ورلڈ کپ کے لئے پاکستان کو جلد بہترین ٹیم الیون تشکیل دینا ہوگی گریم اسمتھ

سعید کی غیر موجودگی حریف ٹیموں کیلیے اطمینان کا باعث ہے، سابق جنوبی افریقی قائد

گرین شرٹس کے پاس 1992 کی طرح میچ کا پانسہ پلٹنے والے پلیئرز کی کمی ہے، راہول ڈریوڈ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
پاکستان کو جلد بہترین الیون تشکیل دینا ہوگی، شاہد آفریدی اہم مہرہ ثابت ہوسکتے ہیں، سعید اجمل کی عدم موجودگی پر حریف ٹیموں نے سکون کا سانس لیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ورلڈ کپ کیلیے ٹیموں کا جائزہ لینے والے گریم اسمتھ اور راہول ڈریوڈ نے کیا، میگا ایونٹ میں پاکستان کا ماضی شاندار رہا ہے، ٹیم نے 1992 میں چیمپئن بننے کے ساتھ 1999 میں رنر اپ اور چار مرتبہ سیمی فائنلز تک رسائی حاصل کی، اس مرتبہ گرین شرٹس کی پرفارمنس معیار سے کمتر دکھائی دے رہی ہے، سابق جنوبی افریقی کپتان گریم اسمتھ اور بھارتی راہول ڈریوڈ نے ٹیم کا تفصیلی جائزہ لیا، ڈریوڈ نے کہا کہ اس مرتبہ پاکستان کے پاس کھیل کا پانسہ پلٹنے والے پلیئرز کی کمی ہے۔


انھوں نے1992 سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ 23 برس پہلے بھی پاکستان کی شروعات مایوس کن تھی، ٹیم اسی طرح مسائل کا شکار تھی، اسکواڈ میں کئی نئے لڑکے شامل تھے لیکن وہ بعد میں عظیم کرکٹرز بنے، پاکستان اس مرتبہ بھی تاریخ دہرانے کی امید رکھ سکتا ہے، اسمتھ نے کہا کہ اس وقت ٹیم کا کپتان کرشماتی شخصیت کے حامل عمران خان تھے، اسی طرح فائنل میں وسیم اکرم کی تباہ کن بولنگ کو کون فراموش کرسکتا ہے، اس بار انھیں ایونٹ کے آغاز میں اپنی بہترین الیون کو چننا ہے۔

مصباح کی کپتانی پر ڈریوڈ نے کہا کہ انھیں ٹیم میں استحکام لانے پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، وہ اپنی بہترین کوشش کریں گے، اسمتھ نے کہا کہ مصباح انتہائی سنجیدہ اور بااصول شخص ہیں، فواد عالم کے اخراج پر ڈریوڈ نے کہا کہ ان کا ریکارڈ شاندار لیکن کچھ وجوہات کے سبب انھیں منتخب نہیں کیا گیا، شاہد آفریدی اس مرتبہ مختلف نظر آرہے ہیں، اسمتھ نے کہاکہ آفریدی پاکستان کا اہم مہرہ ثابت ہوسکتے ہیں، عمر اکمل کے بارے میں ڈریوڈ نے کہا کہ وہ رنز کی بھوک رکھتے اور نمبر 4 پر تواتر سے اچھا پرفارم کر سکتے ہیں، اسمتھ نے عمر کو اچھا اسٹروک پلیئر قرار دیا۔
Load Next Story