پہاڑسے پتھر پھینکنے کی مشقت نے سہیل کو پیسربنادیا
پٹھوں کی مضبوطی کیلیے تیرتے ہوئے دریااورندی نالے عبورکیے،راشد نے رہنمائی کی
پٹھوں کی مضبوطی کیلیے تیرتے ہوئے دریااورندی نالے عبورکیے،راشد نے رہنمائی کی ۔ فوٹو : فائل
پہاڑوں سے پتھر پھینکنے کی مشقت نے سہیل خان کو فاسٹ بولر بنا دیا، پٹھوں کی مضبوطی کیلیے تیرتے ہوئے دریا اور ندی نالے عبور کرتے رہے، سابق کپتان راشد لطیف نے صلاحیتیں نکھارنے کیلیے کام کیا۔
تفصیلات کے مطابق سہیل خان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ پرفارمنس کی بدولت اچانک ورلڈکپ اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا تھا، غیرملکی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مالاکنڈ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بولر کو اپنے علاقے میں کرکٹ کی بنیادی سہولیات ہی حاصل نہیں تھیں۔ انھوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنے شوق کو پروان چڑھایا اور قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
ایک انٹرویو میں پیسر نے بتایا کہ بچپن سے ہی کرکٹ میں نام کمانے کی دھن سر پر سوار تھی لیکن گراؤنڈز اور جم جیسی سہولیات میسر نہ تھیں، کسی نے مجھے بتایا کہ اگر میں زیادہ سے زیادہ فاصلے پر پتھر پھینکنے کی مشق کروں تو پٹھے فاسٹ بولنگ کیلیے موزوں بن جائیں گے، جسم کو مشقت کا عادی بنانے کیلیے دریاؤں اور ندی نالوں میں تیراکی بھی کرتا رہا، کسی رشتہ دار کے مشورے پر قسمت آزمانے کیلیے کراچی آیا جہاں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں شرکت کے بعد راشد لطیف کے محفوظ ہاتھوں میں آگیا، سابق کپتان نے میری صلاحیتیں نکھارنے کیلیے کام کیا۔ انھوں نے نئی گیند کے استعمال سمیت مختلف گُر سکھانے کیلیے بڑی رہنمائی کی، آج جو کچھ بھی ہوں راشد لطیف کی بدولت ہوں۔
یاد رہے کہ سہیل نے 2007میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کرتے ہوئے 65وکٹیں حاصل کی تھیں،اس دوران پیسر نے 8بار 5یا اس سے زائد شکار بھی کیے۔ انھوں نے ایک میچ میں 189رنز کے عوض 16وکٹوں کے ساتھ فضل محمود کا ریکارڈ بھی توڑا، سہیل خان کو اگلے ہی سال میں زمبابوے اور بنگلہ دیش کیخلاف سیریز کیلیے قومی اسکواڈ میں بھی شامل کیا گیا لیکن ان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی، انھوں نے 2011 تک 3 سال میں صرف 3ون ڈے، 2 ٹیسٹ اور3 ٹوئنٹی20 میچز کھیلے جس کے بعد اب دوبارہ گرین شرٹ زیب تن کرنے کا موقع ملا۔ سہیل نے کہاکہ اس دوران کبھی مایوس نہیں ہوا، محنت جاری رکھی، اب ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل ہوا توگہرا تاثر چھوڑنا چاہتا ہوں، کوشش ہوگی کہ تیز بولنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کیلیے زیادہ وکٹیں حاصل کروں۔
تفصیلات کے مطابق سہیل خان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ پرفارمنس کی بدولت اچانک ورلڈکپ اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا تھا، غیرملکی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مالاکنڈ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بولر کو اپنے علاقے میں کرکٹ کی بنیادی سہولیات ہی حاصل نہیں تھیں۔ انھوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنے شوق کو پروان چڑھایا اور قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
ایک انٹرویو میں پیسر نے بتایا کہ بچپن سے ہی کرکٹ میں نام کمانے کی دھن سر پر سوار تھی لیکن گراؤنڈز اور جم جیسی سہولیات میسر نہ تھیں، کسی نے مجھے بتایا کہ اگر میں زیادہ سے زیادہ فاصلے پر پتھر پھینکنے کی مشق کروں تو پٹھے فاسٹ بولنگ کیلیے موزوں بن جائیں گے، جسم کو مشقت کا عادی بنانے کیلیے دریاؤں اور ندی نالوں میں تیراکی بھی کرتا رہا، کسی رشتہ دار کے مشورے پر قسمت آزمانے کیلیے کراچی آیا جہاں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں شرکت کے بعد راشد لطیف کے محفوظ ہاتھوں میں آگیا، سابق کپتان نے میری صلاحیتیں نکھارنے کیلیے کام کیا۔ انھوں نے نئی گیند کے استعمال سمیت مختلف گُر سکھانے کیلیے بڑی رہنمائی کی، آج جو کچھ بھی ہوں راشد لطیف کی بدولت ہوں۔
یاد رہے کہ سہیل نے 2007میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کرتے ہوئے 65وکٹیں حاصل کی تھیں،اس دوران پیسر نے 8بار 5یا اس سے زائد شکار بھی کیے۔ انھوں نے ایک میچ میں 189رنز کے عوض 16وکٹوں کے ساتھ فضل محمود کا ریکارڈ بھی توڑا، سہیل خان کو اگلے ہی سال میں زمبابوے اور بنگلہ دیش کیخلاف سیریز کیلیے قومی اسکواڈ میں بھی شامل کیا گیا لیکن ان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی، انھوں نے 2011 تک 3 سال میں صرف 3ون ڈے، 2 ٹیسٹ اور3 ٹوئنٹی20 میچز کھیلے جس کے بعد اب دوبارہ گرین شرٹ زیب تن کرنے کا موقع ملا۔ سہیل نے کہاکہ اس دوران کبھی مایوس نہیں ہوا، محنت جاری رکھی، اب ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل ہوا توگہرا تاثر چھوڑنا چاہتا ہوں، کوشش ہوگی کہ تیز بولنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کیلیے زیادہ وکٹیں حاصل کروں۔