدود ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اپنے خیالات کسی دوسرے تک منتقل کرتے ہیں تو جدید آلات ان کا پتہ چلاتے ہیں۔ کیمروں کے سیکیورٹی نظام اورسراغ رسانی کے جدید طریقوں کو بروئے کار لا کرشہریوں کو تحفظ اورسکون کا احساس دلایا جاتا ہے۔ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد امریکی حکام نے اس جامع حکمت عملی کے ذریعے مستقبل میں ہونے والی دہشت گردی کے امکانات کو کم کیا۔ برطانیہ میں بم دھماکوں کے بعد بھی ایسا ہی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میںپولیس والے مسلح ہو کر ہر جگہ پہرا دیتے نظر نہیں آتے۔
گزشتہ ماہ نیشنل ایکشن پلان میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر اتفاقِ رائے ہوا تھا۔ پنجاب میں اس اعلان پر سنجیدگی سے عمل ہوا۔ بہت سا جنونی مواد ضبط ہوا، مساجد کے علماء کو لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور کالعدم تنظیموں کی مالیاتی امداد کی لائن کو ختم کرنے کے لیے دکانوں اور کیمپوں پر لگائے گئے چندہ باکس پولیس والے اٹھا کر لے گئے۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ مدارس کے معاملات پر بھی توجہ دی گئی مگر سندھ میں اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے کچھ نہیں ہوا۔ شکارپور میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد انتہائی ضروری ہے کہ سندھ کو غیر قانونی اسلحے سے پاک کرنے کے لیے مہم چلائی جائے۔
اس مہم میں پولیس، رینجرز، سول اور عسکری خفیہ ایجنسیاں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ صوبائی حکومت اس مہم کے لیے پولیس افسران کو مکمل طور پر بااختیار کرے، تمام سیاسی جماعتیں اس مہم کی حمایت کریں، انتہاپسند کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ان کے دفاتر کو سیل کیا گیا اور جن افراد پر فوجداری الزامات ہیں ان کو گرفتار کر کے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔ اس کے علاوہ وکیلوں، ججوں ،پولیس افسران اورگواہوں کے تحفظ کے لیے بھی جامع اقدامات کیے جائیں۔ چیف جسٹس انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی کارکردگی کی خود نگرانی کریں۔ سب سے بڑا معاملہ مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کا ہے۔
انتہاپسند مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کے لیے جدید تعلیمی اداروں اور مدارس کے نصاب کی تبدیلی، اساتذہ کی تربیت، دہشت گردی کے خلاف بیانیہ کو ذریع ابلاغ کے پیغام کا بنیادی حصہ بنا کر ہی مذہبی عبادت گاہوں اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ شہر میں دھرنے دے دے کر اور شہر بار بار بند کر کے اکثریتی فرقے کے انتہاپسندوں کو تقویت ملتی ہے۔ ان مظلوم لوگوں کو یہ بات کون سمجھا سکتا ہے؟