دہشت گردی کا انجام تک پہنچنا شرط
دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم بلاشبہ خوش آیند ہے
انتہا پسندوں کے خلاف پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی فیصلہ کیا گیا ہے، فوٹو: فائل
عسکری قیادت نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، پاک فوج اندرونی و بیرونی سلامتی کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس گزشتہ روز جی ایچ کیو میں منعقد ہوئی ۔
دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم بلاشبہ خوش آیند ہے۔ انتہا پسندوں کے خلاف پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی فیصلہ کیا گیا ہے جو ملکی سالمیت اور قومی بقا سے منسلک ہے، تاہم اس بات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن داخلی ہے ، باہر کا نہیں جب کہ عسکری ڈاکٹرائن اس ضمن میں واضح ہے کہ فاٹا میں پاک فوج ان دہشت گردوں سے بلا امتیاز نبرد آزما ہے۔
جن میں ملکی طالبان اور غیر ملکی نان اسٹیٹ ایکٹرز اور دہشت گرد تنظیموں کے مختلف گروپ عسکری فورسز کا نشانہ بن رہے ہیں مگر ایک زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ دوسری طرف شہروں میں دہشتگرد نیٹ ورکس کی جانب سے بم دھماکے ،خود کش حملے اور تخریب کاری روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی میں مصروف ہیں اور ضرورت ان تمام اداروں کے مابین مکمل اشتراک عمل، مربوط کریک ڈاؤن، اعلیٰ درجہ کی شفاف اور نتیجہ خیز انٹیلی جنس شیئرنگ اور بھرپور کامیاب پیشگی حملہ کی ہے، بہروپیا اور بے چہرہ دشمن اربن گوریلا وار پر مبنی طرز کی مزاحمانہ شورش کا تاثر دینا چاہتا ہے جسے ایک ناقابل تسخیر اور مضبوط کمان اینڈ کنٹرول کے ذریعے شکست دی جاسکتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ سی این این کی مشہور نامہ نگار کرسٹین امان پور کی پاک فوج کی آخری دہشت گرد تک سے نمٹنے کی صلاحیت کے سوال پر سرزنش کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ یہ توہین آمیز سوال ہے، اس کے بعد بھی عالمی میڈیا میں دانستہ طور پر اور بدنیتی کے ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے کے مسئلہ کو زیر بحث لایا جا رہا ہے، اس لیے آپریشن ضرب عضب کو ہر حال میں مثالی اور یادگار ہونا چاہیے تاکہ مخالفین اورپاکستان کے دشمنوں کے منہ بند ہوں۔ اپنے طرز اور حکمت عملی کے اعتبار سے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کاؤنٹر انسرجی کو بھی ملٹری ایکشن کے طور پر بروئے کار لارہے ہیں ۔
گذشتہ دنوں کراچی میں ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے بتایا گیا، اسی طرح اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے طالبان کمانڈرز اور دیگر تنظیموں کے جنگجو حراست میں لیے جا چکے ہیں، دہشت گردوں کو پہلی بار قانونی طریقوں اور عدالتوں کے توسط سے سر دار لٹکایا جارہا ہے، یہ عزم راسخ کا اعلان ہے۔
صدرمملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ آپریشن سے جلد ہی ملک بھر سے انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کا خاتمہ ہو جائے گا، صدر ممنون نے یہ بات قزاقستان کے لیے پاکستان کے نامزد سفیر عبدالسالک خان سے گفتگوکے دوران کی ۔ صدر نے کہا کہ قوم دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے یکسو ہے ۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد ملک میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے مواقع مزید بڑھیں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں پیشہ ورانہ امور کے ساتھ ساتھ شرکاء نے ملک کی داخلی و بیرونی سلامتی کی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
اجلاس میں عسکری قیادت کی زیادہ تر توجہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلقہ معاملات اور اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون اور روابط پر مرکوز رہی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان پر موثر عملدرآمد سے ہی دہشتگردی،انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کام ہونا چاہیے۔ عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملکی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ ایک اہم پیش رفت خیبر پختونخوا میں ہوئی ہے جہاں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں یہ دور رس فیصلہ کیا گیا کہ خودکش حملوں میں رجسٹرڈ کیسز پر کام کیا جائے گا اور خودکش حملوں میں ملوث افراد کی پہچان کی جائے گی اور واقعات میں ملوث افراد کے والدین اور سرپرستوں کو ذمے دار ٹھہرایا جائے گا جب کہ لاپتہ ہونیوالے افراد کو اگر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پایا گیا تو اس کے ذمے دار بھی والدین ہی ہونگے۔
گورنرخیبر پختونخوا کی زیر صدارت اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فوج اور دیگرحساس اداروں کی یونیفارم دکانوں پر بیچنے پر پابندی عائد کی جائے گی اور جن دکانوں کو این او سی جاری ہوئے ہیں وہ منسوخ کیے جائیں گے، مدارس کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں تمام مدارس کے سروے کیے جائیں گے اور جن مدارس کے تہہ خانے ہیں ان کو ختم کیا جائے گا۔ تاہم ان اعلانات کو شرمندہ تعبیر ہونا ابھی باقی ہے، ماضی کے تجربے کے پیش نظر اس بار کسی قسم کی کوتاہی مناسب نہیں۔ دہشت گردوں کی طرف سے حملوں کا امکان بھی ختم ہونا چاہیے،جیسا کہ کرم ایجنسی میں انتہا پسندوں نے مظاہرہ کیا جس میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں4 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے ۔ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی حکمت عملی قابل تعریف ہے، اوکاڑہ میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران بارود سے بھرا ٹرک پکڑ لیا ۔
جس سے 25من بارود برآمد کیا گیا۔ ڈرائیور سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ڈی پی او اوکاڑہ کے مطابق بارود دہشتگردی کی واردات میں استعمال ہونا تھا۔ یہ بھی بروقت اقدام ہے جس کے تحت محکمہ داخلہ پنجاب کی ہدایت پر چینی و دیگر غیر ملکی ماہرین کے زیر نگرانی جاری منصوبے اور بہاولپور میں قائداعظم سولر پارک کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اضافی پولیس نفری اور خصوصی یونٹ تعینات کردیے گئے ہیں ، فیصلوں کی روشنی میں پنجاب کانسٹیبلری سمیت راولپنڈی اور چکوال سے ڈیڑھ سو سے زائد پولیس عملے کو وہاں پہنچا دیا گیا ۔ امید کی جانی چاہیے کہ کوئی ایسا خلا باقی نہیں رہنے دیا جائے گا اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کو اس کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گی۔
دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم بلاشبہ خوش آیند ہے۔ انتہا پسندوں کے خلاف پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی فیصلہ کیا گیا ہے جو ملکی سالمیت اور قومی بقا سے منسلک ہے، تاہم اس بات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن داخلی ہے ، باہر کا نہیں جب کہ عسکری ڈاکٹرائن اس ضمن میں واضح ہے کہ فاٹا میں پاک فوج ان دہشت گردوں سے بلا امتیاز نبرد آزما ہے۔
جن میں ملکی طالبان اور غیر ملکی نان اسٹیٹ ایکٹرز اور دہشت گرد تنظیموں کے مختلف گروپ عسکری فورسز کا نشانہ بن رہے ہیں مگر ایک زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ دوسری طرف شہروں میں دہشتگرد نیٹ ورکس کی جانب سے بم دھماکے ،خود کش حملے اور تخریب کاری روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی میں مصروف ہیں اور ضرورت ان تمام اداروں کے مابین مکمل اشتراک عمل، مربوط کریک ڈاؤن، اعلیٰ درجہ کی شفاف اور نتیجہ خیز انٹیلی جنس شیئرنگ اور بھرپور کامیاب پیشگی حملہ کی ہے، بہروپیا اور بے چہرہ دشمن اربن گوریلا وار پر مبنی طرز کی مزاحمانہ شورش کا تاثر دینا چاہتا ہے جسے ایک ناقابل تسخیر اور مضبوط کمان اینڈ کنٹرول کے ذریعے شکست دی جاسکتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ سی این این کی مشہور نامہ نگار کرسٹین امان پور کی پاک فوج کی آخری دہشت گرد تک سے نمٹنے کی صلاحیت کے سوال پر سرزنش کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ یہ توہین آمیز سوال ہے، اس کے بعد بھی عالمی میڈیا میں دانستہ طور پر اور بدنیتی کے ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے کے مسئلہ کو زیر بحث لایا جا رہا ہے، اس لیے آپریشن ضرب عضب کو ہر حال میں مثالی اور یادگار ہونا چاہیے تاکہ مخالفین اورپاکستان کے دشمنوں کے منہ بند ہوں۔ اپنے طرز اور حکمت عملی کے اعتبار سے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کاؤنٹر انسرجی کو بھی ملٹری ایکشن کے طور پر بروئے کار لارہے ہیں ۔
گذشتہ دنوں کراچی میں ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے بتایا گیا، اسی طرح اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے طالبان کمانڈرز اور دیگر تنظیموں کے جنگجو حراست میں لیے جا چکے ہیں، دہشت گردوں کو پہلی بار قانونی طریقوں اور عدالتوں کے توسط سے سر دار لٹکایا جارہا ہے، یہ عزم راسخ کا اعلان ہے۔
صدرمملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ آپریشن سے جلد ہی ملک بھر سے انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کا خاتمہ ہو جائے گا، صدر ممنون نے یہ بات قزاقستان کے لیے پاکستان کے نامزد سفیر عبدالسالک خان سے گفتگوکے دوران کی ۔ صدر نے کہا کہ قوم دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے یکسو ہے ۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد ملک میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے مواقع مزید بڑھیں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں پیشہ ورانہ امور کے ساتھ ساتھ شرکاء نے ملک کی داخلی و بیرونی سلامتی کی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
اجلاس میں عسکری قیادت کی زیادہ تر توجہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلقہ معاملات اور اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون اور روابط پر مرکوز رہی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان پر موثر عملدرآمد سے ہی دہشتگردی،انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کام ہونا چاہیے۔ عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملکی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ ایک اہم پیش رفت خیبر پختونخوا میں ہوئی ہے جہاں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں یہ دور رس فیصلہ کیا گیا کہ خودکش حملوں میں رجسٹرڈ کیسز پر کام کیا جائے گا اور خودکش حملوں میں ملوث افراد کی پہچان کی جائے گی اور واقعات میں ملوث افراد کے والدین اور سرپرستوں کو ذمے دار ٹھہرایا جائے گا جب کہ لاپتہ ہونیوالے افراد کو اگر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پایا گیا تو اس کے ذمے دار بھی والدین ہی ہونگے۔
گورنرخیبر پختونخوا کی زیر صدارت اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فوج اور دیگرحساس اداروں کی یونیفارم دکانوں پر بیچنے پر پابندی عائد کی جائے گی اور جن دکانوں کو این او سی جاری ہوئے ہیں وہ منسوخ کیے جائیں گے، مدارس کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں تمام مدارس کے سروے کیے جائیں گے اور جن مدارس کے تہہ خانے ہیں ان کو ختم کیا جائے گا۔ تاہم ان اعلانات کو شرمندہ تعبیر ہونا ابھی باقی ہے، ماضی کے تجربے کے پیش نظر اس بار کسی قسم کی کوتاہی مناسب نہیں۔ دہشت گردوں کی طرف سے حملوں کا امکان بھی ختم ہونا چاہیے،جیسا کہ کرم ایجنسی میں انتہا پسندوں نے مظاہرہ کیا جس میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں4 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے ۔ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی حکمت عملی قابل تعریف ہے، اوکاڑہ میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران بارود سے بھرا ٹرک پکڑ لیا ۔
جس سے 25من بارود برآمد کیا گیا۔ ڈرائیور سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ڈی پی او اوکاڑہ کے مطابق بارود دہشتگردی کی واردات میں استعمال ہونا تھا۔ یہ بھی بروقت اقدام ہے جس کے تحت محکمہ داخلہ پنجاب کی ہدایت پر چینی و دیگر غیر ملکی ماہرین کے زیر نگرانی جاری منصوبے اور بہاولپور میں قائداعظم سولر پارک کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اضافی پولیس نفری اور خصوصی یونٹ تعینات کردیے گئے ہیں ، فیصلوں کی روشنی میں پنجاب کانسٹیبلری سمیت راولپنڈی اور چکوال سے ڈیڑھ سو سے زائد پولیس عملے کو وہاں پہنچا دیا گیا ۔ امید کی جانی چاہیے کہ کوئی ایسا خلا باقی نہیں رہنے دیا جائے گا اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کو اس کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گی۔